انتہا پسند نریندر مودی ایک بار پھرو زیر اعظم منتخب

70

تحریر:صابر مغل۔۔۔
آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک اور دنیا کے سب سے بڑے انتخابات جسے دنیا بھر میں سب سے بڑا انتخابی دنگل مانا جاتا ہے میں بھارتی انتہا پسند ہندو جماعت بھارتی جنتاپارٹی نے دوری بار کامیابی حاصل کر لی یوں سابق وزیر اعظم نریندر مودی مسلسل دوسری بار پانچ سال کے لئے بھارتی وزیر اعظم ہوں گے یوں ہندو قوم پرست ملک پر ایک بار پھر مسلط ہو چکا ہے،سات مرحلوں اور تقریباً پونے دو ماہ تک جاری رہنے والے والے ان انتخابات میں بی جے پی نے راجھستان،اتر پردیش،مہاشٹرا،بہار،کرناٹکا،گجرات،مدھیہ پردیش اور دہلی میں صفایا کرتے ہوئے300اور کانگرس نے52نشستیں حاصل کیں جبکہ 543میں542نشستوں پر بھارتی جنتا پارٹی کے اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک لائنس نے349،انڈین کانگرس کے اتحاد یونائٹیڈ پروگریس الائنس نے94،اے ڈی ایم کے نے23،شیو شینا نے18اور چھوٹی پارٹیوں نے102نشستیں حاصل کیں ہیں عام پارٹی کا صفایا ہو گیا صرف ایک سیٹ حاصل کر پائی ان سمیت 15پارٹیوں کو صرف1۔1نشست پر کامیابی ملی، راہوال گاندھی نے شکست پر نریندر مودی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا عوام سب سے بڑے فیصلہ ساز ہیں کارکن اور رہنما مایوس نہ ہوں نظریاتی جنگ جاری رہے گی، دہلی میں راہول گاندی کے دفتر کو تالہ لگا دیا گیا ،عوام آدمی پارٹی کے دفتر پر بھی سراسیمگی پھیل گئی ،اس تاریخی کامیابی کے بعد ملک گیر جشن کا آغاز ہو گیا لوگ رقص کرتے سڑکوں پر نکل آئے،یہ مقابلہ ایک انتہا پسند نریندر مودی اور گاندھی و نہرو خاندان کے سیاسی وارث اور کانگرس کے سربراہ سراہول گاندھی کے درمیان تھا ،بھارت میں وزرات اعظمیٰ کے لئے 543کے ایوان میں272نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے یوں مودی ایک بار پھر پہلے کی نسبت بہتر عوای طاقت کے ساتھ پانچ سال تک بھارت پر حکمرانی کریں گے،ایگزٹ پولسر نے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ نریندر مودی جیت جائیں گے یہ اصطلاح ان نتائج کے لئے استعمال ہوتی ہے جوباقاعدہ ووٹرز سے پوچھ کر مرتب کی جائے،امکان تھا کہ بی جے پہ 280سے315تک نشستیںحاصل کر جائے گی یہی وجہ تھی کہ ان انتخابات کو مودی کے لئے ریفرنڈم قرار دیا جاتا رہا،عالمی سطع پر بری شہرت کا حامل،ملک بھر میں ہندو انتہا پسندی کو فورغ دینے والا،گجرات کاقصائی،خطے میں امن کا بد ترین دشمن ،ملک میں بے روزگاری کی شرح 1970کے بعد بلند ترین سطع پررہی ،مودی کی قیادت میں دنیا کی چھٹی بڑی معیشت ترقی کی راہ کھو چکی ،ملک میں کاشت کاری بحران،مسلمانوں سمیت ا قلیتوں پر تشدد واقعات میں اضافہ،جس کے دور حکومت میں کشمیرریاستی دہشت گردی بدترین انتہا پر پہنچ گئی،جس نے پاکستان کے ساتھ کنٹرول لائن کو جنگ میں بدل ڈالا کی مسلسل دوسری فتح ایک جانب اس کی حکمت عملی جس میں پاکستان مخالف دھواں دھار تقاریر اور قومی سلامتی بارے بڑے دعوے،مذہبی تفرقات کے پیغامات،کمزور ترین حزب اختلاف کا فائدہ اٹھا کر مضبوط ترین شخص کے طور پر ابھرا وہیں وہیں غیر ملکی طاقتوں نے اس کی کامیابی کے لئے بہت پاپڑ پیلے،اہم قومی ادارے بھی مودی کی فتح چاہتے تھے کیونکہ نریندر مودی پاکستان میں دہشت گردی اور سی پیک کے حوالے سے ان قوتوں کا سب سے بڑا معاون ہے،پاکستان پر ناکام حملے میں بھی اس کا ساتھ امریکہ اور سرائیل نے کیا جو کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں مگرجغرافیائی لحاظ سے دنیا کا اہم ترین پاکستان کو شکست