جب آگ لگتی ہے تو فوراً بارش نہیں ہوتی۔۔۔!!

تحریر:عرفان مصطفی صحرائی۔۔۔
آج پاکستان میں جوکچھ ہو رہا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے ۔اس سے عوام و خواص نہ صرف پریشان ہیں بلکہ خطرات اور مشکلات تلے پستے جا رہے ہیں ۔کہتے ہیںکہ جب آگ لگتی ہے تو فوراً بارش نہیں ہوتی۔حکمران ابھی تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہے اورتواتر سے عوام کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اپنی نا اہلی کو چھپانے کے لئے اپوزیشن کے ساتھ جانبداری کا سلوک کیا جا رہا ہے،وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔انہی حکومتی کمزوریوں سے ملک اور عوام کا نقصان ہو رہا ہے ۔ملک عرصے سے اندرونی طور پر بہت سے مسائل سے دوچار ہے ،مگر اب بیرونی خطرات انتہائی گمبھیرہوچکے ہیں ۔ہمارا سب سے بڑا دشمن بھارت ایک شاطر ملک ہے ،وہاں دوسری بار سفاک اور درندہ صفت قیادت مودی اقتدار میں ہے،جس کے لئے پاکستان کی قیادت دعائیں مانگتی رہی ہے کہ وہ دوبارہ بھارت کی حکومت سنبھالے۔یہ وہ شخص ہے ، جس نے اپنی زندگی میں ظلم و ستم کی داستانیں رقم کی ہیں۔وہ نہ صرف پاکستان بلکہ امّتِ مسّلمہ کا بھی درینہ دشمن ہے ،مگر یہی ہزاروں مسلمانوں کا قاتل اور موجودہ دور کا ہٹلر مودی جب متحدہ عرب امارات کا دورہ کرتا ہے تو ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید النیہان مودی کو اپنا بھائی کہتے ہیں اوراس کے دورے کو اپنے اوپربہت بڑا احسان کہا جاتا ہے ،اس کے دوسری مرتبہ دورے پر تشکرو ممنونیت کا اظہار بھی ہوتا ہے ۔اعلیٰ ترین اعزاز’’آرڈر آف زائد‘‘سے بھی نوازاجاتا ہے۔یہ سب اس لئے کیونکہ بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سالانہ باہمی تجارت 60ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے ۔اب یو اے ای 75ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہندوستان میں کرنے جا رہا ہے ۔مودی نے یو اے ای میں روپے کارڈ کا اجرا کیا ۔یعنی ڈیجیٹل پیمنٹ کارڈ سے ہندوستانی نظام کو اپنایا گیا ہے۔ایک طرف مودی کشمیریوں پر ظلم اور بربریت کی داستانیں رقم کر رہا ہے اور دوسری جانب امّت مسّلمہ کے رہنما اسے گلے لگا رہے ہیں ،مگر انہیں کسی قسم کی شرم نہیں آتی۔لیکن ہمارے حکمران انہی ولی عہدوں کے ڈرائیور بھی بن جاتے ہیں ،مگر انہیں وہ کوئی گھاس نہیں ڈالتے ۔ اب دنیا میں تمام نظریات ختم اور مفادات کی دوڑ ہے ۔پاکستان مفادات اور نہ ہی ترقی کی دوڑ میں ہے ۔یہ شارٹ کٹ اور منافقت میں پھنسا ملک بن چکا ہے ۔
