تیز رفتاری پر کبوتر کاچالان

102

برلن(ویب ڈیسک)جرمنی میں قانون شکنی کا ایک ایسا حیرت انگیز واقع پیش آیا کہ پوری دنیا حیران ہوگئی،جب سے کبوتر کی طرف سے اسپیڈ لمٹ کراس کرنے کی خبر منظرعام پرآئی ہے ہر طرف ایک نئی بحث چھڑی ہوئی ہے ،جرمنی کے مغربی قصبے بسولٹ میں یہ ایک پرسکون سہہ پہر تھی، جب ایک تیز رفتار کبوتر کی پھڑپھڑاہٹ نے سڑک پر چھائے ہوئے سکوت کو توڑ دیا۔کبوتر رہائشی علاقے میں 45 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر اڑ رہا تھا حالانکہ سڑک کے کنارے صاف لکھا ہوا ہے کہ آپ یہاں تیس کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے گاڑی نہیں چلا سکتے۔پھر کیا تھا، موبائل کیمرے نے ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کرنے والے اس کبوتر کی تصویر اتار لی۔مقامی حکام نے یہ تصویر گذشتہ ہفتے انٹرنیٹ پر چڑھا دی جس کے بعد اسے ہزاروں لوگ دیکھ چکے ہیں اور اس لا پرواہ کبوتر کی حرکت پر تبصرے کر رہے ہیں۔
مقامی قوانین کے مطابق اگر کوئی ڈرائیور رہائشی علاقوں میں تیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی حد توڑتا ہے تو اسے 25 یورو جرمانہ ہو سکتا ہے۔
یہ عجیب واقعہ ہوا تو اس سال فروری میں تھا، لیکن سرکاری حکام کا کہنا تھا کہ انھیں موبائل کیمروں سے لی جانے والی تصاویر کا جائزہ لینے میں وقت صرف کرنا پڑا جس کی وجہ سے کبوتر کی تصویر منظر عام پر آنے میں دیر ہو گئی۔
حکام کہتے ہیں کہ وہ مقررہ حد سے تین کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی تیز رفتاری کو نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن یہ کبوتر تو مقررہ حد سے 12 کلومیٹر فی گھنٹہ زیادہ کی رفتار پر اڑتا جا رہا تھا اور اس کا ’کسی گاڑی یا پیدل چلنے والے سے تصادم‘ ہو سکتا تھا۔تفصیلات سامنے آنے کےبعد بحث ہورہی ہے کہ جرمانہ کبوتر خودادا کرے گا یا کوئی اور ادا کرکے کبوترسے مجرم کا ٹیگ اتارے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.