شاہرائیں یا موت کی راہیں ؟

119

تحریر:صابر مغل۔۔۔
گذشتہ شام سندھ کے شہر شکار پور کے قریب دو گاڑیوں کے درمیان ہولناک تصادم کے نتیجہ میں ایک ہی خاندان کے 8افراد سمیت 10افراد جان کی بازی ہار گئے،مرنے والوں میں بھران برادری کے چار بچے محمد فہد،انیلا،شکیل،یاسر ،60سالہ حاجی گلاب،40مراد،30سالہ زینب اور18سالہ یاسین بھرائی جبکہ دوسری گاڑی میں سوار نمانو سموں اورجہانزیب چانڈیو جبکہ زخمیوں میں سندھ کی ممتاز لوک گلوکارہ لیلا سورٹھ،عنصر بھرانی ،عبدالحفیظ سندھرانی،،کامران سموں،خیر بھرانی،شاہد بجرانی شامل ہیں ،یہ حادثہ شکار پور کے تھانہ کرن کی حدود میں بھیو کینال کے قریب ایک موٹر سائیکل سورا کو بچانے اور تیز رفتاری کے باعث پیش آیا اور تمام مرنے والوں کا تعلق جیکب آباد اور بلاول کے شہر لاڑکانہ سے تھا، اسی روز خانقاہ ڈوگراں روڈ پر گائوں ماہی والا کے قریب تیز رفتا ر ڈمپر نے کار کو ٹکر مار دی یہاں گائوں کڑیالہ کے تین کار سوار محمد یاسر ،مون اور نبیل موقع پر ہلاک جبکہ ایک شخص شدید زخمی ہو ا،14مئی کو کشمور کے نزدیک انڈس ہائی وے پر ٹول پلازہ پر کندہ کوٹ سے کشمور جانے والی ہائی ایس وین گیس سلنڈر پھٹنے سے شعلوں کی نذر ہو گئی اور وین میں سوار منظوراں خاتون،سرداراں خاتون،لال خاتون،ہزار خان اور معصوم بچی کائنات جل کو کوئلہ بن گئے،5مئی کو سوہاوہ ٹول پلازہ ،30اپریل کوموٹر وے پر اسلام آباد ٹول پلازہ میں گیس سلنڈر پھٹنے سے ہی 22افراد جان کی بازی ہار گئے،اسی طرح اگر پاکستان میں ہونے والے صرف بڑے ٹریفک حادثات کی ہی تفصیل بیان کی جائے تو یہ تحریر بہت طوالت اختیار کر جائے گی کیونکہ آئے روز ملک بھر کی شاہرائیں اپنی پیاس انسانی خون سے بجھاتی ہیں،نواحی مقامات او رمضافات میں مرنے والوں کا تو علم ہی نہیں ہوتا،ایک رپورٹ کے مطابق سال2018میں ٹریفک حادثات کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد36ہزار ریکارڈ کی گئی ہے بد قسمتی سے پاکستان ٹریفک حادثات کی بنا پر جنوبی ایشیا میں پہلے نمبر پر ہے، اوسطاً ہر سال 40ہزار سے زائد افراد پاکستان میں ٹریفک حادثات کی بھینٹ چڑھتے ہیں مگر تاحال انکی روک تھام کے حوالہ سے کوئی حکومتی اقدامات کہیں دور دور تک نظر نہیں آتے ،پاکستان کئی سال دہشت گردی کی بدترین لہر کی لپیٹ میں رہا ،خود کش حملوں،بم دھماکوں اور فائرنگ کے نتیجہ میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والوں کی تعداد تقریبا ً80ہزار کے قریب ہے اور صرف ایک سال ہی میں شاہرائوں پر اچانک اور تکلیف دہ موت کا نشانہ بننے والوں کی تعداد ان سے کہیں بڑھ کر ہے، چمد بڑے شہروں میں موٹر سائیکل سواروں کے لئے ہیلمٹ لازمی قرار دیاگیاباقی ملک بھر میں اس قانون پر عمل درآمد 0فیصد ہے،حادثہ کا شکار ہونے والوں یا حادثہ کا سبب بننے کی سب سے بڑی تعداد موٹر سائیکل ہی ہیں،مجموعی طور پر انسانی غلطیوں کی بنا پر ہونے والے حادثات کی شرح67فیصد ہے ان میں چاہے موٹر سائیکل ،کار ،ٹرک یا بس یا