ایک ٹریجک سٹوری

2,028

تحریر:آئمہ محمود۔۔۔۔چور، ڈاکو اور لٹیرے کے ٹائٹل کیساتھ حکومتی پروڈکشن میں تیار کردہ فلم گذشتہ سال بھر سے زیر نمائش ہے لمبا عرصہ چلنے والی اس شاہکار مووی کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ حالات و واقعات اور نظریہ ضرورت کے مطابق وقتا فوقتا اسمیں تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں پرانے سین کاٹ کر نوئے نکور سین ڈالنے کی سہولت موجود ہے اور بعض اوقات تو کسی کانٹ چھانٹ کی زحمت بھی نہیں کرنی پڑتی ۔ اس لبرٹی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے مصنف ،ڈایریکٹر اور پروڈکشن کمپنی نت نئے کیسوں کے اندراج اور انکے نتیجے میں ایکشن اور تھرل سے بھر پور نیب کے چھاپوں پر مبنی مناظر کی عکس بندی میں مصروف ہیں۔ نمائش کے ابتدائی مہینوں میں اس فلم نے کھڑکی توڑ رش لیا اور لینا بھی چاہیے تھا کیا کچھ نہیں تھا اسمیں ؟ آفاقی خوبیوں اور صلاحیتوں سے بھرپور نڈر اور جواں سالہ ہیرو، ہیرو کے جانی پیاروں کا گروپ اور سب سے بڑھ کر نہ ختم ہونے والے ویلنوں کا ٹولہ، یعنی کہ نیکی اور برائی کا کھلم کھلا مقابلہ، بیرونی طاقتوں سے بھائو تائو، حقیقی شہزادوں کی سپیشل شرکت اور تو اور دشمن ملک کو بھی دن میں تا رے دیکھانے جیسے کارنامے تھے اس فلم میں۔ ہاں فلم کچھ muscularہے لیکن عالمی سطح پر یہ چیز ڈیمانڈ میں ہے ۔جوں جوں وقت گزرنے لگا اور عوامی مسائل و مصائب میں کرب ناک اضافہ ہونے لگا تو پبلک کی ہمت جواب دینے لگی اور رش کم ہونے لگا شائقین میں کمی کا مطلب بزنس میں مندہ ، جس سے بچنے کیلئے کمپنی نے ,,جاگتے ضمیر،، نامی مصالحے کو اپنی پروڈکٹ میں استعمال کرنے کی ترکیب لڑائی۔
لیکن اسمیں ایک رکاوٹ تھی وہ یہ کہ مصالحہ تبھی ذائقے کو تیکھا کرئے گا جب مخالف کمپنی اسکا چھڑکائو کرئے۔بس پھر کیا تھا خواب خرگوش کے مزے لیتے مخالفین کو جو خود کو اپوزیشن کہلانا پسند کرتے ہیں ,,ہاکا،، دے کر جگایا گیا اور انکے ہاتھوں میں ,,جاگتے ضمیر،، کا مصالحہ پکڑا کر امید دلائی گئی کہ اسکے استعمال سے انکی آنکھوں کی روشنی بڑھے گی جگر کو تراوٹ ملے گی اورچہرئے کی رنگت گلابی ہوجائے گی۔ یہ سننا تھا کہ اپوزیشن نے دی گئی ترکیب کے مطابق مصالحے کا استعمال شروع کر دیا اور لوگوں کی توجہ حاصل کر لی ۔ حالات کی ماری قوم کو بھی اپنی بے رنگ اور مایوس زندگی میں ہلچل سی محسوس ہوئی لیکن پھر کیا ہوا؟عید سے پہلے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافے نے لوگوں کے منہ میں کرواہٹ بھر دی اور انکی توجہ چور، ڈاکو اورلٹیرے سے ہٹ کر پھر دال روٹی کی طرف ہونے لگی اور اپوزیشن کے ہاتھوں میں پکڑا,, جاگتے ضمیر،، کا مصالحہ عوامی آہوں کی سلین کا شکار ہو کر بے کار ہو گیا ۔ اپوزیشن کو مصروف رکھنے کیلئے ایک اور ٹاسک ان کے ہاتھ میں تھما دیا گیا اور اہل ملک کے سامنے سینٹ کے چیر مین کو بدلنے یا نہ بدلنے کی اپوزیشن کی صلاحیت کا پزل رکھ دیا گیا ۔ اب پھر شائقین کی دلچسپی بحال ہوئی کہ دیکھیں مخالف کمپنی کوئی کر شمہ دیکھاتی ہے یا نہیں ۔سارے سیانے سر جوڑ کر بیٹھے ، آنے والے دنوں کا زائچے بننے لگا بغاوت کی باتیں شروع ہوئیںجواریوں نے شرطیں لگائیں ۔ Solidarityظاہر کرنے کیلئے علاقائی لباس زیب تن کئے گئے پھر فیصلے کا دن آیا اور ایک بار پھر مخالف کمپنی کی ٹائیں ٹائیں فش ہو گئی۔ وفا داریاں بدلنے والوں کو سخت نتائج بھگتنے پڑیں گے جیسے ڈائیلاگ دھرائے گئے۔لیکن اس مشق کا حاصل یہ ہوا کہ کچھ ہفتوں کیلئے غیر متعلقہ معاملات کو ایک بار پھر relevantکر دیا گیا اور اچھی پروڈکشن کی سب سے بڑی کا میابی بھی یہی ہوتی ہے کہ وہ رات کو دن بتائے اور اگلوں سے منوائے بھی۔ موجودہ جاری و ساری فلم کا چارم لوگوں میں اگرچہ کم ہو رہا ہے لیکن اس کو بنانے والے پر یقین ہیں کہ انکی تیار کردہ پروڈکٹ اپنے اہداف کو پورا کر نے کی طرف جا رہی ہے اگر کچھ سین بوریت کی وجہ بن رہے ہیں تو کوئی پر واہ نہیں ابھی انکی پٹاری میں صوبایت ، قوم پرستی، فوج پرستی ,مذہب کی حفاظت، ملک سے دشمنی اور دشمن ہمسائے جیسے تیربحدف اجزاء ترکیبی کی نا ختم ہونے والی رسد موجود ہے جن کی موجودگی میں بے روزگاری ، ٹیکسوں کی بھارمار،بدامنی، دہشت گردی ،کمر توڑ مہنگائی، کاروبار کی بندش ،غربت، تعلیم ،صحت ، علاج اور انصاف سے محرومی کسی بھی حکومت کا بال بیکا نہیں کر سکتی اور جب موجودہ اپوزیشن جیسے حریف مقابل ہوں تو پھر ,,ستے خیراں!!
Selected حکومتوں میں مخالفین بھی اسی Selectedپلان کا حصہ ہوتے ہیںاپوزیشن کی اب تک کی کار کر دگی اس تا ثر کو پختہ کرتی ہے۔ اپوزیشن اگر والد چھڑائو اور سینٹ کے چیر مین ہٹائوجیسی مہمات سے آدھی انرجی بھی لوگوں کے حقیقی ایشوز پر بات کرنے پر صرف کرتی،تعلیم ، ملازمتوں ، صحت کی سہولیات کو یقینی بنانے کیلئے پارلیمنٹ میں قانون سازی پر توجہ دے، اقلیتوں کے تحفظ ، عورتوں کے حقوق اور ان کے خلاف ہونے والے گھریلو تشدد کے حوالے سے ٹھوس قوانین اور ان کے عملی اطلاق کے طر یقہ کار کو زیر بحث لاتے، بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام پر مہم چلاتے ، سستے اور فوری انصاف کے مدعے اور معاشی حالات کو اپنی اولین ترجیح بناتے توحکومت کچھ تو ہاتھ پاوں چلاتی، لیکن یہ نا تھی ہماری قسمت ۔ فلم تو چل رہی ہے لیکن بھارت کی طرف سے کنٹرول لائن کی خلاف ورزی اور مقبوصہ کشمیر کو انڈین آئین میں دے جانے والے خصوصی درجے اور اختیارات کو ختم کرنے کے ا علان نے صورتحال یکسر بدل دی ایک بار پھر خطے میں امن کو شدید خطرات درپیش ہیں۔ مودی سرکار نے کشمیر کی نیم خودمختار حیثیت ختم کرنے کے ساتھ اس کو تقسیم کرکے یونین ٹریٹریز کا نظام رائج کر دیا ہے۔ بھارت کے اس اقدام سے کشمیریوںکو مذید ظلم و جبر کا سامنا کرنا ہوگا۔ ایک بار پھر وہ ہی فلم چلے گہ جو امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر فلسطین کے خلاف چلائی تھی اور بین الاقوامی ادارے اپنا کردار بالکل ویسے ہی اد ا کریںگے جیسا فلسطین کے معاملے میں ادا کیا اور جس طرح ہماری اپوزیشن حکومتی فلم میں ادا کر رہی ہے ۔ اس سب میں نقصان صرف اور صرف عوام کا ہے وہ چاہے فلسطین ، کشمیر، یمن، شام ، عراق ،افغانستان اور پاکستان کی ہو اور فائدہ ہوگا ہم پر مسلط سرکاروں کا اور اسلحہ کے بیوپاریوں کا۔

نوٹ:نیوزنامہ پرشائع ہونےوالی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.