دینا ناممکن ہے،ہندو انتہا پسند کی جیت پرجہاں پاکستانی عوام حیران اور تذبذب کا شکار ہے کہ اب حالات کس جانب کروٹ بدلیں گے وہیں بھارت میں اقلیت عدم تحفظ کا مزید شکار ہو گئے ہیں ، ہر واقعہ پر انڈین الزام تراشی پردہلی اور واشنگٹن ایک عرصہ سے ہم آواز ہیں،پاکستان کی پولیٹیکل فورسز ،تمام اداروں ،اسلامی ممالک کا سر جوڑنا بھی وقت کی ضرورت ہے پاکستانی قیادت در پیش چیلجنز سے غافل نہیں، اسلام آباد میں قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھی خطے کی اس صورتحال پر غور کیا گیا،انڈین نیشنل کانگرس راہول گاندھی کی قیادت میں ایک ترقی پسند اور اچھی اتنخابی مہم ہونے کے باوجود ناکام رہی،کسی زمانہ میں کانگرس پورے انڈیا کی نمائندگی کرتی تھی جس میں ہر نسل،ذات پات کے رہنماء شامل اور منشور معتدل بنیادوں پر ہوتا اب کانگرس کسی ہاری ہوئی جماعت کی شکل میں ہر وقت دکھائی دیتی ہے جس کی پہچان ایک قدیم حکمران خاندان کے ہاتھ میں ہے جو اپنا اثرو رسوخ کھو چکی ہے لاب کانگرس صرف ایک طاقتور حریف کے سامنے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے ،کانگرس کو اگر ٹھیک طرح قومی دھارے میں آنے کے لئے بہت محنت اور مستقل حکمت عملی کی ضروت ہے،2014کے عام انتخابات میں بھی مودی کی جماعت نے اکثریت حاصل کی اور68سالہ تجربہ کار سیاستدان وزیر اعظم بن گئے ان انتخابات میں بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے 336نشستیں حاصل کیں جو کسی بھی سیاسی جماعت یا الائنس کی گذشتہ 50سالوں میں سب سے بڑی کامیابی تھی تب کانگرس نے تاریخ کی بدترین شکست کے تحت صرف44حلقوں میں کامیابی حاصل کی، بھارت میں ہونے والے لوک سبھا (ایوان زیریں)کے 17ویں عام انتخابات کا اعلان الیکشن کمیشن نے مارچ میں کیا جوسات مراحل میںپونے دو ماہ کے دوران 29ریاستوں سمیت وفاقی حکومت کے علاقوں اور مقبوضہ کشمیر سے543اراکین کا انتخاب کیاگیا انڈیا میں رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد90کروڑ جن میں 43کروڑ خواتین ووٹرز،13کروڑ نئے ووٹرز کا اندراج ہواتاہم اس بار 2کروڑ کے قریب خواتین ووٹرز کا نام انتخابی فہرستوں میں نہ مل سکا،اس کو دنیا کا سب سے بڑا انتخابی دنگل کہا جاتا ہے جس پر کم از کم500ارب روپے کے اخراجات آتے ہیں بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ووٹرزکی تعداد (90کروڑ)اتنی زیادہ ہے، 10لاکھ سے زائد پولنگ سٹیشن قائم ، 39لاکھ سے زائد ووٹنگ الیکٹر ک مشینوں کا ستعمال کیا گیابھارت میں الیکٹرک ووٹنگ مشین کا استعمال 15سال قبل شروع ہوا تھاابھی تک الیکٹرک ووٹنگ مشین کا استعمال امریکہ ،برطانیہ ،فرانس،جرمنی اور نیندر لینڈ جیسے ترقی یافتہ ممالک نہیں ہے ایک الیکٹرک مشین ایک وقت میں 64امیدواروں کے2ہزار ووٹرز کا امتیاز کر سکتی ہے ،دو ہزار سیاسی جماعتوں کے8136امیدواران جن میں 700خواتین شامل تھیں نے حصہ لیا،پہلے مرحلے میں 20ریاستوں ،وفاقی انتظامی علاقوں اور مقبوضہ کشمیر کی91،دوسرے مرحلے میں آسام،بہار،چھتیس گڑھ،مقبوضہ کشمیر ،کرناٹک،مہاشٹر،مانی پور،اتر پردیش،مغربی بنگال ،پورو چھری میں95،تیسرے مرحلے میں نریندر مودی کے حلقے سمیت 15ریاستوں میں117،(4) 9ریاستوں میں71 ،پانچویں مرحلے میں 7ریاستوں میں51 اور یہ تعداد کسی بھی مرحلے کی سب سے کم تعداد ہے،چھٹے مرحلے میں6ریاستوں میں59اورآخری مرحلے میں پنجاب ،اترپردیش،مغربی بنگال ،بہار ،مدھیہ پردیش،ہماچل پردیش،جھاڑ کھنڈ اور چندی گڑھ کے 59اراکین کا انتخاب عمل میں آیا، ان انتخابات میںتقریباً 60کروڑ ہندوستانیوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، جنوبی