سازش کے نشانے پر۔۔۔۔۔

3,180

تحریر:آئمہ محمود۔۔۔۔۔ملک میں یوں تو ہمہ وقت نئے حالات و واقعات روپذیر ہوتے رہتے ہیں لیکن اس سے عوام کی حالت زار میں رتی برابر Improvementنہیں ہوتی ۔ہاں اتنا ضرور ہوتا ہے کہ تھوڑی دیر کیلئے آٹے دال کے بھاو سے توجہ ہٹ جاتی ہے ۔ اب رمضان کے بابرکت مہینے میں جب سیاسی حریف ٹی وی کیمروں کے سامنے افطاری کی میز پر اتحادی رویوں کا مظاہرہ کرکے حکومتی بینچوں میں اضطراب بلکہ حذیانی کیفت طاری کرکے ملک کے غریب عوام سے اظہار یکجہتی کا دیکھاوا کرنے میں مصروف تھے اور انتہائی گرم فضاء میں حبس کا احساس ہو رہا تھاکہ اتنے میں ایک ٹی وی چینل پر ایک ایسی آڈیو اور ویڈیو نشر ہوتی ہے کہ جس نے مئی کی تپش بھلا دی۔ اگرچہ بعد میں چینل نے اس حرکت پر معذرت کر لی لیکن تب تک تیر کمان سے نکل چکا تھا اور بقول وزیر اعظم صاحب ,, روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز سفر کرتی ہوئی لوگوں کے فونز پر یہ آڈیو ویڈیو محفوظ ہو چکی تھی۔ پھر کیا تھا تبصروں ، لطائف اورمیمیز کے طوفان شروع ہو گیا ۔کہنے کو اس آڈیو اور ویڈیو میں ایک صاحب ایک صاحبہ سے حال دل عر ض کر رہے ہیں۔ لیکن عوام کی قسمت کہ وہ صاحب اعلی عدالت کے سابق جج اور نیب کے موجودہ باس ہیں۔ لہذا اس پر جسقدرشوروغل مچا وہ بالکل بجا ہے ۔ کچھ حلقے خاتوں کو بلیک میلر گروپ کا حصہ قرار دے کر الزام لگا رہے ہیں کہ ان کا کام ہی اہم شخصیات کو دھوکا دینا ہے سو نیب کے سربراہ بے قصور ہیں۔ اپوزیشن کے سربراہ نے پہلے تو کہا کہ یہ کسی کا ذاتی معاملہ ہے تاہم بعد میں انھوں نے حکومت کو اس معاملے کا ذمہ دار قرار دے کر تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا۔ حکومت اپوزیشن پر اس سکینڈل کی ذمہ داری ڈال رہی ہے حالانکہ اپوزیشن جسقدر سستی اور detachmentکا مظاہرہ کر رہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے لگتا نہیں کہ سکینڈل کیلئے جو پلاننگ ، ٹائمنگ اور سوچ بچار درکار ہوتی ہے وہ اس کے قابل ہے۔نیب کا بیان ہے کہ اس کے خلاف سازش کی گئی ہے اور سازش فراڈیوں کے ایک ٹولے نے کی ہے۔کچھ سیانے ریکارڈنگ کی فرانزک کرانے کے مشورے دے رہے ہیں غرض جتنے منہ اس سے زیادہ باتیں ۔ ہاں اگر کوئی بول نہیں رہا تو وہ نیب کے چیر مین ہیں جن پر الزام ہے۔ لگتا ہے کہ وہ ,, ایک چپ سو سکھ ،،کے فارمولے پر عمل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں حالانکہ کئی اہل دانش ان کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ کھل کر کہہ دیں کہ جو شخص فون پر بات کر رہا ہے اور ویڈیو میں خاتون کو میز کے دوسری طرف بیٹھا کر اپنے فون پر اسکی تصاویر دیکھنے اور ان پر کمینٹری کرنے میں مصروف ہے وہ میں نہیںہوں تو معاملہ بالکل ختم ہو جائے گا۔ ابھی تک اس مفت مشورے کی شنوائی نہیں ہوئی۔
