”دوسرا بین الاقوامی طلباء کنونشن2019 ”

98

تحریر:محمد اکرم رضوی۔۔۔۔دوسال قبل لاہور میں پنجاب بھر کی جامعات کے سربراہان کی جانب سے اعلی تعلیمی اداروں میں روادری ،امن ،برداشت اور مساوات کو فروغ دینے کیلئے روڑ میپ تیار کیا گیا تھا ۔جس میں طلباء سوسائٹیز کو فعال بنانے کیلئے مختلف پروگراموںکے انعقادپر زور دیا گیاتاکہ وطن عزیز کی جامعات امن کا گہوارہ بن سکیں ۔گزشتہ برس اسلام آباد میں ہونیوالے پہلے کامیاب ترین بین الاقوامی طلباء کنو نشن کے بعد شہر لاہور میں 16اپریل تا 19اپریل 2019 کو دوسرا بین الااقومی طلباء کنونشن منعقد ہو ا ۔تقریبات لاہور کی مختلف جامعات میں 08 اپریل سے ہی جاری تھیں ۔انٹر یونیورسٹی کنسورشیم برائے فروغ سوشل سائنسز کے زیر اہتمام پیغام پاکستان اور جامعات کے اشتراک سے وطن عزیز میں ہونے والادوسرا بین الااقوامی طلباء کنونشن تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا۔بین الااقوامی طلباء کنونشن میں پاکستانی نوجوانوں کو دوسرے ممالک کے نوجوانوں کے ساتھ نہ صرف رابطہ کاری کے موقع ملابلکہ وہ بین الاقوامی سطح پر بہتر مثالوں سے استفادہ کیا گیا ۔ ملکی اور غیر ملکی طلباء کو قریب آنے کے مواقع ملے اور جامعات کے مابین قریبی تعاون فروغ پایا ۔ بین الااقوامی طلباء کنونشن پاکستانی تاریخ کا دوسرا کنونشن ہے جس میں مختلف ممالک سے طلباء و طالبات پاکستان آئے جبکہ پاکستان کی75سے زائد یونیورسٹوں کے 20ہزارسے زائد طلباء وطالبات بھی شریک ہوئے ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جدید طرز پر منعقد ہونیوالے اس کنو نشن میں مدارس دینیہ کے طلباء کیلئے بھی خصوصی تقریبات کا انعقاد ہوا جو یقینا ان طلباء میں احساس محرومی ختم کرنے کا سبب بنا ہوگا۔ نوجوانوں کیلئے ایجوکیشن ایکسپو 2019کا بھی انعقاد کیا گیا تھا جس میںنامور شخصیات ڈاکٹر عطاء الرحمن، راجہ یاسر ہمایوں سرفراز،سردار ہاشم ڈوگر،ڈاکٹر رئوف اعظم،ڈاکٹر طارق محمود انصاری، ڈاکٹر نظام الدین ، ڈاکٹر خورشید احمد رضوی ،سلمان عابد ،مرتضی نور ،،قاسم علی شاہ ، صاحبزادہ ڈاکٹر حسین محی الدین قادری ،ڈاکٹر شاہد سرویا،منصور اعظم قاضی ، حمیدہ شاہین،محمد نواز کھرل ،خواجہ جمشید امام ،ڈاکٹر امجد طفیل ،معظم شہزاد اور دیگر بے شمار شخصیات بطور سپیکرشریک ہوئیں۔ملک بھر کی جامعات نے اپنے کورسز اور منصوبہ جات کیلئے آگاہی سٹالزبھی لگائے ہوئے تھے۔ کنونشن میںکئیریر کونسلنگ ،تحریری و تقریری مقابلہ جات ،جاب فیئرز ،تصویری نمائش،طلباء کے ترقی کے کردار پر ڈپلومیٹک فورم،مطالعاتی ٹورز،کتب میلہ ، نسل نو مشاعرہ ، میٹ دی رائٹر ، ادبی تنظیمات کے منتظمین کے ساتھ نشست، میڈیا سیشن ،خبر نویسی ،یوتھ فیسٹول ، ورکشاپس ، سیمینارز، سپورٹس مقابلے ، فلم سازی ، گروپ ڈسکشن ،طلباء سوسائٹی ،نیٹ ورکنگ ،ماڈل اقوام متحدہ ،یوتھ آئیڈیاز کارنر ، بلاگرزسیشن،موسیقی اور ڈراموں کے مقابلے اور درجنوں نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں کا انعقاد بھی ہوا۔
گرامی قدر قارئین !
