آصف زرداری اور حمزہ شہباز۔ دو دن میں اہم ترین گرفتاریاں

54

تحریر:صابر مغل۔۔۔
جون کا مہینہ بھاری گرفتاریوں کے حوالے سے انتہائی بھاری ہوتا نظر آ رہا ہے تاہم ابھی عبوری ضمانتوں کا فائدہ اٹھانے والی کئی نامور شخصیات کی گرفتاریاں مستقبل قریب میں متوقع ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانت خارج ہونے کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری کے گرفتاری کے دوسرے روز لاہور ہائی کورٹ سے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی گرفتاری نے گرما گرم سیاسی موسم کو مزید گرم کر دیا ہے سابق صدر کی گرفتاری وفاقی بجٹ سے ایک روز قبل اور حمزہ شہباز کی گرفتاری بجٹ کے روز عمل میں آئی ،حمزہ شہباز کو نیب ٹیم نے گرفتاری کے بعد نیب آفس لاہور لے گئی ،10جون کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو جسٹس صاحبان جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی اور سماعت کے بعدکیس کا فیصلہ کچھ دیر کے لئے محفوظ کر لیا اسی دوران سابق صدر کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے اپنے مئوکل کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا کہ آپ جائیں حالات مناسب نہیں جس پر آصف علی زرداری اپنی ہمشیرہ اور شریک ملزمہ فریال تالپور کے ہمراہ احاطہ عدالت سے نکل کر زرداری ہائوس روانہ ہو گئے جیسے ہی عدالتی حکم سنائی دیا تب نیب کی متحرک ہو گئی نیب نے فوری طور پر میٹنگ کے بعد ملزمان کی گرفتاری کے لئے دو ٹیمیں تشکیل دیں جن میں سے ایک پارلیمنٹ ہائوس اور دوسری زرداری ہائوس روانہ کی گئی ،آصف علی زرداری سیکٹر8۔Fمیں پہنچ چکے تھے جہاں نیب کی 15رکنی ٹیم پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ پہنچ گئی زرداری ہائوس آنے اور جانے والے تمام راستوں کو سیل کر دیا گیا مقامی پولیس نے زرداری ہائوس پر تعینات سندھ پولیس اہلکاروں کو گیٹ سے ہٹا دیا،کافی دیر پر بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان مصطفیٰ نواز کھوکھر نے باہر آکر نیب کی6رکنی ٹیم کو اندر بلالیا اس وقت ان کے ساتھ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ بھی اندر داخل ہو گئی اس دوران پارٹی کے کئی رہنماء بھی زرداری ہائوس پہنچ گئے مگر بعد میں آنے والے نیر بخاری اور شیری رحمان سمیت کئی رہنمائوں کو پولیس نے اندر داخل ہونے کی اجازت نہ دی ،تقریباً ایک گھنٹہ کی گفت و شنید کے بعد آصف زرداری نے نیب ٹیم کو گرفتاری دے دی آصفہ بھٹو اور بلاول بھٹو نے اپنے باپ کو رخصت کیا ، اس موقع پر نیب نے شریک ملزمہ فریال تالپور کو گرفتار نہ کیا ،آصف زرداری کی گرفتاری کے لئے نیب کی بلٹ پروف گاڑی کو اندر لے جا کر انہیں سوار کر کر نیب آفس پہنچایا گیا اس دوران کچھ جیالوں نے مزاحمت کی کوشش کی جنہیں لاٹھی چارج کا سامنا کرنا پڑا، اس موقع پر چیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کارکنوں کو پر امن رہنے کی تلقین کی اور تمام صوبائی تنظیموںکو خود سے مناسب حکمت عملی اختیار کرنے کی ہدایت کی ساتھ یہ بھی دھمکی دی کہ اب ملک بھر میں دما دم مست قلندر ہو گاکیونکہ یہ دور مشرف اور ضیا کی آمریت سے بھی بدترین صورتحال اختیار کر چکا ہے آج یوم سیاہ ہے جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،، لاہور میں گڑھی شاہو اور فیروز پور روڈ پر کارکن باہر نکلے مگر کوئی مئوثر احتجاج نہ کیا جا سکا البتہ سندھ کے کئی