دوستی کا قرض اور خواتین

4,022

تحریر:آئمہ محمود۔۔۔۔۔خواتین جو ملک کی آدھی آبادی ہیں انھیں مکمل تحفظ حاصل ہو ، وہ اپنے فیصلوں میں خود مختار ہوں ، تعلیم، علاج اور روز گار میں انھیں صنف کی بنیاد پر امتیاز ی رویوں کو نہ جھیلنا پڑے، گھر میں گھر سے باہر، تعلیمی اداروں اور کام کی جگہ پر انھیں کسی قسم کی ہراسگی اور تشدد کا سامنا نہ کرنا پڑے، ان کے خلاف ہونے والے جرائم کے خاتمے کیلئے موثر قوانین اور انکے اطلاق جیسے مطالبات کیلئے قیام پاکستان سے لے کر آج تک خواتین اپنی آواز بلند کرتی رہی ہیں۔ خواتین کی یہ تحریکیں شعوری اور لا شعوری طور پر مختلف پس منظر، نقطہ نظر اور perspectiveکے زیر اثر رہیں ہیں۔ جویقینا کوئی غیر معمولی بات نہیں لیکن صورتحال اسوقت alarmingہو جاتی ہے جب وہ خواتین کے حقیقی ایشوز سے دوری اختیار کر لیں ۔کچھ ایسا ہی تب محسوس ہوا جب اس سال مارچ میں مختلف شہروں میں ہونے والے عورت مارچ میں کچھ ایسے جملے پلے کارڈ زکی شکل میں سامنے آے جو چند خواتین کے مسائل تو ہو سکتے ہیں اور ان پر توجہ مبذول کرانا بالکل legitimateہے لیکن پرابلم تب ہو تی ہے جب اس طرح کے نعروں سے 95فیصد خواتین کو درپیش زندگی و موت جیسے معاملات پس پشت ہو جاتے ہیں۔ لیکنجبملک کی سیاست ، حکومت اور نوکر شاہی پانچ فیصد کے ہاتھ میں ہو تو انکے لیے یہ سمجھنا نا ممکن تو نہیں ہاں مشکل ضرور ہے کہ اکثریت کن حالات میں زندگی کے دن پورے کر رہی ہے ۔ اس بات کا اندازہ ایک بار پھر تب ہوا جب گذشتہ ماہ پاکستانی اور بین لاقوامی ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں اور رپوٹس شائع اور نشر ہوئیں جن میں بتایا گیا کہ پاکستانی خواتین کو شادی کے نام پر چین سمگل کیا جا رہا ہے اور وہاں انھیں جسم فروشی پر مجبور کیا جا رہا ہے اور جسمانی اعضا نکال کر فروخت کیے جا رہے ہیں۔فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی کے فیصل آباد ریجن نے شکایات پر کاروائی کرتے ہوئے ایک خاتون سمیت آٹھ چینی باشندوں اور ان کے پاکستانی سہولت کاروں کو گرفتار کیا۔اس کے بعد مذید کئی گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ چین سے واپس آنے والی لڑکیوں نے جو حالات بیان کیے ہیں ان کو سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اپنی شادی کا ذکر کرتے ہوئے ایک لڑکی نے بتایا کہ چرچ سے تعلق رکھنے والے فرد اور پادری صاحب نے اس رشتے کے بارے میں بتایا تھااسی طرح دوسری لڑکی نے بھی بتایا کہ مدرسے کے مہتمم نے رشتے کے لیے والد سے رابطہ کیا تو نو مسلم چینی باشندے سے شادی ثواب کا ذریعہ تصور کرتے ہوئے ہاں کر دی گئی۔
خواتین کو درپیش مسائل اور ان پر ہونے والے مظالم کے لیے غربت، رسم و رواج، صنفی تفریق، طبقاتی نظام، تعلیم سے محرومی ،مذہب کے نام پر استحصال اور حکومتوں کی نااہلی کوذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن ان سب مسائل کی بنیاد حکومتی نا اہلی اور عدم دلچسپی ہے۔ کم عمری کی شادی کے حوالے سے قانون سازی کے بل کی مخالفت حکومتی جماعت اور خاص طور پر وزرا نے کی اور دھمکی دی کہ اگر یہ بل منظور ہوا تو وہ استعفا دے دیں گے۔ ایک خاتون وزیر کے علاوہ کوئی بھی اس بل کی حمایت میں سامنے نہیں آیا ۔ اس رویے سے حکومت کی بچیوں اور خواتین کے تحفظ کے حوالے سے غیر سنجیدگی کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں خواتین چین لیجائی جا رہیں تھیں لیکن نہ تو پاکستان اور نہ ہی چین کی حکومت نے اس پر کوئی توجہ دی جب تک میڈیا میں اس سنگین جرم کے بارے میں شواہد اور متاثرین سامنے نہ آئے تھے دونوں ملکوں کی حکومتوں کو اس انسانی سمگلنگ کی بھنک تک نہ ہوئی یا ان کو اس کی پرواہ ہی نہ تھی؟یہ ایک خوفناک جرم جو میڈیا کی بدولت سامنے آیا حکومتی اداروں کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کیا یہ واقعہ ہمارے اداروں کی بے حسی اور فرائض کی ادائیگی میں غفلت کی نشاندہی کے لیے کافی نہیں؟سی پیک کے نام پر نہ جانے اور کتنے سائیڈ بزنس چل رہے ہیں جن پر ہماری حکومتیں آنکھیں بند کیے بیٹھی ہیں۔ کیا صرف ہماری نوجوان لڑکیاں ہی سمگل ہو رہی ہیں؟کیا صرف چند افراد کی گرفتاریاں ان جرائم کی روک تھام کے لیے کافی ہیں؟ غربت کو جواز بنا کر اپنی 6سے 9 سال کی بچیوں کو گھریلو ملازم بنانے والے کیا چین میں نوکری کے جھانسے اور دو یا تین لاکھ ر وپے عوض
اپنے بچوں کو وہاںبھیجنے سے گریز کریں گے؟پاکستان میں چینیوں کے تحفظ کے لیے فکر مند حکومت کیا ان کی سرگرمیوں پر نظر نہیں رکھ سکتی ؟ چرچ اور مدرسوں کی انسانی سمگلنگ میں involvementپر مذہبی اور سیاسی جماعتیں خاموش کیوں ہیں؟ کیاپاکستانی قانون کے تحت چینی باشندوں کے خلاف کاروائی کے حوالے سے کسی مثبت پیش رفت کی امید کی جا سکتی ہے ؟
واپس آنے والی خواتین کی بحالی اور تحفظ کے لے اب تک کوئی حکومتی بیان سامنے کیوں نہیں آیا؟ ان بے شمار سوالوں کے ساتھ ایک بار پھر پاکستان میں خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کو بھی سوچنا ہو گا کہ حقوق کی یہ جدوجہد کیسے کھانا گرم کرنے اور موزے کی تلاش میں گم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔لالچ ، ہوس اور بدعنوانی کے لیے غریب ہونا ضروری نہیں ۔بلکہ یہ خوبیاں اس ملک کے حکمرانوں ، سرمایاداروں ،جاگیر داروں اور ا فسر شاہی میں بااتم پائی جاتی ہیں۔ تب ہی تو نئے پاکستان میں خواتین کی فیصلہ سازی میں شمولیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ووٹ ڈالنے ، ڈرئیوانگ لائسنس ، گواہی کے لیے تو عمر 18سال لیکن شادی لے لیے عمر 18سال مقرر کرنے پر وزیر بھڑک جاتے ہیں اور نام نہاد اعلی تعلیم یافتہ افسران اپنی نظروں کے سامنے ہونے والے سنگین جرائم پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور والدین اپنے حالات میں بہتری اور ذمہ داریوں سے بری ذمہ ہونے کی سوچ کے ساتھ اپنی بچیوں کو اجنبی افراد کے ساتھ دور دراز ملکوں روانہ کر دیتے ہیں۔ ان بے رحم حالات میں مشیر خزانہ نے عوام کو آئی ایم ایف سے قرضے کی منظوری کی خوشخبری سنائی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ بجلی اور گیس مہنگی ہو گی ۔ مارکیٹ کے ذریعے ایکسچینج ریٹ کا تعین کیا جائے گا۔ پیٹرولیم موصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرنے والے اداروں کو خودمختار کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا گیا ان شاندار اقدامات کے بعد بقول مشیر خزانہ غریب و پسماندہ طبقات کا تحفظ ہو گا۔ اس تحفظ کی آس کے ساتھ آنے والے حالات میں کہیں ایسا نہ ہو کہ چینیوں کو انسانی سمگلنگ کے لیے شادی کرنے کا ڈرامہ بھی نہ کرنا پڑئے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.