مدینے کا بابا (پارٹ 01)

68

تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی۔۔۔
بابا جی میرا نام دعا ہے اور میں مدینہ شریف سے آپ سے ملنے کے لیے آئی ہوں ‘میرے سامنے جوان سمارٹ طویل قامت خوبصورت ترین لڑکی چادر میں لپٹی سر جھکائے کھڑی تھی تا کہ میں اُس کے سر پر ہاتھ پھیر کر دعا دے سکوں ‘ مدینہ شریف کا نام آتے ہی مجھے خوشگوار حیرت اور ایمانی حرارت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا میری سستی چُستی میں بدلتی چلی گئی خو شگوار حیرت سے پھیلی آنکھوں سے سامنے کھڑی پیکر جمال کو دیکھا خوبصورت دلکشی اُس پر موسلا دھار بارش کی طرح برسی تھی وہ سر سے پائوں تک حسن و رعنائی کا دلکش ترین مجسمہ تھی ‘ روحانیت اور نورانی ایمانی نور کی کرنیں اُس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھیں ‘ اوپر سے روحانیت کے تڑکے نے اُس کے دل کش ترین نقش و نگار کو پاکیزگی کی تہہ میں لپیٹ اور بھی خوبصورت بنا دیا تھا میں سحر انگیز ہو کر اُس کی طرف دیکھنے لگا تو پاکیزگی اور ایمانی جذبوں میں لپٹی اُس کی شیریں آواز ماحول کو سحر انگیز بنا نے لگی ‘ بابا جی میںدنیاوی کسی مقصد کے لیے آپ کے پاس نہیں آئی میں صرف اور صرف خدا کی تلاش خدا کی رضا کے لیے آپ کے پاس آئی ہوں یہ دنیا چند دن کی ہے جو گزر ہی جائے گی میری کھوج تلاش جستجو صرف اور صرف خدا کی ذات ہے میں اُس ذات پیکراں کے سمندر تک رسائی چاہتی ہوں ‘رنگ الٰہی میں خود کو رنگنا چاہتی ہوں قطرہ عشق الٰہی سے صدیوں کی پیاسی اپنی روح اور جسم کی پیاس بجھا نا چاہتی ہوں میرے جسم کا انگ انگ قرب الٰہی کی تپش میں جھلستے سلگتے ریگستان کی طرح جھلس رہا ہے کیا عشق الٰہی قرب الٰہی کی برسات میرے قلب و روح کو سیراب کر سکتی ہے ۔ میری ساری بھاگ دوڑ تلاش صرف اور صرف رب کائنات کی ذات ہے مجھ جنموں کی پیاسی کو عشق الٰہی قر ب الٰہی کے سمندرتک راہنمائی کردیں اگر مجھے قرب الٰہی کے جام کا ایک قطرہ بھی مل گیا تو میں سمجھوں گی جنت کو زمین پر پالیا میرے لیے ایک قطرہ ہی سمندر ہوگا میری تلاش کی منزل ہو گا ‘ میرے سامنے جوان خوبصورت لڑکی خدا کے ہجر تلاش کی باتیں کر رہی تھی تو مجھے اپنا روگ یاد آگیا میں خود بھی تو اِس کھوج میں برسوں صحرا گر دی کر تا رہا تھا میں نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیر کر دعا دی اور بولا نیک بیٹی تم بیٹھ جائو میرے بس میں جو ہو گا میں تمہاری راہنمائی کر نے کی پو ری کو شش کروں گا تو چادر میں لپٹی بیٹی میرے سامنے بیٹھ گئی مادیت پرستی اور خود پرستی میں غرق انسانوں سے تو روزانہ ہی ملا قات ہو تی ہے عرصے بعد مادی جانوروں کے درمیان جب کو ئی قرب الٰہی کی تپش میں حرارت زدہ آتا ہے تو اُس کی کھوج کی حرارت سے خاص قسم کی آسودگی اور اطمینان کی حرارت کو محسوس کر رہا تھا مجھے اچھا لگ رہا تھا کوئی خدا کی تلاش میں میرے پاس آیا میں شفقت سے لبریز لہجے