دوسرے انٹرنیشنل سٹوڈنٹ کنونشن اور لٹریری فیسٹیول میں طلباء کو امن ،روادری اور برداشت کے عنوان خصوصی سیشن ہوا جس میں ماہرین نے اپنی رائے سے آگاہ کیا ۔آج عالمی سطح پراس بات کو مانا جا رہا ہے کہ مکالمے ،کتاب دوستی ،فنون لطیفہ کے ترویج واشاعت ثقافتی رنگارنگی کے فروغ سے بہت سے مسائل حل کیے ہوسکتے ہیں ۔ادبی ثقافتی اور فکری شعور کے تناظر میں معاشی ومعاشرتی ،ملکی وبین الااقومی مسائل کے حل،نسل نو کی فکری ،علمی اور ادبی تربت کیلئے سٹوڈنٹس لٹریری وآرٹ فیسٹیول کا انعقاد قابل ستائش کاوش ہے ۔نوجوان نسل کیلئے عظیم الشان نسل نو مشاعرہ ہوا جس میںنامور شعراء حضرات کے ساتھ ساتھ یونیوسٹیوں کے شاعرطلباء و طالبات بھی اپنا کلام سنانے کا موقع ملا۔عہد ساز ادیبوں،نامور لکھاریوں ،ادبی تنظیمات کے منتظمین کے ساتھ بھی نشستیں ہوئیں ۔ نمایاں بات یہ کہ لٹریڑی فیسٹیول کی تما م نشستیں طلباء و طالبات کیلئے تھیں جس سے رنگوںسے مزین نیاجہاں تشکیل دینی والی نسل نو کے ٹیلنٹ اور خدادادصلاحیتوں کوبرئوے کار لانے کیلئے انہیں بھرپور موقع ملا۔ فیسٹیول میں نوجوان نسل کو اپنی تہذیب وتمدن اور ثقافت سے جڑے رہنے کا بھی درس دیا گیا۔تعلیمی اداروں میں اس طرح کی ادبی سرگرمیوں کا فروغ مثبت رجحان ہے ۔ اگر ذہنی صلاحیتوں کو تعلیم کی روشنی سے جلابخشی جائے تو انسان کائنات کو تسخیر کرنے کیلئے آسمانوں پر نت نئی کمند یں ڈالنے بھی پہنچ سکتا ہے۔اس حقیقت سے انکار نہیں کہ ملکوں اور قوموںکی تعمیر و ترقی امن استحکام خوشحالی کا عمل نظام تعلیم سے ہی مشروط ہے۔کسی بھی ملک کی ترقی اور تباہی کا انحصار بھی نوجوان نسل پر ہوتا ہے ۔ملت کے نوجوان اپنی قوموں کا زندہ توانا اور رواں دواں رہنے والا تازہ خون ہوا کرتے ہیں ۔جن کے بغیر قومیں بے روح جسم کی مانند ہوتی ہیں۔زندہ قومیں نوجوانوں کو مستقبل کا معمار اور سرمایہ افتخار سمجھتی ہیں ۔نوجوانوں نے ہمیشہ جوش وجنون عزم وہمت اور جہد مسلسل سے قوموں کی تقدیر بدلی ہے ۔مگر بدقسمتی سے نوجوان نسل کی تربیت کے ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں ۔آج ہمارے معاشر ے میں نوجوانوں کی تعلیم وتربیت کے ادارے اور مثبت سرگرمیاں ناگزیر ہوچکی ہیں ۔میرے خیال سے موجودہ حالات کے تناظر میں نسل نو کی تربیت اور ذہن سازی کیلئے یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم کی فراہمی ہی نہیں بلکہ طلباء کو علمی سماجی،ادبی اور معاشرتی شعور سے بہر ہ ور کرنے کا بھی اہتمام ضرور ہونا چاہیے ۔ ضرورت اس امر کی ہے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ان سے استفادہ کیلئے انہیں رہنمائی اور پلیٹ فارم مہیا کریں ۔ اس سلسلہ میں نوجوانوں کے مابین نصابی اور غیر نصابی سر گرمیوں کو فروغ دینا وقت کا نقاضا ہے ۔پاکستان کی 71سالہ تاریخ کا دوسرا کنونشن ہوگا جس میں طلباء وطالبات کو انکے مستقبل ،پاکستان اور بیرونی ممالک کے بارے میں آگاہی ملی۔پاکستانی اور غیر ملکی طلباء و طالبات کو شہر لاہور کے تاریخی سیاحتی مقامات کا مطالعاتی دورہ بھی کروایا گیا ۔ انٹر یونیورسٹی کنسورشیم کے پلیٹ فارم سے نوجوان نسل کیلئے صحت مندانہ سر گرمیاں قابل فخر ہیں ۔ انٹر یونیورسٹی کنسورشیم اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے مثبت سرگرمیوں کے انعقاد کیلئے دن رات کوشاں ہے ۔