قمر زمان کائرہ کی زندگی اجڑ گئی

199

تحریر: صابر مغل۔۔۔
سیانے کہتے ہیں کہ قسمت کا وار لمحاتی ہوتا ہے ایسے لمحاتی وار انسان کی زندگی کو ننھے سے دائرے میں سمیت دیتا ہے،وہ لمحہ ہی ہوتا ہے جب کوئی حادثہ انسان کو جان سے گذار سکتا ہے ایسا ہی ایک لمحہ مستقبل کو یکسر بدل دیتا ہے یہی لمحہ کسی کو زمین کی پاتال اور اتھاہ گہراہیوں میں دفن کر دیتا ہے ایسا ہی کچھ پاکستان کے اس سیاست دان کے ساتھ ہوا جس کی سیاسی زندگی میں کوئی داغ نہیں انتہائی ملنسار ،ہنس مکھ،دکھ درد کا سانجھا ،ہر ایک کی عزت کرنے والا،تمام قومی امور پر ہمہ وقت دسترس رکھنے والے قمر الزمان کائرہ کے ساتھ ہوا جو اس لمحے دیگر پارٹی رہنمائوں کے ساتھ زرداری ہائوس اسلام آباد کے باہر میڈیا کو پارٹی پالیسی سے متعلق بریفنگ دینے میں مصروف تھے کہ اس دوران ایک قابل ترین صحافی نے انہیں خبر دی کہ ان کے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہو گیا پریس کانفرنس کو قمر الزمان کائرہ نے شکریہ کے ساتھ ملتوی کر دیا اور پیچھے کو مڑ گئے، گھر کال کر کے حالات معلوم کئے تو انہیں علم ہوا کہ ان کی تو زندگی ہی اجڑ گئی ہے، تین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا اور لاڈلا بیٹا اسامہ قمر کائرہ اس دنیا سے جا چکا تھا،قمر زمان کائرہ فوری اسلام آباد سے گھر کے لئے روانہ ہوئے ان کے ساتھ،نیر بخاری ، چوہدری منظور احمد، مصطفے نواز کھوکھر اور زمرد خان بھی لالہ موسیٰ روانہ ہوئے، الراقم اس وقت اتفاق سے ٹی وی پر ان سیاسی رہنمائوں کی میڈیا بریفنگ دیکھ رہا تھا،بریفنگ کے دوران قمر الزمان روائتی انداز سے ہٹ کر اس روز الجھے الجھے سے نظر آ رہے تھے ان کے چہرے پر وہ تازگی نہیں تھی جو اکثر ان کا خاصہ ہوتی ہے ان کی پیشانی پر کچھ تفکر سا نمایاں تھاکیا خبر تھی کہ آنے والے حالات ان کے لئے کس قدر قیامت خیز ہوں گے جو ان کی دنیا ہی بدل ڈالیں گے لاشعوری طور پر کوئی تحریک ان کے اندر کلبلا رہی تھی،کہتے ہیں سب تقدیر اس طرح گھیرا ڈالتی ہے تویقیناً کچھ نہ کچھ انہونی رونما ہونے کو ہوتی ہے تو انسان میں کوئی نہ کوئی ایسی تبدیلی ضرور رونما ہو جاتی ہے جس کا اسے خود اندازہ نہیں ہوتا ،یہی وہ لمحہ تھاجب ان کا لاڈلہ اسامہ اپنے دوست محلہ کریم پورہ کے رہائشی قاسم عرف سعد بٹ جو اسامہ کے ساتھ ہی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پڑھتا ہے کے ساتھ گاڑی نمبرایل بی 447 پر گھر سے نکلا اور صرف ایک کلومیٹر دور اپنے ہی پٹرول پمپ کے سامنے ایک موٹر سائیکل سوار کو بچانے کی کوشش میں اس کی گاڑی فٹ پاتھ کے ساتھ درخت سے جا ٹکرائی ،سی سی ٹی وی فوٹو کے دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ ان کی گاڑی کو جیسے کسی نے اٹھا کر درخت سے دے مارا ہے،حالانکہ اسامہ قمر گاڑی کو ہمیشہ ایک حد میں رکھ کر چلاتا تھا مگر اس روز نہ جانے اسے کیا جلدی تھی جس نے قیامت برپا کر دی ،اسامہ قمر موقع پر اللہ کو پیارا ہو گیا جبکہ اس کے دوست کو ذزخمی حالت میں ٹراما سنٹر پہنچایا گیا مگر وہ بھی فوری دم توڑ گیا، درخت کے ساتھ ٹکرائو کے بعد گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی دونوں دونوں دوستوں کو گاڑی کاٹ کر باہر نکالا گیا،حادثہ کی طلاع ملتے ہی 1122اور موٹر وے پولیس کے علاوہ سارا لالہ مواسیٰ امڈ آیا ،اسامہ قمر کی موت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح علاقہ بھر میں پھیل گئی اور تمام قریبی شہروں کھاریاں،ڈنگہ ،گجرات اور گردو نواح سے ہزاروں لوگ کائرہ ہائوس پہنچ گئے،پیپلز پارٹی نے ملک بھر میں ہونے والی تمام سیاسی سرگرمیاں معطل کر دیں،اسامہ قمر گونمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں بی ایس آنر میں فرسٹ ائیر کا سٹوڈنٹ تھا 27مئی کو شروع ہونے والے امتحانات کی وجہ سے گھر آیا ہوا تھا کیا پتا تھا کہ وہ اپنے حقیقی گھر ہی لوٹ جائے گا،قمر الزمان کائرہ گھر پہنچے کو وہاں پہلے ہی کہرام برپا تھا جس میں مزید شدت آ گئی ،مگر اسے یہ سب برداشت کرنا تھا اور اس نے کیا،مگراپنے سب سے پیارے اورلاڈے بیٹے کا لاشہ دیکھ کر ان کی سوچ کا عالم کیا ہو گا،یہ سب کیسے دیکھا ہو گایہ وہی جانتا ہے جس پر ایسا کرب گذرتا ہے قمر الزمان ایک صاحب نظر اور روشن نظریات کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک باپ بھی تھا اور باپ تو باپ ہی ہوتا ہے جس کا مطالعے،مذہب،نظر اور روشنی سے کیا واسطہ؟ ،مگر قمر الزمان کو اندازہ نہیں تھاکہ تقدیر اس کے ساتھ کیا کھیل کھیل جائے گی جو اسے دیکھتے ہی دیکھتے سوچوں کی لاچار وادیوں میں گھسیٹ لے جائے گی عام آدمی دیکھنے میں ایک نظر آتا ہے مگر اس میں اور بہت سے بسے ہوتے ہیں جن سے مل کر ہی انسان کی تکمیل ہوتی ہے ،دوسرے روزتین بجے جی ٹی روڈ پر ڈیرہ کائرہ سے ملحقہ لنک سکول کے گرائونڈ میں اسامہ قمر اور اس کے دوست جو اگلے جہان بھی اسی کے ہمراہ گیا کی نمازہ جنازہ ادا کی گئی ،یہ نماز جنازہ اس علاقے کا سب سے بڑا ہو گاجس میں سابق صدر آصف علی زرداری،بلاول بھٹو زرداری،اعتزاز احسن،گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور،وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ،سید خورشید شاہ ،معاون خصوصی وزیر اعظم عثمان ڈار،صوبائی وزیر اطلاعات سید صمصام بخاری،سید یوسف رضا گیلانی ،راجہ پرویز اشرف،رحمان ملک،رانا محمد اقبال ،خرم نواز گنڈا پور،رانا ثنا ء اللہ ،نذر محمد گوندل،نوابزادہ غضنفر گل،میاں افضل حیات،میاں منظور وٹو،غلام احمد بلور،دانیال عزیز،ندیم افضل چن،نثار کھوڑو، شیخ رشید احمد،غلام سرور خان،چوہدری جعفر اقبال ،سابق چیرمین نیب چوہدری قمر زمان،سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ ذوالقرنین،شاہ اویس نوارانی،احسن بھون،لطیف کھوسہ،چوہدری عابد رضا کوٹلہ،حنیف عباسی ،چوہدری مظہر ریاست گجر،چوہدری طارق علی بجیران،چوہدری نصر گجر،چوہدری ندیم ریاست،ندیم ساجد مغل سمیت نامور سیاسی و سماجی شخصیات سمیت ملک بھر سے ہزاروں افراد نے شرکت کی ہر شہر قصبہ و دیہات میں پارٹی کارکنوں نے تعزیتی اجلاس منعقد کئے،نمازہ جنازہ میں اس قدر لوگوں کی آمد تھی کہ جی ٹی روڈ دو گھنٹے تک بند رہا،اسامہ قمر کائرہ اور اس کے دوست کی ناگہانی موت پر علاقہ کی فضا مکمل طور پر سوگوار ہے،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی،وزیر اعظم عمران خان،چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ،ڈاکٹر طاہر القادری،شہباز شریف،چوہدری شجاعت حسین،چوہدری پرویز الہٰی ،چوہدری مونس الہی ،سراج الحق،امیر العظیم ،لیاقت بلوچ،فواد احمد چوہدری،برگیڈئیر (ر)اعجاز شاہ،فرودس عاشق اعوان،مخدوم سید احمد محمود،قائم علی شاہ ،شیری رحمان،محمود الرشید،جہانگیر ترین،قاسم سوری،مریم نواز شریف،احسن اقبال ،شاہد خاقان عباسی ، عارف نظامی ،امتنان شاہد،ڈاکٹر جبار خٹک،صدر نیشنل پریس کلب شکیل سمیت تمام عہداران ،وحید ڈوگر ریجنل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی سیکرٹری جنرل عابد مغل ،رائے علی اکبر کھرل،رائے منور علی کھرل سمیت قمر الزمان کائرہ کے سیاسی حلف،حریف ،سیاسی ،سماجی شخصیات،صحافی اور عام افراد سبھی نے قمر الزمان کائرہ کے ساتھ اس نا قابل تلافی نقصان پر انتہائی دکھ اور صدمے کا اظہار کیا،اسامہ قمر کی اچانک حادثاتی موت پر ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے سوشل میڈیا پر بھی بلا تفریق انتہائی دکھ کا اظہار کیا جبکہ یوں اطلاع دینے پر ذمہ دار صحافی کے حوالے سے بھی کئی سوالات نے جنم لیاجو موضوع بحث رہے،قمرا لزمان ایک انتہائی شفیق انسان ہیں ان سے لالہ موسیٰ،ساہیوال اور منسٹر انکلیو میں میں متعدد بار ملنے کا اتفاق ہوا وہ میرے دوستوں چوہدری مظہر ریاست گجراور چوہدری طارق بجیران کے قریبی عزیز ہیں ،اسامہ قمر کائرہ سے بھی چند سال قبل ان کے ڈیرہ پر مختصر سی ملاقات ہوئی بالکل باپ کی طرح ۔اللہ پاک اسامہ اس کے دوست کی مغفرت فرمائے اور قمر الزمان ،ان کے بھائیوں ،اسامہ کے ماموں چوہدری ضیا الدین سمیت تمام اہل خانہ کو یہ المناک غم برداشت کرنے کی ہمت عطافرمائے ۔آمین۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.