یہ سب کیا ہے ۔۔؟یہ وہی سازش ہے جس کی وجہ سے بیرونی دشمنوں نے پاکستان کو کمزور کر کے رکھ دیا ہے ۔آصف علی زرداری کے دور حکومت میں فیصلہ کیا گیا کہ امریکہ سے جان چھڑائی جائے ۔اپنے ہمسایہ اور قریبی بڑے ممالک سے تعاون بڑھایا جائے ۔اسی لئے زرداری حکومت نے روس کے ساتھ تعلقات بڑھائے ۔میاں محمد نواز شریف کی حکومت میں روس کے ساتھ دو طرفہ تعلقات نہ صرف مستحکم ہوئے بلکہ بہت زیادہ مضبوط ہو گئے ۔اس کے ساتھ ساتھ چین کے مابین ایک نئی توانائی کے ساتھ سامنے آئے اور سی پیک کا منصوبہ شروع ہوا جو بہت تیزی کے ساتھ کامیابی کی طرف جا رہا تھا کہ بیرونی سازشوں نے سر اٹھایا اور پاکستان کو اپنوں کے ذریعے سے پستیوں کی جانب دھکیل دیا۔آج دیکھ لیں ،وہ بیرونی ممالک جو سی پیک سے نا خوش تھے ان کے ہمارے ہی حکمرانوں کے ساتھ دوستانہ مراسم ہیں ۔اسی سازش کا حصہ مودی جو نہ صرف سفاک بلکہ ظالم ترین انسان ہے، جسے دنیا میں بڑے ممالک جو اپنے آپ کو انسانیت کا علمبردار کہتے ہیں،اسے گلے لگا رکھا ہے ۔مودی جس نے لاکھوں کشمیریوں کو قید میں بند کر کے ان کے کھانے پینے اور تمام تر بنیادی ضروریات کو بند کر دیا ہے ۔وہ انہیںگولیوں سے نہیں ظلم اور جبر سہتے موت کے منہ میں دھکیلنا چاہتا ہے ،مگر ہمارے مسلم اور دیگر ممالک بے حسی کی تصویر بنے نظر آ رہے ہیں ۔ان کی بے شرمی نے انتہا کو چھو لیا ہے ۔کشمیریوں کی تیسری نسل ہے جو اپنی آزادی کے لئے لڑ رہی ہے ۔کوئی ایسا گھر نہیں جہاں آزادی کے لئے لاشیں نہ اٹھائی گئی ہوں ،جہاں ان کی عزتوں سے نہ کھیلا گیا ہو،جہاں سے شہید ہوتے بچوں کی چیخیں نہ اٹھ رہی ہوں ،مگر بے شرمی کی انتہا ہے کہ اس ظالم کو مسلم ممالک کے سربراہ بھائی بھی کہتے ہیں اور اعلیٰ ایوارڈ سے بھی نوازتے ہیں اور اس کے ملک میں 75ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کر رہے ہیں ۔دنیا میں مودی ہمارا مذاق اڑاتا ہے کہ میں تو پاکستان سے بات کرنا چاہتا ہوں مگر مجھے خبر نہیں کہ بات کس سے کی جائے ۔یعنی وہاں حکومت کس کی ہے ؟فوج ،آئی ایس آئی یا سولین کی؟
مودی نے تو یہ پاکستان کا مذاق اڑانے کی کوشش کی ۔لیکن حقیقت میں یہی پاکستان کی بڑی کمزوری ہے۔کیونکہ یہاں پارلیمنٹ کی اعلیٰ حیثیت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔اداروں کی حکومتی معاملات میں بے جا مداخلت نے حالات اس قدر خراب کر دیئے ہیں کہ موجودہ حکومت کو سال ہو چکا،ملک منجمند ہو کر رہ گیا ہے ۔کسی جگہ کوئی کام نہیں ہو رہا۔سب ہاتھ پر ہاتھ رکھے حکومت کی تبدیلی کا انتظار کر رہے ہیں ۔کیونکہ انہیں یقین ہے کہ یہ حکمران لائے گئے ہیں ۔ان کا مقصد ملک و قوم کی فلاح و بہبود اور ترقی نہیں بلکہ اپنے چند ایجنڈے پورے کرنا ہیں ۔جیسے ہی وہ ایجنڈے پورے ہوں گے وہ اپنا حصہ ڈال کر آگے نکل جائیں گے ۔لیکن ملک کو نا قابل تلافی نقصان کا سامنا ہو گا۔