اس نوعیت کے کنونشنزاور فیسٹیولز جاری رہنے چاہیں تاکہ پاکستانی طلباء وطالبات کو انٹر نیشنل پلٹ فارم ملے جہاں وہ اپنی قائددانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک وقوم کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں ۔بین الااقوامی طلباء کنونشن کاانعقادتاریخی اورشاندار اقدام ہے ۔ پاکستانی طلباء و طالبات نے کنونشن ایکسپو اور لٹریری اینڈ آرٹ فیسٹیول میں شریک ہوکرملکی اور بین الااقوامی ماہرین تعلیم سے مل کر سیکھنے کے مواقع ملے ۔کنونشن میں طلباء و طالبات کی بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ اہم قومی رہنما ئوں ،جامعات کے وائس چانسلرز ،فیکلٹی ممبران اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے بھی وزٹ کیا۔ وطن عزیز کی نوجوان نسل کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ایسے اقدام ہونے چاہیے۔ادب و فن کی بنیاد پرہی کسی بھی قوم کے شعور کو جانچا جا سکتا ہے ۔ لٹریری اینڈآرٹ فیسٹیول جہاں ملک وقوم کا نام روشن کر رہا ہے وہاں ہی مختلف علوم و فنون سے آگاہی بھی فراہم کر تاہے ۔ ایسے کنونشن طلباء کی ذہنی نشوونما تعلیمی و اخلاقی تربیت میںبھی سنگ میل ثابت ہوتے ہیں ۔ پاکستان کی جامعات سے انتہا پسندی،تشدداور عدم برداشت کے کلچر کے خاتمے کیلئے مثبت سرگرمیوں کا فروغ ضروری ہے ایسی سرگرمیاںادب کے فروغ اورپرامن جامعات کے قیام کیلئے معاون ثابت ہوں گی ۔ایسی مثبت سرگرمیاں قوم کی تقدیر بدلنے کاسبب ہوتی ہیں ۔ یونیورسٹیز میں طلباء کے مابین نصابی وغیر نصابی اور ادبی سرگرمیاںکو فروغ دے کر جامعات کو علم وادب اور امن کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے ۔جامعات میں ادبی سوسائٹیز قائم کرکے طلباء و طالبات کو لٹریچر کے قریب لایا جا نا چاہیے ۔ جس سے پاکستان کی جامعات میں امن کا فروغ اور انتہاپسند عناصر کی حوصلہ شکنی ہو تاکہ جامعات عدم برداشت ،انتہا پسندی ،نسلی ،گروہی اورلسانی جھگڑو ں سے پاک ہوسکیں ۔ ان اقدام سے طلباء کو اپنی صلاحیتوں کو سامنے لانے ،ملکی بقاء اور تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنے کا مستقل پلیٹ فارم فراہمی اور مثبت سرگرمیوں کے انعقاد سے جامعات کو پرامن اورتعلیم و تحقیق کے مراکزبنے گئیں۔نوجوانوں پر کی جانے والی سرمایہ کاری روشن مستقبل اور ملکی تعمیر وترقی کی ضامن ہے ۔ جامعات جن کو خیالات جدت طرازی اور علمی و تحقیقی علوم کا مرکزو محور مانا جاتا ہے وہاں ایسے سرگرمیاں امن برداشت ،ہم آہنگی ،انسانیت جیسی روایات کو پروان چڑھانے اور نوجوان نسل میں آگہی کے بارے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں ۔جامعات میں امن کے کلچر کو فروغ دینے کیلئے ،غیر نصابی سرگرمیوں کا انعقاد،لڑیری اینڈ آرٹ فیسٹولز،سٹودنٹس سوسائٹیزکا قیام ،جامعات کے کیمونٹی کے ساتھ موثر روابط جسے اقدام فروغ امن میں نہایت کار آمد ہے ۔انٹر یونیورسٹی کنسورشیم برائے فروغ سوشل سائنسز کے چیئرمین ڈاکٹر ناصر علی خان ،نیشنل کوارڈینیٹر محمد مرتضی نور ،وائس چانسلر ایجوکشن یونیورسٹی وکنونئیر آرگنائرزنگ کمیٹی ڈاکٹر رئوف اعظم اور انکی پوری ٹیم کواس کثیر المقاصد اور منزل نواز کنونشن اور فیسٹیول کے انعقاد پر مبارک باد کی مستحق ہے ۔پرامن جامعات کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کاوشیں قابل تحسین ہے۔۔۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.