انڈیا کی چار ریاستوں آندھرا پردیش،یلنگانا،تمل ناڈو اور کیرالہ میں بھی بی جے پی کی پوزیشن بہت مضبوط رہی،آبادی کے لحاظ سے بڑی ریاست اتر پردیش میں سب سے زیادہ 80نشستیں ہیں اس ریاست کی آبادی20کروڑ سے زائد ہے یہاں جیتنے والی جماعت بارے تصور کر لیا جاتا ہے کہ ملک بھر میں اسی کا پلڑا بھاری ہو گا،دوسری بڑی ریاست مہاشٹرا48کروڑ،تیسری بہار چوتھی آندھر پردیش ہے،میزوم ،ناگا لینڈ اور سکم ایسی ریاستیں ہیں جہاں صرف ایک ایک سیٹ ہے،دہلی سے 7اور مقبوضہ کشمیر سے6نشستوں پر انتخاب عمل میں آتا ہے،وزیر نریندر مودی نے اتر پردیش کے شہر وارانسی بنارس جبکہ راہول گاندھی نے کیرالہ کے ضلع ویاناڈواوراترپردیش کے ضلع امیتھی سے الیکشن میں حصہ لیا،راہوال اور سونیا رائے بریلی سے ایک ایک نشست پر کامیاب ہوئے میٹھی میں انہیں اداکارہ سمرتی ایرانی نے شکست سے دوچار کیا،ہیما مالنی،دیو،روی کشن،بابال سپریو ،مہیش کھیر راج ببر ،سنی دیول،ارمیلا سٹونڈ،چکر وتی پرکاش ،راج ماڈل نصرت جہاں ،گوتم گھمبیر ،سابق آرمی چیف وی کے سنگھ ،فاروق عبداللہ ،مذہبی سکالر اسدالدین اویسی ،راج ناتھ سنگھ اور امیت شاہ نے بھی کامیابی سمیٹی جبکہ محبوبہ مفتی ہار گئیں، ان انتخابات کے پہلے مرحلے میںپر تشدد واقعات میں سات افراد ہلاک ہوئے ،مودی کی جیت پر بازار حصص میں شدید تیزی آئی اور پہلی با انڈیکس 40ہزار پوائنٹس کو عبور کرگیا،مودی کی جیت کے ساتھ ہی بی جے پی کا اجلاس شروع ہو گیا کہ وہ نریندر مودی کب اور کہاں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے، تجزیہ کاروں کے مطابق راہول کی جماعت اہم مشرقی اور جنوبی ریاستوں میں انتخابات سے قبل سیاسی اتحاد بنانے میں ناکام رہی جو کہ ان کی جماعت کی کمزور سیاسی گرفت کی نشانی ہے،ریاست کیرالہ سے حکمران جماعت کے رہنماء سریندن پر240مقدمات جن میں 129سنگین نوعیت کے،کیرالہ کے ہی ڈین کیرن کاوسکی پر 204 جن میں37سنگین نوعیت کے،وارناس میںامیدوار عتیق احمد پر 80جن میں سے59سنگین نوعیت کے ہیںاسی طرح اور درجنوں امیدواران ایسے ہیں جنہوں کے مقدمات کے باوجود الیکشن میں حصہ لیا،وزیر خارجہ ششما سوراج نے اپنے پیغام میں کہا بھارتی جنتیہ پارٹی کو عظیم کامیابی سے ہمکنار کرنے پر مودی کے مشکور ہیں ،پارٹی ترجمان نے کہایہ مثبت سیاست اور نریندر مودی کی بہترین پالیسیوں کے سبب بڑا مینڈیٹ ہے،جیت پر مودی نے خطاب میں کہاہمارے اتحاد پر اعتمادہمیں منسکر المزاج بناتا ہے ہم مل کر ایک بھارت کو مضبوط بنائیں گے ترقی کریں گے ماضی کی تلخیوں کو بھلا کربھارتی ترقی کیلئے حتی کہ مخالفین کو بھی ساتھ لے چلیں گے،وزیر اعظم عمران خان نے مودی کو جیت پر مبارکباد دیتے ہوئے کہاوہ جنوبی ایشیا میں امن ،ترقی اور خوشحالی کے لئے مودی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں ،مودی نے بھی عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امن کی خواہش کا اظہار کیا دونوں ممالک کے درمیان14فروری سے شدید کشیدگی چلی آ رہی ہے،نریندر مودی کو سب سے پہلے مبارک دیتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا متاثر کن نتائج پر مبارک ہو میرے دوست نریندر،دوستی کو مزید بلندیوں پر لے جائیں گے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ،روسی صدر ولادی میر پوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ نے بھی مبارک کا پیغام بھیجا، پاک بھارت کے درمیان آئندہ تعلقات کا دارومدار بیرونی قوتوں کی مرضی مطابق ہو گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.