چناں چہ ہمیں اپنی غلطیوں کو مانتے ہوئے ان کی اصلاح کرنا ہو گی۔ہمیں دنیا کو باور کروانا ہے کہ پوری قوم ایک پیج پر ہے ۔ہمارے ملک میں جمہوری نظام فائض ہے ۔عوامی حکومت میں پارلیمنٹ اعلیٰ ترین ادارہ ہوتا ہے ۔جہاں پر عوامی امنگوں کے مطابق فیصلے کئے جاتے ہیں ۔اگر ایسا ہو جاتا ہے تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہر پاکستانی کا دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتا ہے ۔ہر پاکستانی مسلمان کشمیروں کے ساتھ مل کر ان کی آزادی کے لئے جہاد کرنا چاہتا ہے اور اس میں شہادت کا رتبہ ملنے پر فخر محسوس کرتا ہے ۔لیکن حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے حالات اس نہج تک پہنچے ہیں ۔ورنہ مودی کو جرأت نہ ہوتی کہ کشمیر پر جابرانہ قبضہ کر سکتا۔آج بھی حکمران مسئلہ کشمیر کو لے کر سنجیدہ نہیں ہیں ۔کشمیر مسئلے کی ٹیوٹر اور میڈیا پر جنگ لڑی جارہی ہے جبکہ بھارت نے اپنے تمام چینلز پر کام تیزی سے شروع کیا ہوا ہے ۔وہ سرِ عام ہمیں ایٹمی دھماکے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ایسی جرأت پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ملکی ترقی اور خوشحالی کے لئے بھی انتھک محنت کر رہاہے ۔جب شاطر دشمن سے واسطہ پڑے تو اسے چال سے ہی مات دی جا سکتی ہے ۔لیکن اس کے لئے ذہین اور مدبر قیادت کی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔جو ہمارے پاس موجود نہیں ہے ۔بدقسمتی ہے کہ پاکستان میں کھلنڈروں کا ٹولہحکمران بنا کر بٹھا دیا ہے ۔پوری دنیا واہ ویلہ کر رہی ہے کہ یہ جمہوری حکومت سلیکٹڈ ہے ۔لیکن حکومت با ضد ہے کہ ہم الیکٹڈ ہیں۔حالانکہ حقیقت سے پوری دنیا واقف ہے۔
پاکستان کے مسائل کا حل صرف جمہوری نظام میں ہے ۔لیکن اس کے لئے ملک میں ایک صاف شفاف الیکشن کی ضرورت ہے ،جو متنازیہ نہ ہو۔اس الیکشن کے نتیجے میں جو بھی قیادت سامنے آئے گی،وہ باوقار اور معتبر ہو گی ۔ورنہ یو ٹرن ،وعدہ خلاف اور جھوٹ سے بھر پور،ایمپائر کی انگلی سے آنے والی قیادتیں عوام کا مذاق اڑاتی رہیں گی ۔ان سے کشمیراور ملکی ترقی کے مسائل کے حل کی امید کرنا بہت دور کی بات ہے حزب اختلاف کے ساتھ اختلاف کو دور کرنے کی اوقات نہیں ہے۔یو ٹرن جھوٹ بولنے اور اپنی بات سے اجتناب کرنے کا دوسرا نام ہے ،جھوٹا شخص صادق وامین کیسے ہو سکتا ہے ۔۔؟اس کا فیصلہ عوام کو خود کرنا ہے ۔حکمران طبقے کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جب آگ لگتی ہے تو فوراً بارش نہیں ہوتی ۔وقت تبدیل ہوتے اندازہ بھی نہیں ہوتا۔دوسروں کو تبدیل کرنے کی بجائے اپنی کمزوریوں کی جانب غور کرنا چاہیے ،جس سے ملک و قوم اور ان کی بھی بقاہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.