میںبولا بیٹی مجھے بہت زیادہ خوشی ہے کہ تمہیں اللہ تعالی نے اپنے عشق کے لیے چُنا ہے تم جس ہجر روگ تلاش کی حرارت میں پگھل رہی ہوتو مقدر والوں کے نصیب میں آتی ہے میری بات سن کر اُس کی آنکھوں کے کنارے باطنی کرب سے چھلکنے لگے ، بیٹی اگر خدا تمہیں ہجر کی آگ میںجھلساتا تو تم بھی مادی جانوروں کی طرح کھایا پینا افزائش نسل کا حصہ بن کر مٹی کے ڈھیرمیں تبدیل ہو جاتی تم تو مقدر والی ہو جو عشق کی آگ میں جھلس رہی تو وہ بولی بابا جی لیکن دنیا والے میرے اِس روگ تلاش کو نہیں سمجھتے وہ مجھے پاگل نفسیاتی مریضہ قرار دیتے ہیں ۔ بابا جی میرا وجود بنا ہی خدا کے عشق کے لیے ہے دنیا داری مُجھ سے نہیں ہوتی میں دنیا داری کے کاموں میں مکمل طور پر ان فٹ ہوں اور نہ ہی میرا دل لگتا ہے دنیا داری کے کاموں میں دنیا نے مجھے بہت زیادہ اذیتیں دی ہیں تڑپا یا ہے رلایا ہے یہ دنیا والے میرے ہجر روگ تلاش کو نہیں سمجھتے اِس لیے میں یہ ملک چھوڑ کر سعودی عرب مدینہ شریف چلی گئی تھی میں مقدس نظروں سے اُسے دیکھ رہا تھا اور بولا بیٹی مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ تم خدا کے قرب کے لیے میرے پاس آئی ہو یہ روگ تلاش کیسے شروع ہو ئی باطن میں دبی چنگاری آگ کا بھانبھڑ کیسے بنی حق تعالی تم پر کیسے مہربان ہو ئے تو وہ بولی بابا جی میری پیدائش فیصل آباد کے قریب گائوں میںہو ئی ۔ بچپن میں ہی باپ کا سایا سر سے اُٹھ گیا تو نانا جی کے گھر والدہ کے ساتھ آگئی ابھی دس سال کی ہو ئی تو ماں بھی بے رحم زمانے کے رحم و کرم پر چھوڑ کر خالق حقیقی سے جاملیں اب غم دکھ جدائی کی امر بیل نے مجھے ڈسنا شروع کر دیا غم میرے اندر اترتا چلا گیا اداسی نے میری روح کو تڑپا کر رکھ دیا تو میں نے نماز میں پناہ ڈھونڈی میں ساری ساری رات نماز نوافل قرآن مجید کی تلاوت کرتی میری والدہ کے بعد اب میری خالہ میری دیکھ بھال کر تی تھیں وہ صوفی برکت علی صاحب ؒ کے دربار پر ریگولر جایا کرتی تھیں اُن کے ساتھ میںبھی صوفی برکت علی صاحب ؒ کے آستانے پر جاتی تومجھے بہت زیادہ سکون ملتا اب میری عقیدت صوفی صاحب کے آستانے سے جنون کی حد تک ہو گئی تھی وہاں جاکر گھنٹوں بیٹھا کر تی اگر خالہ کبھی جانے میں دیر کر دیتی تو میں رو رو کر آستانے پر جانے کی ضد کرتی آخر کار میری ضد کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ مجھے صوفی صاحب ؒ کے آستا نے پر لے جاتی اِس دورا ن میں سالوں کی منزلیں بھی طے کر تی چلی گئی جوانی کے آنگن میں قدم رکھا تو میری خوبصورتی کے چرچے پو رے خاندان میں ہو نے لگے میں اچھی طالبہ تھی ڈاکٹر بننا چاہتی تھی لیکن میرٹ پر نہ آسکی تو نرسنگ میں داخلہ لے لیا میری خوبصورتی کی وجہ سے ہر کوئی مجھ سے شادی کر نا چاہتا تھا لیکن میرے تایا کا بیٹا جو بہت بڑے زمیندار کا بیٹا بھی تھا اُس نے اعلان کیا کہ وہ مُجھ سے شادی کر ے گا اُس کے اعلان کے بعد باقی امیداوار خود ہی