علاقوں میں ڈنڈہ بردار لوگ بار نکلے اور زبردستی دکانوں کو بند کر دیا گیا ہوائی فائرنگ ہوئی کئی سڑکوں کو بند کر دیا گیا،ڈاکٹر ز کی ٹیم نے آصف زرداری کا ماہر ؔڈاکٹرز سے طبی معائنہ کرایا صحت کے حوالے سے وہ فٹ نکلے آصف علی زرداری اور ان کی بہن 28مارچ سے اس مقدمہ میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت پر تھے دوران ضمانت زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیر مین نیب کے پاس ورانٹ گرفتاری جاری کرنے کا اختیار ہی نہیں اس کیس میں نیب کی بد نیتی شامل ہے اومنی گروپ سے آصف زرداری کا کوئی تعلق نہیں اویس ظفر زرداری کے منہ بولے بھائی ہیں بھائی کو بینکنگ چینل سے بھیجی گئی رقم خفیہ یا غیر قانونی کیسے ہو گئی ؟نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے دلائل میں کہاکہ نیب کے پاس تفتیش اور ملزم کی گرفتاری کا مکمل اختیار ہے جو کہ طلعت اسحاق کیس میں سپریم کورٹ نے نیب کو دئیے یہ کیس 4.5ارب روپے کی غیر قانونی ٹرانزیکشن کا معاملہ ہے تمام ثبو ت موجود ہیں کہ کتنی رقم اکائونٹ میں آئی اور کتنی رقم استعمال ہوئی یہ تفصیلات 29جعلی اکائونٹس میں سے صرف ایک کی تفصیلات ہیں ابھی باقی 28اکائونٹس کی تفصیلات سامنے آنی ہیں ، جس وقت آصف زرداری کی گرفتاری عمل میں آئی اس وقت پارلیمنٹ میں قومی اسمبلی کا اجلاس جاری تھا جس میں خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے ا سپیکر قومی اسمبلی سے کہا کہ وہ فوری طور پر آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری کریں جس پر سپیکر نے کہا وہ جائزہ لے کر کوئی بھی فیصلہ کریں گے ،کھ عرصہ پہلے آصف علی زرداری کا ٹی وی انٹرویو بار بار دکھایا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ چیرمین نیب کی کیا مجال ہے کہ وہ مجھے گرفتار کرے یا مجھ پر کیس بنائے اب وہ اسی نیب کی حوالات میں 10روز جسمانی ریمانڈ پر موجود ہیں،آصف علی زرداری کے خلاف جعلی اکائونٹس کیس کی گرہ اس وقت کھلی جب ایف آئی اے نے ایک مشکوک بینک اکائونٹ کا سراغ لگایا جس کی تفتیش کے دوران مزید سنسی خیز انکشافات کا سلسلہ شروع ہو گیا کئی جعلی اکائونٹس سامنے آ ئے جن میں مشکوک منتقلیاں کی گئیں،FIAکے مطابق ان غیر قانونی منتقلیوں فائدہ اٹھانے والوں میں سے متحدہ عرب امارات کے نصیر عبداللہ لوطہ گروپ کے سربراہ عبداللہ لوطہ ،آصف علی زرداری ،فریال تالپور ،اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید ،ملک ریاض کے داماد ملک زین شامل تھے ،عبداللہ لوطہ سمٹ بینک کا چیرمین اور حسین لوائی اسی بینک کے صدر ہیں عبداللہ لوطہ کو دو ارب 49کروڑ روپے بھیجے گئے،FIAکی رپورٹ کے مطابق جعلی اکائونٹس کی تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایک اکائونٹ اے ون انٹرنیشنل کے نام سے موجود ہے جس کا مالک طارق سلطان ہے طارق سلطان نے اس اکائونٹ سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا،اے اون انٹرنیشنل ایسوسی ایشن سے اربوں روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی تھی ،طارق سلطان نے دوران تفتیش بتایا تھا کہ اس وقت کی آپریشنل مینجر کرن امان نے جعلی اکائونٹ کی تصدیق کی تھی لین کوئی کاروائی نہ کی گئی کرن ایمان نے انکشاف کیا تھا کہ یہ اکائونٹ حسین لوائی کے حکم پر کھولا گیا تھا،ان جعلی اکائونٹس میں دس ماہ کی قلیل مدت میں ساڑھے چار اربروپے کی رقم منتقل ہوتی رہی یہ رقم جمع