کوئی اور گاڑی ہو،موٹر وے پولیس سے قبل ملک بھر میں صرف ٹریفک پولیس اہلکار ہی ہوتے جن کا کام سوائے چند اہم مقامات کے صرف اور صرف بھتہ خوری تھااور آج بھی ملک بھر میں مجموعی طور پر یہی عالم ہے،موٹر وے پولیس نے پہلے موٹر ویز پر لوگوں کو ڈرائیونگ کا ڈھنگ سکھایا پھر یہی پولیس نیشنل ہائی ویز پر بھی تعینات کر دی گئی ،مگر کرپشن فری اس پولیس کے باوجود ٹریفک حادثات میں کمی ہونے کی بجائے زیادتی ہوئی،یہ بات کئی بار مشاہدے میں آئی ہے کہ اکثر ٹرک ،ٹریلز یا بس ڈرائیور ایک چلان کروانے کو ترجیح دیتے ہیں پھر اس روز انہیں کسی کی پرواہ نہیں رہتی اور موٹر وے پولیس کی پہلی ترجیح بھی صرف اور صرف چالان کی حد تک ہی ہے، چند روز قبل الراقم نیشنل ہائی وے۔5(جی ٹی روڈ)پر اوکاڑہ سے لاہور اے سی بس پر جا رہا تھااے سی بسوں میں کرایہ زیادہ ہونے کی بنا پر سیٹیں کھلی اور اوور لوڈنگ نہیں ہوتی مگر اب ان تمام شاہرات پر اوور لوڈنگ معمول بن چکی ہے جہاں پر موٹر وے پولیس بھی تعینات ہے،بس کو ایک جگہ روکا گیا ڈرائیور نے کنڈکٹر سے کہا انہیں بتاناگاڑی کا ڈرائیور فلاں موٹر وے پولیس انسپکٹر کا بھائی ہے کنڈکٹر واپس آیا تواس کے ہاتھ چلان کی رسید تھی ڈرائیور کے استفسار پر کنڈکٹر نے جواب دیا انہیں بتایا تھا مگر چالان کرنے والے نے کہاصرف500کا چالان کر رہا ہوں اس وجہ سے آگے کوئی پولیس اہلکار آپ کا چلان نہیں کرے گاتب اسی گاڑی کے عملہ نے ہر سٹاپ سے سواریوں سے بس کو کچھا کھچ بھر لیا بوقت کا ضیاع الگ ،چونکہ یہاں کی پبلک ٹرانسپورٹ کو اگر دنیا کی بدترین پبلک ٹرانسپورٹ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا جن میں عام آدمی روزانہ کی بنیا پر سفر کرتے ہیں اسی مجبوری کے تحت مسافر وں نے کھڑے ہو کر سفر کرنے میں ہی عافیت سمجھی ،جس ملک میں سب سے بہترین مانی جانے والی پولیس کا یہ عالم ہو وہاں حادثات نہیں ہوں گے تو اور کیا ہو گا؟عام ٹریفک پولیس بھتہ خوری میں مصروف عمل ہے تو ٹریفک قوانین پر ان کا باپ عمل کروائے گا دوسری جانب ہماری قوم ٹریفک قوانین پر عمل کرنا ہی گناہ کبیرہ تصور کرتی ہے،ملک کی بڑی شاہرائیں آج سے 20سال چار رویہ تھیں اور تاحال وہی عالم ہے،پشاور سے کراچی تک براستہ اٹک،راولپنڈی ،جہلم،گجرات گوجرانوالا،لاہور،اوکاڑہ ،ساہیوال، خانیوال ،ملتان ،بہاولپور، رحیم یار خان اور پھر آگے سندھ کے سکھر ،گھوٹکی ،نواب شاہ حیدر آباد وغیرہ تک مین شاہراہ جیسی پہلے تھی اب بھی ویسی کی ویسی ہی ہے،جگہ جگہ ٹول پلازوں کی مد میں صرف اسی ایک شاہراہ سے روزانہ اربوں روپے حاصل ہوتے ہیں مگر نیشنل ہائی وے کے پرانے او رموجودہ چیرمین کو اس منصوبہ بندی کی توفیق نہیں ہوئی کہ اس اہم ترین اور پاکستان کی مرکزی شاہراہ کو ہی تین تین رویہ کر دیا جائے ،ایسا ہی کچھ ملک بھر تمام اہم شاہرات کا ہے،باقی چھوٹے شہروں کی انٹرلنک سڑکیں بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور یہی ٹوٹ پھوٹ حادثات کی ایک بڑی اور اہم وجہ ہے