پیچھے ہٹ گئے وہ پیار کے بہت دعوے کر تا لیکن میرے دل میں اُس کے لیے بال برابر بھی محبت نہیں تھی بلکہ کسی کے لیے بھی نہیں تھی میں دن رات روتی رہتی ‘صوفی برکت علی صاحب ؒکی کتابیں پڑھنے کے بعد تصوف اور روحانی بابوں کی باقی کتابیں دن رات پڑھتی جہاں بھی کوئی مزار دربار آستانہ یا نیک زندہ بزرگ ہو تا اُس سے ملنے چلی جاتی جاکر اپنا حال دل بتا تی لیکن دکھ اُس وقت بہت زیادہ ہو تا جب کسی زندہ اہل روحانیت کے دعوے دار کے پاس جاتی تو وہ چند دن بعد ہی خود میرے اوپر عاشق ہو جاتا اور الٹی سیدھی باتیں شروع کر دیتا نرسنگ پاس کی تو میری شادی میرے کزن کے ساتھ کر دی گئی وہ دنیا دار شرابی زانی تھا میں عبادت گزار راتوں کو نوافل عبادت میں وقت گزارنے والی وہ رات کو جب شراب کے نشے میں دھت گھر آتا تو میں اُس کے پاس بیٹھنے سے انکار کر دیتی تو وہ مجھے وحشیانہ طریقوں سے مارتا تشدد کر تا‘ بہن بھائی ماں باپ تھے نہیں ہر کوئی مجھے ہی قصور وار ٹہراتا کہ تم اپنے خاوند کی ہر جائز ناجائز بات مانوں لیکن میں کیا کر تی میں چوبیس گھنٹے وضو میں رہنے کی کو شش کر تی خاوند دن رات نشے میں دھت رہتا ایک سال تک تو میں شرابی خاوند کا تشدد برداشت کر تی رہتی لیکن جب اُس کی سزا میں میری برداشت سے باہر ہو گئیں تو میں نے لاہور جاکر این جی او میں پناہ لے لی پھر اُس این جی او کی مدد سے خلع بھی لے لی اور ساری عمر کے لیے شادی سے تو بہ بھی کی نرسنگ کا کورس کیا ہوا تھا این جی او والوں کی مدد سے جلد ہی سرکاری ہسپتال میں نو کری مل گی اب میں خوش تھی کہ یہاں پر آزادی سے نوکری اور مریضوں کی مدد کیا کروں گی لیکن میری خوشی کے یہ دن بہت تھوڑے تھے جو بھی ڈاکٹر مجھے دیکھتا میرے حسن پر عاشق ہو کر ڈورے ڈالنا شروع کر دیتا میرے انکار پر مجھے تنگ کر نا شروع کر دیا ڈیوٹی سخت لگانی شروع کر دی میں زندگی کے دن پو رے کر نے کے لیے نوکری کر رہی تھی جب بھی موقع ملتا داتا حضور ؒ یا لاہور کے دوسرے درباروں پر جاکر سلام کر تی لیکن ہسپتال کی انتظامیہ کے لوگوں نے اور بھی تنگ کر نا شروع کر دیا تو اچانک اللہ کی مدد آئی ایک مریض ہسپتال آیا جب اُسے میرے حالات کا علم ہوا تو اُس نے ایک دن مجھے کہا وہ سعودی عرب میں نوکری کر تا ہے اگر تم راضی ہو تو تمہیں کسی ہسپتا ل میں نو کری دلا سکتا ہوں میں نے فوری ہاں کر دی یہ تو میری بہت بڑی خواہش تھی کہ ارض مقدس میں زندگی گزاروں اِس دوران میں مختلف بابوں سے بھی ملتی رہی جو میری انگلی پکڑ کر عشق الٰہی کے پل صراط سے گزار سکیں لیکن فراڈی دھوکے بازوں سے ہی پالا پڑا پھر میری نو کری مدینہ کے قریب ہی ایک ہسپتال میں ہو گئی وہاں بھی میری بابوں کی تلاش جاری تھی کہ کسی نے ایک دن بابا رحیم کے بارے میں بتایا جو پینتس سال سے مدینہ شریف روضہ رسول ﷺ پر تھے اب میں اُن سے ملنے کا پلان بنانے لگی ۔ (جاری ہے )

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.