کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ

35

تحریر:انعام الحسن کاشمیری ۔۔۔۔کشمیرکو خصوصی حیثیت دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 کوختم کرنے کابل بھارتی لوک سبھا میں پیش کردیا گیا ہے۔ یہ وہی بل ہے جس کے خاتمے کا وعدہ مودی نے 2014ء کے انتخابی منشور میں کیا تھا اور پچھلے پانچ سالہ دور میں اس بابت خاصا کام کیا تھا۔ یہ بل وزیرداخلہ امیت شاہ نے پیش کیا اور اپنے خطاب میں کہا کہ آئین کی شق 370 کا خاتمہ صدارتی حکمنامے کے تحت کیا گیا ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ اب مقبوضہ جموں و کشمیر کی جداگانہ حیثیت ختم ہو گئی ہے۔بھارت کے آئین کی شق 370 مقبوضہ وادی کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق ہے جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو اپنا آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی حاصل تھی۔ اسی شق کے تحت بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست جموں کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے تھے۔مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ نے سادہ لوح کشمیریوں کو بیرونی عناصر کے دست برد سے محفوظ رکھنے اور کشمیر کے قدرتی حسن کو برقراررکھنے کے لئے یہ قانون نافذ کررکھا تھا کہ کوئی غیرریاستی شخص کشمیر میں جائیداد کی خریدوفروخت نہیں کرسکتا۔ بعد میں شیخ عبداللہ نے نہرو کے ساتھ مل کر اس قانون کو بھارتی آئین میں بھی شامل کروادیا ۔ پچھلی کئی حکومتوں کے ادوار میں کوشش کی گئی کہ کسی بہانے سے کشمیر میں ہندوپنڈت آباد کرکے مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدل دیاجائے جس کی سخت ترین مزاحمت ہوتی رہی۔ امیت شاہ کا کہناتھا کہ ہم کشمیر پر چار بل پیش کررہے ہیں اور اس ضمن میں ہر طرح کے سوالات کے جوابات دینے کو بھی تیار ہیں۔
کشمیر کی صورتحال ہمیشہ سے ہی خراب رہی ہے۔ پون صدی سے ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جب کشمیریوں نے اطمینان بھرا سانس لیا ہو، اور کسی رات کے اختتام پر جب صبح نسیم کے ٹھنڈے جھونکے وادیوں میں گشت کرتے ہیں، انہوںنے اپنے چہروں اور اپنی آنکھوں پر اس کی پھوار محسوس کی ہو یا جب کبھی سورج کی کرنیں کوہساروں کے عقب میں سمٹ رہی ہوں تو کشمیریوں نے یہ جان کر اپنے جسموں کے اندر خوشی کی ایک لہر دوڑتی ہوئی محسوس کی ہو کہ آج کا دن خیر و عافیت او رسکون کا مظہر رہا اور پورے کشمیر ، جموں کے میدانوں سے لے کر لداخ کے آکاش کو چھوتے پہاڑوں تک کہیں بھی خون کی ہولی نہیں کھیلی گئی اور بہاروں و کوہساروں کی سرزمین اپنے باشندوں ، اپنے بیٹوں اور اپنے غم خواروں کے خون سے رنگین نہیں ہوئی۔ لیکن جو کچھ پچھلے چند دن سے کشمیر میں ہورہاہے یہ ایک جنون اور ہیجان کا برملا اظہارہے۔ ایسا لگ رہاہے جیسے کوئی بدمست ہاتھی، جس کی عقل مائوف ہوچکی ہے اور جو مہابت کی مہارت سے باہرنکل چکاہے، بھاگتے ہوئے ہر چیز کو تہس نہس کردینے کی کوشش میں ہے۔ آدمیت کا شرف، انسانیت کا شرف، اٍشرف الخلوقات کا شرف، انسانی حق کا شرف، اپنی سرزمین کی ملکیت کاشرف، آزادی کے خواب کا شرف، اپنی آزاد سانسوں کا شرف ، اپنے خوابوں ، اپنے یقین، اپنی دنیا کا شرف غرض ہر شرف ، ہر اعزاز کو بے دردی کے ساتھ کچلا جارہاہے۔ یہ بھارتی سامراجوں کا جنون اورہیجان ہی ہے جس کے باعث کنٹرول لائن پر اِس طرف کلسٹر بم داغ دیے گئے۔ اف خدایا ! کیا وہاں جنگ بپا ہے یا پرامن شہری کنٹرول لائن پار کرنے کیلئے دھرنا دیے بیٹھے تھے؟ ایساکچھ بھی نہیں ہے ۔ ہاں کچھ دن پیشتر جب وزیراعظم پاکستان امریکی صدرسے ملے ، تو انہیں یقین دلایاگیا کہ امریکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کا کردارادارکرسکتاہے۔ گویا امریکہ نے ایک اشارہ دے دیا کہ اب اس قضیے کو ختم ہوجانا چاہیے۔ اس سے قبل جب مودی ایک بار پھر بھاری اکثریت کے ساتھ دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوئے، تو انہوںنے پچھلے انتخابی منشور پر تیزی کے ساتھ عمل کرنے کا عندیہ دیا۔ انہوں نے اپنے اقتدار کے پہلے پانچ سال آرٹیکل 370اور آرٹیکل 35اے کی منسوخی کی گونج خوب بپارکھی۔ اس مقصد کے لئے اگرچہ انہوںنے بنیادی اقدامات بھی کیے، لیکن عموما ً سمجھا جارہاتھا کہ وہ ایسا صرف انتخابی سیاست کی ضرورت کے تحت کررہے ہیں۔ اہلِ کشمیر کی جانب سے ان کے ایسے اقدامات کے خلاف سخت ترین احتجاج کرنے کا عندیہ دیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب مودی یوم جمہوریہ کی تقریب سے خطاب کرنے سرینگر گئے اور انہوںنے وہاں کشمیریوں کے لئے 15ہزار کروڑ روپے کی مراعات اور امداد کا اعلان کیا، تو کشمیریوںنے اس پیش کش کو جوتے کی نوک پر رکھا۔ اس کے علاوہ بھی مختلف مراعات اور ترغیبات مسلسل دی جاتی رہیں لیکن کسی ایک کشمیری نے بھی اس کا خیر مقدم نہیں کیا۔
مودی جب دوبارہ وزیراعظم بنے، تو سمجھ لیا گیا کہ چونکہ وہ پہلے سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ برسراقتدارآئے ہیں ، اس لئے اب وہ اپنے تشنہ وعدوں اور خوابوں کی تکمیل کے لئے زیادہ حیران کن، افسوس ناک ، انسانی سمجھ سے ماورادرحقیقت انسانیت کش اقدام پر خوب عمل کریں گے اس لئے کہ اب ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں بچی۔چنانچہ ابھی زیادہ وقت بھی نہیں گزرا کہ انہوںنے اپنے اس ادھورے کام کی تکمیل کی ٹھان لی ہے۔ اب آرٹیکل 370اور آرٹیکل 35اے کی منسوخی عمل میں لائی جاچکی ہے۔ کشمیر کے اندر حالات بد سے بدتر کردیے گئے ہیں ۔اپوزیشن رہنمائوں اور حریت لیڈروں کو نظربند کردیاگیاہے۔ پوری وادی میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ کشمیر میں اسی ہزار مزید فوجی بھجوانے کا اعلان کیا گیا ہے جن میں سے تیس ہزار کے لگ بھگ فوجی کشمیر میں پہنچ چکے ہیں۔ سیاحوں ، صحافیوں سمیت تمام غیر ریاستی افراد کوفوری طور پر کشمیر سے نکل جانے کا حکم دیا گیاہے۔ تمام مواصلاتی رابطے بند کردیے گئے ہیں ۔ فون، انٹرنیٹ ، سوشل میڈیا کوئی بھی چیز استعمال میں نہیں ۔ پولیس کے اختیارات فوج نے اپنے ہاتھوں میں لے لیے ہیں اور ایسا لگ رہاہے جیسے ایک بھیانک منصوبہ بندی کے تحت کشمیر کی حیثیت ختم کردینے کے بعد تھوڑے ہی عرصے میںمسلم اکثریت کو اقلیت میں بدل دیاجائے گاتاکہ تحریک حریت عملاً ختم ہوکر رہ جائے اور کشمیر کی بھارت سے آزادی کی توانا آواز ہمیشہ کے لئے دبادی جائے۔ حتی کہ اس مقصد کے لئے امرناتھ یاترا کے لئے گئے ہوئے ہزاروںہندوپنڈتوں کو بھی واپسی کا سختی کے ساتھ حکم دیا گیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ کنٹرول لائن پر کلسٹربم برسائے جارہے ہیں جس سے کئی معصوم شہری شہید ہوچکے ہیں۔ املاک تباہ اور ہرطرف خوف و ہراس کی فضا قائم ہوگئی ہے۔ پاکستان نے اس بھارتی جارحیت کا بھی سختی کے ساتھ جواب دینے کا عندیہ دیا ہے ۔ فوری طور پر او آئی سی کے ساتھ رابطہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح وزیراعظم نے عالمی برادری سے بھی بھارت کے اس اقدام کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
حریت پسند کشمیری قیادت نے بھارت کے تمام حربوں کو مسترد کرتے ہوئے قراردیاہے کہ ہم ہر قربانی کے لئے تیار ہیں۔ سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق سمیت تمام حریت قیادت ایک کاز کے لئے متحد ومتفق ہے۔ یاسین ملک اگرچہ تہاڑجیل میں قید ہیں لیکن ان کی قید بھی جس مقصد کے لئے ہے، وہ بھی بھارت سے آزادی ہی ہے۔ حتی کہ سرینگر میں جن کشمیری سیاسی زعماء مثلاً فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی اور سجاد لون کو نظربند کیا گیاہے، وہ بھی کہہ چکے ہیں کہ بھارت کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے سے باز رہے۔ ایسا کرنے کی صورت میں کشمیر ایک آتش فشاں کی صورت میں پھوٹ پڑے گا۔ لگتا ہے بھارت خود ہی اس آتش فشاں کے پھوٹنے کے حربے اختیار کررہاہے۔ وہ خود حرارت کو اس انتہانقطہ پر لے جارہاہے جس کے بعد اس کی شدت بے قابوہونے اور لاوا بہہ نکلے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہوگا۔ ہمیں انتظار کرنا چاہیے کہ کشمیر میں پھوٹتے اس آفش فشاں کے گولے کب دہلی سے گزرکر ممبئی تک جاپہنچتے ہیں اور بھارت کی تمام ریاستوں میں پھیلتے ہوئے اندوہناک تباہی مچاتے ہیں۔ ٭٭٭

اسے بھی پڑھیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.