دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرو اللہ تمہارے راستے آسان کرے گا

89

تحریر:نمرہ جاوید۔۔۔
جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقے کا ایک گاؤں جہاں تعلیم سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔جہاں تعلیم حاصل کرنا محض زمینداروں اور امیروں کا شیوہ سمجھا جاتا تھا۔جہاں غریب کا بچہ پیدا ہی محنت مزدوری کے لیے ہوتا تھا۔اس معاشرے میں تعلیم کو پروان چڑھانا کسی معجزے سے کم نہیں۔اسی معاشرے میں ایک انسان نے سوچ اور دستور کو بدلنے کی ٹھان لی اور روزانہ اپنے بچوں کو سائیکل پر بٹھاتا اور ایک گھنٹے کی مسافت طے کرتے ہوۓ اسکول لاتا اور گھر لے جاتا۔دیکھتے دیکھتے دس سال گزر گئے اور اس شخص کی محنت رنگ لاٸی اور اس کے بچے ایک سے ایک بڑھ کر قابل نکلے اور ان کی صلاحیتوں کے باعث انہیں شہر کے کالج کی مہنگی تعلیم مفت دے دی گٸی۔اب خدا کے فضل سے اس علاقے میں وہ دن بھی آگیا جس کا انتظار تھا،جہاں بچے کو سکول تک بھیجنا وقت کا ضیاع سمجھا جاتا تھا وہاں ہی سے کوٸی پہلی مرتبہ پاکستان کی ٹاپ انجینرنگ یونیورسٹی میں اپنے تعلیم کے سفر کے لیے روانہ ہورہا تھا۔
اس باپ کو اس کی محنت کا پھل مل گیا۔وہ کہتے ہیں ناں کہ باپ اگر سیر ہے تو بیٹا سوا سیر ہوگا اس معاملہ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا اس آدمی کا درمیانہ بیٹا جو کہ اس علاقے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکا تھا ،اس نے سوچا کہ صرف میرے تعلیم یافتہ ہونے سے رواج تو نہیں بدل جاۓ گا مزہ تو تب ہے جب میرے علاقے کے اور لوگ بھی یونیورسٹوں اور کالجوں میں آٸیں۔باپ کی جدوجہد ختم اور بیٹا اس راہ پر چل پڑا۔اس مقصد کے حصول کے لیے وہ اپنے علاقے کے ہر ہر اسکول اور کالج میں گیا وہاں بچوں کو تعلیم کی طرف گامزن کرتا ان کو بتاتا کہ انہیں کوٸی بھی مسٸلہ درپیش ہو وہ ان کے آگے سیسہ پلاٸی دیوار اور ان کے پیچھے بطور رہنما کاندھے پر ہاتھ رکھے کھڑا ہے۔ اس کی محنت رنگ لاٸی اور وہ اس علاقے کے لوگوں کو یقین دلانے میں کامیاب ہوگیا کہ وہ اپنے بچوں کو بے فکر ہوکر بڑے شہروں میں بھیج سکتے ہیں۔اس نے وہاں کے لوگو ں کی ہر طرح سے مدد کی انکی راہنماٸی کی ان کے داخلے کے لیے وہ خور گھنٹوں قطاروں میں کھڑا رہا۔ یہ اس کی محنت کا ہی نتیجہ ہے کہ آج اس انجینرنگ کی ٹاپ یونیورسٹی میں اس کے علاقے سے اٹھارہ بچے، پورے لاہور میں سینکڑوں اور دوسرے شہروں میں ان گنت لوگ تعلیم کے مختلف شعبوں میں اپنی قوتیں صرف کر رہے ہیں۔
جو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے خدا اس کے لیے آسانی کرتا ہے اس بات پر یقین رکھنے والا اس امید میں تھا کہ اب اس کے اٹھارہ لوگ اس کے عزم میں اس کا ساتھ دیں گے اور یوں اس کے علاقے کے سینکڑوں سے ہزاروں اور ہزاروں سے لاکھوں لوگ تعلیم حاصل کریں گے۔مگر فرشتہ تو کوٸی ایک آدھ ہی ہوتا ہے۔اور یہ بھی سچ ہے کہ آج کل تو ہر کوٸی مطلب کو ہی خیرآباد کہتا ہے۔اس سلسلے میں بھی ایسا ہی ہوا وہ لوگ جن کے لیے اپنی مصروفیات کے باوجود جگہ جگہ قطاروں میں لگے اور دھکے کھاۓ آج اپنی مصروفیات گنوا کر رفوچکر ہو جاتے ہیں۔شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ خدا اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جسے خود اپنی حالت بدلنے کا خیال نہ ہو۔
آخر میں یہی کہوں گی کہ یہ اس عظیم باپ کی تربیت کا ہی نعم النبدل ہے کہ اس کا بیٹا بغیر مطلب لوگوں کے کام آیا ہے اور دوست احباب کی سرزنش کے باوجود ابھی بھی اس کا عزم اٹل ہے۔مصروفیات بتانے والوں کو یہ جان لینا چاہٸیے کہ اگر وہ ان جیسوں کو یہاں تک لا سکتا ہے تو اپنے جیسوں کو بھی تلاش کر لے آۓ گا۔افسوس یہ لوگ اتنا ہی سوچ لیتے کہ اگر وہ اکیلا اٹھارہ کو لے آیا تو اٹھارہ مل کر کیا سے کیا کر جاتے؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.