"رمضان۔۔۔۔اک صحت مند طرز زندگی۔۔۔۔۔”

65

تحریر:ام حسان۔۔۔
جیسے ہی قمری مہینے جمادی الثانی کا اختتام ہوتا ہے ہر طرف سے یہ الفاظ سننے کو ملتے ہیں کہ رمضان سے پہلے یہ کام کرلوں،ملنا ملانا ہے یا دور دراز سفر ہو ہر کوئی رمضان سے پہلے اپنے امور اور مشقت والے کام سر انجام دے کر فارغ ہونا چاہتا ہے تاکہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ عبادات میں وقت گزارے اور روزے کی شدت سے بچ سکے۔
رمضان اللہ پاک کا اک انعام ہے اور عملی طور پر دیکھیں تو یہ ایک صحت مند طرز حیات ہے۔
اگر ہم توازن کے ساتھ رمضان گزاریں تو ہماری اسی فیصد جسمانی تکالیف دور ہو جائیں۔
مستقل مزاجی شرط ہے۔۔۔۔!!!
پاکستانی معاشرے میں رمضان ڈٹ کر کھانے پینے،خواتین کا کچن میں چولہے کے آگے کھڑے ہونے کا مہینہ ہے۔۔۔۔۔
یہ طرز عمل سراسر رمضان کی روح کے منافی ہے۔۔۔،
یکم رمضان سے یکم شوال یعنی عید الفطر تک ہم ایک مضبوط قوت ارادی کے ساتھ ایک شیڈول کے تحت شب و روز گزارتے ہیں تو ہم جسمانی اور روحانی فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔۔۔،
اور ہمت کر کے یہی طرز حیات ہم سارا سال بھی اپنا سکتے ہیں۔
جس میں ہم نماز اہتمام کے ساتھ وقت پر ادا کرتے ہیں۔
اپنی خوراک پہ کنٹرول کر کے اپنی صحت کے مسائل سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔
سحری اور افطاری میں گھر میں موجود تمام خاندان کے لوگ ایک دوسرے سے کھانے کے دستر خوان پہ مل لیتے ہیں،گپ شپ کر لیتے ہیں۔
باقی دنوں میں بھی ایک کھانے پہ تو کم از کم پورا خاندان اکٹھا ہوسکتا ہے،اس طرح آپس میں محبتیں بڑھتی ہیں،فاصلے کم ہوتے ہیں،رمضان کی وجہ سے ہم اپنے کھانے کے اوقات سیٹ کر سکتے ہیں یعنی کھانا وقت پہ کھا سکتے ہیں،صبح جس طرح سحری میں اٹھتے ہیں اسی طرح صبح جلدی اٹھنے کا معمول بنا لیں،نماز فجر پڑھیں تلاوت کریں اور صبح جلدی ناشتہ کر لیں،ہم اگر ان معمولات پہ چلیں تو ہسپتال ویران ہو سکتے ہیں یا کم از کم ہسپتالوں کا بوجھ کم ہو سکتا ہے۔
قمری کیلنڈر کے حساب سے ایک نسل گرمی سردی خزاں اور بہار تمام موسموں کا رمضان دیکھتی ہے۔اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئیے اور موسم کیسا بھی ہو روزہ فرض ہے تو فرض ہے،اللہ کا حکم ہے کہ ہر عاقل بالغ مرد وعورت پہ روزہ فرض ہے،مسافر اور بیمار جو روزہ نہیں رکھ سکتے وہ باقی سال کے دنوں میں روزہ رکھ کر گنتی پوری کر لیں،یاد رکھیں رمضان کے روزے کا اجر و ثواب باقی دنوں کے مقابلے میں زیادہ ہے اس لئے کوشش کریں کہ روزہ رکھیں،روزہ نہ چھوڑیں۔
چھوٹے بچوں کو ہم دو گھنٹے یا آدھا دن کا روزہ رکھوا کر انھیں بھی روزہ رکھنے کی عادت ڈال سکتے ہیں تاکہ وقت کے ساتھ ساتھ جب وہ بالغ ہوں تو انھیں روزہ رکھنے میں دقت نہ ہو،اللہ ہم سب کو رمضان کے روزے رکھنے کی توفیق دے،ہمارے روزے قبول فرمائے،اور ہماری زندگی ایسی بنادے کہ ہماری موت عید جیسی ہو(آمین یارب العالمین )

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.