با خبری میں بے خبری

2,045

تحریر:آئمہ محمود۔۔۔۔بو جہ بر سات اگر اہل شہر پانی، بجلی اور نقل و حرکت سے محروم ہو جائیں ، چند گھنٹوںکیلئے نہیں بلکہ دنوں اور ہفتوں کیلئے تو کیا دنیا میں ہونے والی ترقی اور Developmentپر بڑا سا سوالیہ نشان ڈالنے کو دل نہیں کرتا ؟ یہاں کہا جاسکتا ہے کہ غلط، خود غرض اور طمع پرست ، لوگوں کے ہاتھوں میں جب شہروں کی باگ دوڑہو تو اسمیں بے چاری ترقی کا کیا قصور ؟ بات بالکل بجا ہے لیکن کیا ہم سمجھ پا رہے ہیں کہ حقیقتا تیسری دنیا میں ہونے والی progressکی قیمت وہاں کی اکثریتی آبادی کو اپنی زندگیوں اور بنیادی ضروریات سے ہاتھ دھو کر ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ اب نکاسی آب کو لیں شہروں کی growthکیساتھ اس اہم ترین مسلہ کو مستقل بنیاد پر حل کرنے کی کبھی مخلصانہ کوششیں نہیں کی گئیں۔ یہ صرف کراچی جیسے شہر کا معاملہ نہیں کہ بستیوں کی بستیاں زیر آب آجائیں۔لوگ سب کچھ گنوا کر بمعہ اپنے پیاروں کو پانی کی نظر کر کے دربدر ہو رہے ہیں بلکہ ملک کے سبھی گنجان شہروںکی یہی حالت ہے ہر مون سون پر ایسے افسوس ناک مناظر دل گریفتہ کرتے ہیں۔
وقتی بیانات اور ظاہری ڈرامے بازی کے سوا با اختیار حلقوں کی طرف سے کبھی بھی پرابلم کو حل کرنے کیلئے عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ موسموں میں آنے والے اتار چڑھائو ، آندھی طوفان اور بارشوں کی پیشگی معلومات کے باوجود اگر متعلقہ ادارے اور حکومتی باڈیز ہر سال لوگوں کی جان ومال کو ناقابل تلافی نقصان سے بچانے کیلئے کوئی پرکٹیکل حکمت عملی اختیار نہ کریں تو دماغ میں یہ خیال آتا ہے کہ اس ملک میں عوام کے وجود کا اصل مقصد ہی یہ رہ گیا کہ انکی موت ، بے بسی اور محرومیوں پر سیاست کا کاروبار چلایا جائے۔ انھیں تبدیلی کی گاجر دیکھا کر حکمرانی کے دیرینہ خواب کو حقیقت میں بدلا جائے اور انھیں چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بانٹ کر انھیں انکے علاقے ، زبان اور مذہب کی شناخت کو بچانے کا فریضہ دے کر اور اندورنی اور بیرونی meaning lessجنگوں اور تنازعات کی بھٹی میں جھونک کر پورے ملک اور خطے میں بادشاہ گری کی جائے۔ ان حالات میں جو چیز سب سے زیادہ Alarmingاور مایوس کن ہے وہ یہ کہ majorityہر بار فریب کا شکار ہو جاتی ہے ۔ دانستہ اور نادانستہ استحصالی طاقتوں کو آسان ٹارگٹ مہیا کر دیتی ہے ۔ اس کے لیے انھیں پوری طرح قصوروار ٹھہرنا بھی درست نہیں ہو گا۔ دراصل systematicallyقومی اور عالمی سطحوں پر لوگوں کو ignorantبنایا جا رہا ہے۔بظاہر تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ مواصلات اور کیمیو نیکیشن کی ترقی نے معلومات تک لوگوں کی رسائی بہت آسان بنا دی ہے وہ زیادہ باخبر ہیں دراصل یہی با خبری اصل میں بے خبری ہے ۔
اب سوشل میڈیا کو لیں وہاں ہر کوئی بول رہا ہے اور کوئی سننے کو تیار نہیں،ہر آئیڈیا، ہر خیال، ہر تھیوری ، ہر نظریہ غلط ، کفر اور واجب قتل ہے۔ مین سٹریم میڈیا میں بھی یہی معاملہ ہے ہر فرد کرپٹ ، ہر پالیسی بے معنی ، ہر عمل بے عمل بشرطیکہ آپ موجودہ حکومتی مشنری کا حصہ نہ ہوں۔ بھیڑچال لوگوں کی فیورٹ چال بن گئی ہے۔
