منطق کی آواز۔۔۔۔۔۔۔۔

3,118

تحریر:آئمہ محمود۔۔۔۔۔بھلا ہو وزیر اعظم صاحب کاجنھوں نے فواد چوہدری سے اطلاعات کی وزار ت واپس لے کر انھیں سائنس اور ٹیکنالوجی کے بھاگ جگانے پر مقرر کیا اور دیکھئے آتے ہی انھوں نے سب سے Crucialمسلہ کو سینگوں سے پکڑ لیا، مسلہ بھی وہ جو 72 سالوں سے قوم کو منقسم کرنے کی وجہ بنا ہوا ہے ۔بظاہر کئی حکومتوں کے چہرے بدلے گئے لیکن کوئی بھی اسکا تسلی بخش حل ڈھونڈنے میں نا کام رہا۔ لیکن اب یوں لگنے لگا ہے کہ قوم کی نبض پر انگلی رکھنے والی موجودہ حکومت ہی کے ہاتھوں یہ ایشو اپنے انجام کو پہنچے گا۔نہ ، نہ ! بات سائنس یا ٹیکنالوجی میں تحقیق ، اسمیں اعلی تعلیم و تربیت یا اس فیلڈ میں موجود افراد کو وسائل فراہم کرنے جیسے فانی اور دنیاوی معاملات کی نہیں ہو رہی انھیں تو کو ئی بھی حکومت بنا کسی visionaryقیادت محض اپنی سیاسی ایمانداری اور Sense of purpase کے ساتھ بہتر کر سکتی ہے۔لیکن یہ نیا پاکستان ہے جسکی انقلابی حکومت نئی تاریخ رقم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے لہذا وہ دہائیوں سے چلتے ان بگاڑوں کو درست سمت میں لانے میں ہمہ تن مشغول ہے جس کے بل بوتے پر وہ ہسٹری میں ایک روشن باب رقم کر سکیں۔ اگر ابھی تک آپ کا ذہین اس مدعے کو گرفت میں نہیں لے سکا تو بتا دیتے ہیں کہ بات ہو رہی ہے عید کے چاند کی !
بات مذید واضح کرنے کے لیے یہ بھی mentionکر دیتے ہیں کہ وہ آسمانی چاند جس کو دیکھ یا نہ دیکھ کر عید کے بارے میں فیصلہ کیا جاتا ہے ۔یہ وضاحت ان لوگوںکیلئے جو ہر انسانی چہرے کو چاند سے تشبہہ دینے سے نہیں کتراتے۔ ہمیں تو انسانی چہروں کو چاند کہنے اور دیکھنے پر کوئی اعتراض نہیں البتہ رویت ہلال کمیٹی برا منا سکتی ہے کیو نکہ چاند کو دیکھنے کے جملہ حقوق ان کے پاس ہیں۔ فواد صاحب نے بذریعہ ٹویٹ اور بلمشافہ بھی قوم کو یہ خوشخبری سنائی ہے کہ انھوں نے پانچ رکنی کمیٹی بنائی ہے جو اگلے دس برسوں کے چاند ، عیدین، محرم اور رمضان سمیت اہم تاریخوں کا کیلینڈر جاری کرئے گی۔جس کی وجہ سے ہر سال چاند پر پیدا ہونے والا تنازع ختم ہو جائے گا۔ وہ یہیں نہیں رکے بلکہ علما کے چاند دیکھنے کے بارے میں کھل کر کہہ دیا کہ ,, علما کی ہر معاملے پر مخصوص رائے ہوتی ہے اس کو لے کر تو نہیں چلا جا سکتا۔ ملک کو کیسے چلانا ہے اسکا فیصلہ مولانا پر نہیں چھوڑا جا سکتا اس رو سے تو پاکستان کا قیام ہی عمل میں نہ آتا کیونکہ تمام بڑے علما تو اس کے مخالف تھے اور جناح صاحب کو کافر اعظم کہتے تھے ، آگے کا سفر مولویوں نے نہیں نوجوانوں نے کرنا ہے اور ٹیکنالوجی ہی ملک و قوم کو آگے لے جا سکتی ہے،،
ہمیں اندازہ ہے کہ یہ بیان بہت سوں کیلئے to much to digist ہے لیکن بھروسہ رکھیں نئے پاکستان میں rightلوگ right