جو انسانی جانوں کو نگلنے کا روزانہ فریضہ انجام دیتی ہیں،کئی سڑکیںتو ایسی ہیں جن پر سفر کرنا نا ممکن ہے مگر مجبوری میں سب کچھ کرنا پڑتا ہے،کم از کم10سال سے ان کی مرمت تک نہیں کی گئی ،اس نوعیت کی کئی سڑکیں صرف کاغذات اور بلوں کی ادائیگی تک تو محدود ہیں مگر ان کا نام و نشان تک نہیں،صدر دیپالپور پریس کلب چوہدری محمد اشفاق کے مطابق اوکاڑہ سے دیپالپور جانے والی سڑک کو خونی سڑک کا نام دیا جا چکا ہے اس اہم ترین گذر گاہ پر فیصل آباد ،جھنگ سمیت دیگر علاقوں کے مسافروں کے علاوہ اوکاڑہ سے پاکپتن ،حویلی لکھا ہیڈ سلیمانکی ،بہاولنگر،بصیر پور،حجرہ شاہ مقیم ،منڈی احمد آباد اور قصور جانے کے لئے یہی (دیپالپور روڈ )واحد سڑک ہے،دیپالپور سے آگے تحریر کردہ تمام شہروں اور قصبوں کے لئے الگ الگ سڑکیں ہیں اس سے سڑک کی مصروفیت کا نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے،چند قبل فیصل آباد اندرون شہر جانے کا اتفاق ہوا جگہ جگہ ٹریفک وارڈن تعینات ہونے کے باجود ٹریفک کی روانی میں اونٹ کی طرح کوئی ۔کل ۔سیدھی نہیں جدھر جس کا دل چاہے ادھر سے موٹر سائیکل یا کار وغیرہ لے جا رہا ہے،ایک گاڑی کے ڈرائیور سے پوچھنے پر علم ہواکہ یہ ٹریفک وارڈن صاحبان صرف شکار تلاش کر کے چالان کرنے میں مصروف رہتے ہیں ٹریفک کی روانی سے ان کو کوئی سروکار نہیں،پاکستان میں چنگ چی جیسی تاریخی سواری ،ناقص ترین گیس سلنڈروں سے لدی ویگنیں،اقساط پر موٹر سائیکلز کی بہتات ،پاکستان میں اسمبل ہونے والی کاریں جو قیمت کے لحاظ سے تو یوں ہیں جیسے ان جیسی دنیا میں اور کوئی گاڑی نہیں حالانکہ انہی کمپنی کی تیار گاڑیاں دیگر ممالک میں ایسے ٹین کا ڈبہ نہیں ہوتیں وہاں اگر کوئی حادثہ رونما ہو جائے تو گاڑی میں نصب ائیر بیگ آٹو میٹک کھل کر سوار کی جان کو محفوظ بنا دیتا ہے، پاکستان میں ان سڑکوں کو از سر نو تعمیر یا کشادہ کیا جاتا ہے جس کی ضروت دس سال پہلے تھی جبکہ دنیا بھر میں ہر نئے منصوبے کو کم از کم آئندہ پچاس سال تک کا خیال رکھ کر تیار کیا جاتا ہے،پاکستان میں جہاں دس بیس سال پہلے کسی ون وے سڑک کی ضرورت تھی اسے اب تعمیر کیا جا رہا ہے ،ہمارے اداروں میں بہت قابل قابل اور مہنگے مہنگے لوگ اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہیں مگر آج تک نہ کسی افسر کا نہ کسی سیاستدان کا نہ کسی حکمران کا دھیان اس جانب گیا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر بڑھتے حادثات کی روک تھام کیسے کی جائے ؟ عوام کو ایسے موت کی شاہرائوں پر نہ دھکیلا جائے ،گیس سلنڈروں کی وجہ سے آگ کا ایندھن بنایا جائے یہ انسان ہیں کوئی جانور تو نہیں ،موٹر وے پولیس،سٹی پولیس،ضلعی ٹریفک پولیس اپنے اپنے معامالات پر نظر ثانی کریں اور حکمران موت کی ان راہوں کو ترجیحی بنیادوں پر درست اور ضرورت کے مطابق تیار کرائیں،آج صبع ہی فیصل آباد کے قریب موٹر وے پر ایک حادثہ میں مزید دو افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.