کاغذ کے محل

4,070

تحریر: آئمہ محمود۔۔۔
ایک average کنبے میں اہل خانہ کی ضروریات کی دیکھ بھال، یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی، Groceries،تعلیم، علاج، ٹرانسپوٹ اور مہمان نوازی جیسے بنیادی معاملات کو manageکرنا خاص طور پر موجودہ بد ترین معاشی حالات میں جہاں بجٹ کو ترتیب دیتے ہوئے سو بار سوچنا پڑتا ہے پچاس جگہوں پر کٹوتیاں کرنے کے باوجود اخراجات آمدن سے کئی گنا بڑھ جائیں تو گھر چلانا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے ایسے موحول میں22 کروڑ عوام کے ملک کو چلانے والے وزیراعظم جب یہ فرماتے ہیں کہ ,, حکومت کرنا بہت آسان ہے ،، تو آپ ششدر نہ رہ جائیں تو کیا کریں؟
ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ اگر گھر چلانا عوام کی اکثریت کیلئے لوہے کے چنے چبانے جیسا ہو گیا ہے تو معاشی طور پر بحران کے شکار ملک کو چلانا کیونکر آسان ہے ؟ بحرحال جس طرح حکومت چل رہی ہے اس تو لگتا ہے واقع ہی بہت آسان ہے ۔ معاشی چلنجز IMFکی ہدایت کے مطابق اقدامات کرکے حل کرنے کی کوشش انھیں کے نامزد کردہ تجربہ کار مشیر کر رہے ہیں۔ بے وقت کی بارشوں سے کسانوں کو ہونے والے ناقابل برداشت نقصان حکومت کی لاپرواہی اور بے خبری کی نظر ہے۔ مہنگائی کا سونامی تمام ریکارڈ توڑ چکا،پاکستانی کرنسی خطے میں سب سے نیچلی سطح پر آگئی ، بے روزگاری اور غربت میں پاکستان تنزلی کی کئی منزلیں طے کر چکا، حکومتی اداروں کی بدحالی بھی عروج پر ہے لیکن عوام کو ہدایت کی جارہی ہے ,,گبھرانا نہیں ہے ،، اس پر تو صرف یہی کہا جا سکتا ہے
جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لو لوگ لگتے ہیں پریشان ذرا دیکھ تو لو
وزیر ریلوے نے اطلاع دی کہ دو سال بعد حالات ٹھیک ہو جائیں گے لیکن یہ نہیں بتایا کہ کس کے حالات ؟ اب آپ ہی بتائیں کہ جو کچھ حکومت کر رہی ہے کیا یہ سب کرنا مشکل ہے ؟بالکل اسی طرح اگر اپوزیشن سے سوال کیا جائے کہ حکومت کرنا آسان یا اپوزیشن کرنا؟ تو ہمیں امید ہے کہ وزیر اعظم کی طرح ان کا جواب بھی یہی ہو گا کہ اپوزیشن کرنا بہت آسان ہے۔ کیونکہ حکومت کی طرح اپوزیشن نے بھی کچھ نہ کرنے کی ٹھان رکھی ہے اور وہ بھی بے حد آسانی اور تسلی کے ساتھ اپنے معاملات سے نپٹنے میں مگن ہے ۔ اب چاہے ادویات کی قیمتیں 200سے 400فیصد بڑھ جائیں، پیٹرولیم موصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہی اضافہ ہو ۔ ڈالر کی پرواز بلند سے بلند ترین ہو جائے لیکن اپوزیشن ٹی وی پر بیانات جاری کرنے سے آگے نہیں بڑھ پا رہی۔ اب اس شدید گرمی اور اقتدار سے محرومی کے غم سے باہر آئیں تو کچھ بات ہو ۔ لیکن دیکھ لیں رمضان کے با برکت مہینے کا کرم کہ حزب اختلاف کا سکتہ ختم ہوا اور ہوش میں آتے ہی بلاول بھٹو نے تمام اپوزیشن پارٹیز کو افطار کی دعوت دے دی۔ دعوت افطار کو وصیلہ ثواب مانتے ہوئے حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے موقعہ غنیمت جانااور دعوت قبول کر لی۔اپوزیشن اپنے اس اکٹھ پر بہت محتاط انداز اپنائے ہوئے تھی ۔دھیمہ دھیمہ ڈرا ڈراسا رویہ تھا تمام سیاسی جماعتوں کا یا شائد ہدایات ہی ایسی تھیں۔ لیکن آفرین ہماری حکومت کے اس دعوت افطار پر ان کا جلال دیدنی تھا 22سال تک اپوزیشن میں رہنے والی حکومت خوب متحرک نظر آئی۔وزیر ہوں یا مشیر سب زوروشور سے اس افطار اکٹھ کی پبلسٹی پرمامور تھے۔ موقعہ چاہے کوئی بھی ہولیکن حکومتی نمائندوں کی زبان پر صرف دعوت افطار اور اس کے اثرات ہی تھے۔ لگتا تھا کہ بلاول کو احساس دلایا جا رہا تھا کہ اپوزیشن کا یہ اجلاس تحریک انصاف کی شمولیت کے بغیر ادھورا ہے۔ ارے بھئی 22سالہ اپوزیشن کے تجربے کی کچھ تو قدر ہو نی چاہیے۔ حکومتی نمائندوں کے جاہوجلال اور دھواں دار بیانات سے ہمیں یہ اندیشہ ہونے لگا تھا کہ حزب اختلاف حکومت کے خلاف خطرناک عزائم رکھتی ہے تب ہی تو حکومت اتنی آگ بگولہ ہو رہی ہے لیکن یہ کیا جناب حکومت کے ساتھ ساتھ اس افطار پارٹی نے عوام کو بھی مایوس کیا اور صرف آل پارٹی کانفرنس کی خوش خبری دی اور ہمیں یہ خوشخبری وزیر اعظم کی گذشتہ ماہ دی جانے والی تیل و گیس کے ذخائر کی good newsجیسی ہی لگتی ہے۔ کروڑوں ڈالر صرف کرنے کے بعد پتہ چلا کہ کوئی کوشخبری نہیں ہے۔ کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑ ابارہ آنے۔ حکومت اور اپوزیشن کی خوشخبریوں اور آسانیوں نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے اور اس سب کے بعد عوام ہی سے قربانی کا مطالبہ ہے۔عوام سے صبر اور قربانی کے تقاضے پر جاوید اختر صاحب کی نظم یاد آگئی جیسے ہم حکمرانوںکی نظر کرتے ہیں۔
کسی کا حکم ہے کہ ساری ہوائیں ہمیشہ چلنے سے پہلے بتائیں کہ ان کی سمت کیا ہے کدھر جا رہی ہیں
ہواوں کو بتانا یہ بھی ہو گا چلیں گی جب تو کیا رفتار ہو گی کہ آندھی کی اجازت اب نہیں ہے
ہماری ریت کی سب فصیلیں، یہ کاغذ کے محل جو بن رہے ہیں
حفاظت کرنا ان کی ضروری اور آندھی ہے پرانی ان کی دشمن ،یہ سبھی جانتے ہیں۔
کسی کا حکم ہے دریا کی لہریں ذرا یہ سرکشی کم کر لیں اپنی حد میں ٹھریں
ابھرنا پھر بکھرنا، بکھر کر پھر ابھرنا
غلط ہے ان کا یہ ہنگامہ کرنا
یہ سب ہیں صرف وحشت کی علامت ، بغاوت کی علامت
بغاوت تو نہیں برداشت ہو گی ، یہ وحشت تو نہیں برداشت ہو گی
اگر لہروں کو ہے دریا میں رہنا تو ان کو ہو گا اب چپ چاپ بہنا
کسی کا حکم ہے اس گلستان میں بس ایک رنگ کے ہی پھول ہوں گے
کچھ افسر ہو ں گے جو اب یہ طے کریں گے ،گلستان کس طرح بننا ہے کل کا
یقینا پھول یک رنگی تو ہوں گے مگر یہ رنگ ہوگا کتنا گہرا کتنا ہلکا
یہ افسر طے کریں گے
کسی کو یہ کوئی کیسے بتائے گلستان میں کہیں بھی پھول یک رنگی نہیں ہوتے
کبھی ہو ہی نہیں سکتے کہ ہر رنگ میں چھپ کر بہت سے رنگ رہتے ہیں
جنھوں نے باغ یک رنگی بنانا چاہے تھے ان کو ذرا دیکھو
جب ایک رنگ میں سو رنگ ظاہر ہو گے ہیں تو اب وہ کتنے پرشیاں ہیں وہ کتنے تنگ رہتے ہیں
کسی کو یہ کوئی کیسے بتائے
ہوائیں اور لہریں کب کسی کا حکم سنتی ہیں
ہوائیں حاکموں کی مٹھیوں میں ، ہتھکڑی میں، قید خانوں میں نہیں رکتی ۔
یہ لہریں روکی جاتی ہیں تو دریا کتنا بھی ہو پر سکون بے تاب ہو تا ہے
اس بے تابی کا اگلا قدم سیلاب ہوتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.