آپ کو فیس ایپ کے بارے میں تو معلوم ہو گا وہی جو پچھلے دنوں مین سٹریم میں بھی خبروں کی زینت بنی اس ایپ کے ذریعے آپ اپنے چہرے کے نقوش، رنگت وغیرہ بدل کر اپنی عمر کو گھٹا یا بڑھا سکتے ہیں یوں تو یہ 2017میں ایک روسی کمپنی نے لانچ کی تھی لیکن اس سال کے ابتدائی مہنیوں میںہالی ووڈ کے چند ایکٹروں نے اس ایپ کے استعمال سے اپنے بڑھاپے کی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیں ۔ بس پھر تو پوری دنیا میں اندھا دھن اس ایپ کا استعمال شروع ہو گیا اس کے بڑھتے استعمال پر ایک امریکی سینٹر نے سب کو انتباہ کیا کہ یہ ایپ آپکا سارا ڈیٹا چرا کر روس منتقل کر دے گی ۔حالانکہ امریکن فیس بک اور دیگر امریکی کمپنیوں کی بنائی ہوئی applicationsپہلے ہی سے یہ فرض انجام دے چکی ہیں اور مسلسل دے بھی رہی ہیں لیکن کوئی روسی کیوں کرئے؟ وہی انڈیا پاکستان جیسی سیاست بازی۔ سینٹر کی یہ بات سننا تھی کہ لوگوں نے فورا اس ایپ کا استعمال ختم کر دیا ۔ حالانکہ کمپنی نے وضاحت بھی کی کہ وہ ایسا نہیں کر رہے۔بات یہ نہیں کہ سینٹر سچے ہیں یا کمپنی ، نکتہ یہ ہے کہ ایسی کوئی بھی ایپ جو آپ کے contacts, txts, emailوغیرہ تک رسائی مانگ رہی ہے تو اسکا کیا مطلب ہے ؟
whatsappاور الیکٹرانک میڈیا پر shareاور نشر کی جانے والی خبروں کو ہم بلا تحقیق اور تصدیق نہ صرف درست مان لیتے ہیں بلکہ اس کو دوسروں کے ساتھ شئیر کر نے کی ذمہ داری بھی با خوبی نبھاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر امریکی دورے کی کامیابی دیکھنے کے بعد توہمارے وزیر اعظم کو بھی یوں محسوس ہوا کہ وہ ایک بار پھر ورلڈکپ جیت کر آرہے ہیں۔ حکومتی کارکردگی کے شاندارindicater ہمیں سوشل میڈیا پر ہی ملتے ہیں۔ حقیقت جانتے ہوئے بھی یہ کہا جا رہا ہے کہ وزیراعظم کی مقبولیت میں ریکارڈ توڑ اضافہ ہو رہا ہے۔ دو دن کی بارشوں کے بعد ایک طرف سندھ حکومت کے وزیروں اور وزیر اعلی کے سڑکوں پر گشت کی ویڈیوز ہیں تو دوسری طرف کرنٹ لگنے سے زندگی کی بازی ہارنے والوں کی ۔ ہم بحیثیت عوام ان خبروں کو ایک دو سرے تک پہچانے میں مصروف ہیں سندھ حکومت اور وفاقی حکومت ایک دوسرے کو الزام دینے میں اور اپوزیشن بھی کسی سے کم نہیں وہ بھی ٹوئیٹ پر ٹوئیٹ کرنے میں سرگرم ہے ۔کراچی جو ملک کا دل ہے اس کی حالت زار میں بہتری کے لیے کوئی پلان نہیں۔ بس الزامات اور پریس کانفرنسیں۔ اس افسوس ناک صورتحال کی ایک اہم وجہ لوگوں میںسوچنے، سمجھنے اور سوال کرنے کی ناپید ہوتی صلاحیتیں ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق انسانی ذہنی صلاحتوں میں اضافے کی بجائے کمی واقع ہو رہی ہے۔ سو سال پہلے جب ذہانت جانچنے کا پیمانہ ,,آئی کیو،، متعارف کروایا گیا تو تب سے اکیسویں صدی تک انسان کی ذہنی صلاحیت میں اضافہ ہی نظر آیا لیکن حالیہ تحقیق نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے ماہرین کے مطابق موجودہ تعلیم نظام ہماری قوت فکر اجاگر کرنے میںموثر کردار ادا نہیں کر رہا ۔ نئی ٹیکنالوجی کمپیوٹر، سمارٹ فون اور گوگل باباجی کی وجہ سے نوجوانوں میں سوچنے ،سمجھنے، یاد کرنے اور حساب کتاب کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا جو نام نہاد آزادی اظہارکا ذریعے سمجھا جاتا ہے درحقیقت لوگوں کو بے مقصد سرگرمی میں مصروف کرکے حالات میں بہتری کے لیے عملی اقدامات کرنے سے دور کرنے کا سبب بن چکا ہے ۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ اس گھن چکر سے آزاد کیسے ہونا ہے۔

نوٹ:نیوزنامہ پرشائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے،ادارے کامتفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.