ہمارا تو خیال ہے کہ یہ اعلی شخصیات کے خلاف جو سازش کی تھیوری ہے اس میں کافی وزن ہے بلکہ ہمیں تو اسمیں یہود و نصارکا ہاتھ بھی نظر آتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے آج کل واٹس ایپ پر ڈالر کے بڑھتے ریٹ اور روپے کی گرتی قدر کو امریکہ اور اسرائیل کی سازش قرار دیا جا رہا ہے۔ کہنے کا اسے را کی سازش بھی کہا جا سکتا تھا چونکہ مودی سرکار ہمارے وزیر اعظم کی خواہش کی تکمیل میں دوبارہ قائم ہو گئی ہے تو ہم Benefit of the doubtدیتے ہو کہیں گے کیونکہ مودی پڑوسی کے گھر میں گھسنے کو تر جیح دیتا ہے لہذا وہ اپنے گھر میں رہ کر پڑوسیوں کی اعلی شخصیات کے خلاف سازشیں نہیں کرئے گا۔ وہ بیرونی طاقتیں جو ملک میں جاری ,,شاندار احتساب ،،کے عمل کو روک کرموجودہ حکومت کے ارمانوں پر خاک ڈالنا چاہتی ہیں یہ سب انکا کیا دھرا ہے کہ ایک معصوم 74سالہ تجربہ کار شخص کے پیچھے ایک خاتوں سائل کو لگا دیا۔ پہلے اس خاتون پر پرچے کٹوائے اور پھر اسے انصاف کے حصول کیلئے نیب کے آفس بھجوا دیا۔ اب سابق چیف جسٹس اور موجودہ چیر مین صاحب جن کا کام عدلیہ کے ترازو کے دونوں پلڑوں کو برابر رکھنا ہے حق، سچ، مکر فریب کے درمیان فرق کرنا، جائز اور ناجائز میں تفریق کرنا ، ظالم اور مظلوم کا عدل کے اصولوں کے مطابق فیصلہ کرنا تو ہے لیکن مقامی اور عالمی سازشوں کے پردے چاک کرنا انکے دائرہ کار میں تو نہیں آتا تو وہ کیونکر اس جال سے بچ پاتے۔ یہ آجکل specilization کا دور جو چل پڑا ہے یہ سارا فساد اسی کا ہے ایک آدمی بس ایک ہی فیلڈ میں ماہر ہے اس سے متعلقہ معاملات سے اسکا کوئی تعلق نہیں مثلا اگر کوئی ناک ، کان اور گلے کا ڈاکٹر ہے تو آپ پیٹ درد کے علاج کیلئے اس کے پاس نہیں جا سکتے۔ پیٹ درد کا علاج جس کے پاس ہو وہ آپ کی ٹوٹی ہڈی کو نہیں جوڑ پائے گا ۔ اب انصاف کی ذمہ داری لینے والے جاسوسی کی رموز سے آگاہ ہوں اور فراڈیوں کی پہچان کر پائیں یہ ممکن نہیں۔ انہی Limitationsکی وجہ سے اس قسم کی آڈیو ویڈیو بنانے والے کامیاب ہو جاتے ہیں اس بحث سے بالاتر کہ یہ اصلی ہیں یا جعلی، توجہ اس نکتے پر دینی چاہیے کہ ہمیں اپنی اعلی شخصیات کو محض ایک ہی شعبے میں نہیں بلکہ ہمہ جہت شعبوں میں ماہر بناکر مذید اعلی ہونے کا شرف مہیا کرنا چاہیے۔ مثلا کبھی جج صاحب پولیس اور تحقیقاتی اداروں کی سربراہی کرتے ہو ئے انکے طور طریقے سیکھیں ۔ پولیس افسران کبھی جج کی کرسی پر براجمان ہو کر عدل کا میزان ہاتھ میں لیں۔ آرمی سولین کے دکھ درد اٹھائے ۔ سولین آرمی کا اختیار اور آزادی Enjoyکریں۔ باقی رہ گئے سیاستدان تو یہ ایک ایسا طبقہ ہے جو کسی بھی شعبے میں جائے گا سیاست کی چالیں ہی چلے گا۔
حکومت کو ملک میں احتساب کے ,,شفاف عمل،، کو سبوتاش کرنے کے لیے کی جانے والی اس عالمی سازش کو فوراناکام بناناچاہیے۔ Vulnerableاور سچی محبت سے محروم بابوں کو femaleسائلین سے بچانے کے لیے سخت کاروائی کرنی چاہیے ۔تب ہی ان سکینڈلوں سے بچت ہو پائے گی ۔I Hope so

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.