جبری گمشدگی،حقائق اورقوانین

89

تحریر:ثناء غوری۔۔۔۔ملک کا آئین ہر شہری کے حقوق کا ضامن ہوتا ہے اور پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 9اس چیز کا ضامن ہے کہ وہ اپنے زندگی قانونی دائرے میں رہتے ہوئے مکمل آزادی سےگزار سکتا ہے جبکہ آرٹیکل10 آئین پاکستان کا کہتا ہے کہ کسی بھی شہری کو بغیرکسی وجہ کے حراست میں نہیں لیا جاسکتا اور اگر حراست میں لیا جاتا ہے تو چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اس شہری کو متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازم ہے اوراسے اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے لیکن اس کے باوجود بے شمار شہری جبری گمشدگیوں کا شکا رکردئیے جائیں تو ان کی بازیابی کا مطالبہ قانونی بھی ہے اوراخلاقی بھی۔جب سے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کا دور آیا ہے کسی نہ کسی طرح سےاور تقریبا ہر ہی دور میں چاہےوہ دور آمرانہ ہو یا جمہوری صحافت کو خاموش کروانے کی کوشش ہوتی آرہی ہے اور آج کے دور میں بھی جو میڈیا ہے وہ کنڑولڈمیڈیا ہے، ہر چینل کو دیکھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس کا جھکاو کس پارٹی کی طرف ہے یا کس ادارے کی طرف ہے اور جو چینل یا اخبار ریاستی پالیسی کو نہیں مانتا پھر اس کا انجام پابندی کی شکل میں بھگتنا پڑتا ہے۔خیر بات ہورہی تھی جبری گمشدگیوں کی شایدہی پاکستان کا کوئی صوبہ اور طبقہ ہو جو جبری گمشدگیوں کا شکار نہ ہو۔ آپ بلوچستان میں نظر دوڑائیں تو بے شمار لوگ آپ کو ایسے ملیں گے جن کا کوئی باپ، بیٹا، بھائی یا پھر شوہر جبری گمشدی کا شکار ہوگیا ، اب بھی کوئٹہ میں کیمپ لگا ہے جس میں لاپتہ ہونے والوں کے ورثا اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن نہ تو ان کی خبر کوئی اخبار شائع کرتا ہے نہ کسی چینل کے سرخ ڈبے میں چلتی بریکنگ نیوز کی زینت بنتی ہے۔وزیرستان سے ایک شخص اٹھا جس نے ان لاپتہ افراد کے حق میں آواز اٹھائی اور دیکھتے دیکھتے وہ ایک مضبوط قوت بن گیا اور آج شاید پاکستان کو کوئی علاقہ ہی ہو جو منظور پشئین کے نام سے واقف نہ ہو۔ ناصرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی میڈیا بھی اس کا موقف لینے کے لیے اس کو مہمان بناتا ہے وہ غیر مسلح ہے اس کا مطالبہ ہے کہ جو بھی غیر قانونی طور پر لاپتہ ہوئے ہیں یا تو ان کو بازیاب کرو یا پھر عدالتوں میں پیش کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ایسا ہی ایک طبقہ کراچی میں ہے جس کا تعلق ایک مقامی سیاسی جماعت سے ہے۔ میں ذاتی طو ر پر جانتی ہوں میری ایک ایسے شخص سے ملاقات ہوئی جس کو غیر قانونی طور پر "نامعلوم”افراد نے جبری گمشدگی کا شکار کردیا تھا۔ تین سال تک اس کو اس جبر کا شکار رکھا گیا، میری جب اس سے ملاقات ہوئی تو اس نے بتایا کہ مجھے ان تین سالوں میں چار مقامات پررکھا گیااور تین سال بعد مجھے یہ کہہ کر چھوڑ دیا گیا کہ آپ پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوا جبکہ اس شخص کا کہنا تھا کہ مجھے تو ان تین سالوں میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ میرا جرم کیا تھا۔میرا بس اتنا سوال ہے کہ ایک شخص کو تین سال تک حبس بے جا میں رکھا گیا جس کے بچوں کو یہ نہیں معلوم تھا کہ ہمارا باپ زندہ بھی ہے یا نہیں جس کی ماں عدالتوں کے دھکے کھا کھا کر مایوس ہوچکی تھی،جس کی اہلیہ رو رو کر کسی کو یہ بھی نہیں بتا سکتی تھی کہ وہ بیوہ ہے یا اس کاسہاگ زندہ ہے۔ایسا ہی ایک دھرنا گزشتہ ہفتے سے کراچی میں بھی دیا جارہا ہے جس میں بھی جبری گمشدگیوں کے شکار افراد کی بازیابی کے لیے دھرنا دیا ہوا ہے یہ دھرنا صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب عارف علوی کے گھر کے باہر دیاجارہا ہے لیکن عارف علوی نے ایک دن بھی ان سے رابطہ نہیں کیا جبکہ ان ہی دنوں میں عارف علوی نے ایسے سیمینار میں شرکت کی جس کا عنوان تھا "صحت بنیادی حق”لیکن کیا زندگی کسی کا بنیادی حق نہیں؟ کیا آزاد رہنا کسی کا بنیادی حق نہیں ہے؟ کیا آئین کے تحت اپنے حقوق مانگنا غیر آئینی ہے؟ہٹلر نے ہولو کاسٹ کرکے سمجھا تھا شاید وہ یہودیت کا نام دنیا سے ختم کردیگالیکن وہ غلط ثابت ہوا کیونکہ تاریخ شاہد ہے اس چیز کی کہ طاقت کے زور سے نہ توقلم خاموش کروایا جاسکا ہے نہ کسی کا نظریہ ختم کیا جا سکا ہے۔ یہ دور ماڈرن ہے ٹیکنالوجی کا دور ہے جہاں کسی حد تک چینلز پر تو سینسرشپ تو لگائی جاسکتی ہے جہاں اخبار میں خبریں شائع کروانے سے تو روکا جاسکتاہے لیکن سوشل میڈیا پرپابندی ناممکن ہے کہاں تک خبروں کو روکیں گے یہ کام ناممکن ہے نوجوان نسل سوال پوچھنا چاہتی ہے سوال کے جواب چاہتی ہے، سوالات کو روکیں گے تونسلیں جاہل پیداہونگی۔ میں یہ نہیں کہتی کوئی غیر قانونی کام کرے تو اس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے بلکل کی جائے کوئی بھی آئین پاکستان کے خلاف بات کرے،ملکی سلامتی اور ملک کے خلاف زہر اگلے کا اس کے خلاف ضرور کارروائی ہونی چاہیےلیکن قانون کے مطابق، کسی کو غیر قانونی طریقے سے سزا دینا یا گمشدہ کردینا اس شخص کو مظلوم بنا دیتا ہے۔میرے ملک پاکستان میں قانون کی اتنی حکمرانی ہونی چاہیے کہ کوئی بھی قانون کے خلاف بات کرتے دس بار سوچے کہ میرے خلاف "قانونی کارروائی ” ہوسکتی ہے اور اگر کوئی بے گناہ ہو تو اس کو اس بات کا کوئی ڈرنہیں ہونا چاہیے کہ اس کو غیر قانونی طریقے سے سزا دی جائے گی یا غائب کردیاجائے گا بغیر اس کا جرم بتائے۔

نوٹ:نیوزنامہ پرشائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے،ادارے کامتفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.