جگہوں پر پہنچ گئے ہیں وہ مسلے کو نہیں بلکہ اسکی جڑ اکھاڑنے کے متمنی ہیں۔ چوہدری فواد صاحب اسکا جیتا جاگتا ثبوت ہیں انھوں نے اپنے بیان سے ان لوگوں کی بولتی بند کر ا دی جو انکا تمسخر اڑا رہے تھے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت سے انکا کیا تعلق ہے؟ کبھی کسی وزیر نے بذریعہ سائنس اور ٹیکنالوجی سے عید کے چاند پر اٹھنے والے Dispute کو حل کرنے کا سوچا ؟ کدی وی نیئں!
اب نہ صرف اس سال بلکہ آنے والے کئی سالوں کیلئے ملک میں ایک سے زائد عیدیں منانے جیسے نا پسندیدہ عمل کو ختم کرنے کیلئے راہ ہموارکر دی گئی ہے ۔ اگرچہ اس غیر معمولی مقصد کے حصول میں وفاقی کابینہ کا Majorکردار رہے گا کیونکہ اس تجویز پر عمل درآمد کی ذمہ داری بحرحال کابینہ پر ہے ۔ لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ فواد چوہدری Ideaکو کاغذ پر لے کر آئیں ہیں جو عمل سے بھی بڑا stepہے اگر سمجھا جائے؟ اور ہم خلوص نیت سے اپنے کو یہ سمجھا چکے ہیں۔
چوہدری صاحب کا یہ کہنا کہ ملک نوجوانوں نے چلانا ہے اس پر بھی ہم مسلسل واہ واہ کر رہے ہیں ۔ہاں، تھوڑی سی بے چینی بھی یقینا ہے کہ پی ٹی آئی میں نوجوان ہونے کیلئے جو عمر آجکل چل رہی ہے اس کے ہوتے ہوئے لگتا نہیں کہ کبھی حقیقی معنوں میں نوجوانوں کو ملک چلانے کی سعادت مل سکے گی۔ خیر یہ بات تو ویسے ہی بیچ میں آگئی جو اتنی اہمیت کی حامل نہیں۔ اہمیت والی بات یہ ہے کہ فواد صاحب نے اپنے طور واطوار سے ثابت کر دیا ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت انکے لیے,, گھر واپسی،، جیسی ہے۔ یہ ان کی ذات ہی کا اثر سا لگتا ہے کہ انکے باس اور ہمارے Inspiting وزیر اعظم صاحب بھی اب ہر چیز ، نظریے اور فلسفے کو سائنس کا لبادہ اوڑھنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ ابھی ایک یونیورسٹی کے سنگ بنیاد کی تقریب میں وہ بتا چکے ہیں کہ وہ ,,روحانیت ،، ( اس لفظ کی ادائیگی میں انھیںکافی دقت بھی ہوئی) کو سپر سائنس بنائیں گے۔اگرچہ اس بارے میں انھوں نے کو ئی تفصیل نہیں دی کہ کن حیلوں سے روحانیت سپر سائنس بن جائے گی؟ اور یہ کہ سپر سائنس بذات خود کیاہے؟ کیا سائنس کے بھی درجات ہیں ؟ایک grass root ، پھر درمیانہ، پھربالائی اور پھر سپر ۔ ہمیں تھوڑی سی کنفیوژن ہو رہی ہے کہ وزیر اعظم صاحب سائنس کی بات کر رہے یا عوام، اس کے حکمرانوں اور مقدس اداروں کی ۔
well ! انکی باتوں کا جو مطلب بھی ہو لیکن اسمیں کوئی شک نہیں کہ سائنس کا اب بول بالا ہی ہے۔ اگرچہ علامہ شیخ شفا نجفی کا کہنا ہمیں تھوڑا سا پر یشان کر رہا ہے کہ ,, یہ سب کہنا آسان ہے آخر میں جا کر وہی کرنا پڑئیگا جو مولوی کہتا ہے،،۔ ہمارے تجربات بتاتے ہیں کہ وہ صیحح کہہ رہے ہیں۔ تاہم دل ہے کہ فواد چوہدری کے بیان کو حقیقی شکل میں دیکھنے کو مچل رہا ہے۔ لیکن دنیا دل پر تو نہیں چلتی اور وہ بھی اس دل پر جو خود بچہ ہو!

نوٹ:نیوزنامہ پرشائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.