کرانے والوں میں زین ملک25کروڑ،سجاول ایگرو پرائیویٹ50کروڑ50لاکھ،ٹنڈو الہ یار شوگر ملز 23کروڑ 84لاکھ اومنی گروپ 5کروڑ،ایگرو فارمز ایک کروڑ اسی طرح مزید درجنوں کمپنیاں اور افراد کے نام ہیں،انور مجید آصف زرداری کے انتہائی قریبی دوست ہیں ڈاکٹر عاصم کے گرفتاری کے بعد تحقیقاتی ایجنسیوں کا رخ ان کی طرف ہوا تھا،2016میں سندھ رینجرز نے کراچی میںان کے دفتر پر چھاپہ مار کر اہم دستاویزات کے علاوہ ناجائز اسلحہ بھی برآمد کیا تھا ،جعلی اکائونٹس کیس میں آصف زرداری ان کی بہن فریال تالپور سمیت ان کے کئی دیگر اہم ساتھی ملوث ہیں 15مارچ کو کراچی بینکنگ کورٹ کے جج طارق حسین کھوسو نے 13ملزمان کی ضمانت خارج کرتے ہوئے اس مقدمہ کو اسلام آباد منتقل کرنے کا حکم جاری دیا تھا،اس سے قبل آصف علی زرداری ،فریال تالپور اور اومنی گروپ کے سربراہ مجید انور کی جانب سے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست بھی گذاری گئی تھی جسے چیف جسٹس ثاقب نثار نے خارج کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ اس اہم اور سنگین نوعیت کے کیس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،آصف علی زرداری نے اپنی گرفتاری کے بعد کہا کہ اب سلیکٹڈ وزیر اعظم کو لندن بھاگتا دیکھ رہا ہوں حمزہ شہباز کی گرفتاری شرمناک ہے جس کی شدید مذمت کرتا ہوں،دوسرے روز لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مؔظاہر علی نقوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کئی بار ضمانت میں توسیع دینے کے بعد اور تازہ سماعت میں حمزہ شہباز کے وکلاء کے جارحانہ رویہ اور درخواست ضمانت واپس لینے کے بعد ان کی ضمانت خارج کر دی،مسلم لیگ کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات عطااللہ نے کہا کہ فنانشنل مانیٹرنگ یونٹ کی دستاویزات نہ دینے پر درخواست واپس لی گئی،حمزہ شہباز پر آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں ان پر رمضان شوگر ملز کیس میں فرد جرم بھی عائد کی جا چکی ہے،پولیس نے دوبار ان کی رہائش گاہ ماڈل ٹائون میں ان کی گرفتاری کے لئے چھاپے بھی مارے تھے تاہم لاہور ہائی کورٹ کی مداخلت پر یہ گرفتاری ٹل گئی تھی حمزہ شہباز نے2015سے اپنے اثاثے ظاہر نہیں کئے تھے نیب کے مطابق انہوں نے اچانک انکشاف کیا کہ ا ن کے اثاثے5کروڑ سے 20کروڑ روپے ہو چکے ہیں حمزہ آج تک ان اثاثہ جات سے متعلق واضح نہیں بتا سکے اور نہ ہی منی لانڈرنگ پر مطمئن کر سکے،وفاقی وزیر فواد حسین نے کہا بڑی بڑی شخصیات کی گرفتاریاں روشن پاکستان کے تسلسل کا حصہ ہیں ملک میں طاقتور احتساب کی بنیاد رکھ دی گئی ہے،فردوس عاشق اعوان نے کہاآج عدالتوں نے آزادی کا ثبوت دے دیا ہے،مریم نواز شریف نے اپنے ٹویٹ میں کہا معاشی سروے اور بجٹ جیسی تاریخی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لئے گرفتاریاں عوام کے غیض و غضب سے نہیں بچا سکتیں،گرتی ہوئی دیوار کو ان گرفتاریوں سے نہیں بچایا جا سکتاجس حکومت میں پوری قوم قید کی کیفیت میں ہو اس حکومت میں اپوزیشن کی گرفتاریوں سے نالائقوں کو نہیں بچایا جا سکتا،وزیر اعظم عمران نے کہا ان گرفتاریوں پر کہا شکر ہے کہ پاکستان میں قانون سب کے لئے برابر ہوتا نظر آ رہا ہے ایسی گرفتاریوں سے ملکی معیشت بہتر ہو گی اور لوٹ مار کا خاتمہ ہو گا،لندن سے بھی غدار الطاف حسین کو گرفتار کر لیا گیا ہے ،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.