بلھےشاہ اسی مرنا ناہی

349

تحریر:حسن شاہ۔۔
بچھڑا اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
یہ شعر کسی حقیقت سے کم نہیں ،اک کڑوا سچ چھپا ہوا ہے اس میں۔حقیقت تو یہ ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے جانے سے نجانے کتنے لوگوں کی زندگیا ں ویران ہوجاتی ہیں۔اور کڑوا سچ یہ ہے کہ وہ حقیقت میں چلے جاتے ہیں۔اور اگر کوئی ایسا شخص چلا جائے جو بے تحاشہ زندگیوں کا محسن ہو،انگنت لڑکھڑاتی زندگیوں کیلئے مشعل راہ کا کام کیا تو وہ شخص تو سہی میں سب کو غمگین کر جاتا ہے۔ایسے ہی شخص کا نام قمر ذیشان تھا۔2 دن پہلے یہ شخص بہت سارے لوگوں کی آنکھوں میںآنسو چھوڑ گیا،نجانے کتنوں کو غم سے نڈھال کر گیا۔ایسا ہوتا بھی کیسے نہ ہر شخص تو ان کا گرویدہ تھا ،ہر ایک کے دل میں ان کیلئے محبت تھی۔اس سب کی وجہ ان کے اپنی زندگی میں وہ کارنامے تھے جن کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔قمر ذیشان صاحب استاد جیسی عظیم خدمت سے وابستہ تھے۔انہوں نے اس کو پیشہ نہیں بنایا بلکہ اپنا شوق بنایا،اور پھر اسی شوق سے علم کی بے حد خدمت کی۔وہ انگریزی کے ٹیچر تھے،اور گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور میں پڑھاتے تھے۔ان کی کالج میں مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ طالبعلموں کو کمرہ جماعت میں بینچ تو دور کی بات نیچے فرش پر بیٹھنے کو بھی جگہ نہیں ملتی تھی۔کلاس روم سے باہر تک طلبا کی قطاریں لگی ہوتی تھیں۔انگریزی کے اساتذہ میں آج تک ان سے بہتر کوئی استاد نہیں دیکھا۔ان کا پڑھانے کا انداز کی سب الگ تھلگ تھا۔انہوں نے کالج میں 4 سال تک لگاتار بہترین ٹیچر کا ایواڑ اپنے نام کیا۔شخصیت ایسی تھی کہ ہر ایک کو اپنا گرویدہ بنا لیتے تھے۔پڑھانا ان کا شوق تھا بغیر کسی لالچ کے وہ دل جمی کے ساتھ پڑھاتے ،شاید یہی وجہ تھی کہ پورا کالج ان کی کلاس لینے کا خواہش مند ہوتا تھا۔
ان کے شوق کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے بیوروکریسی کو چھوڑ کر ٹیچنگ کا شعبہ اپنایا تھا۔ایک دفعہ ان سے ایک آفیسرنے پوچھا کہ آپ نے بیوروکریسی کی جگہ ٹیچنگ کو کیوں ترجیح دی تو انہوں نے جواب دیا کہ :
"You are a single star but I’m on a mission of making thousands of stars like you”
ان کی زندگی ایک پارس پتھر کی مانند تھی کہ ہر قریب آنے والے کو کندن بنا دیتی۔وہ مستحق بچوں کی فیس اپنی جیب سے ادا کر تے تھے۔انہوں نے کبھی کسی بچے سے نوٹس کے پیسے نہیں لیے تھے،وہ مفت تعلیم دینے کے عادی تھے۔انگریزی کے شعبے میں ان کو مات دینے والا آج تک پیدا نہ ہو سکا۔کینسر جیسا لاعلاج مرض بھی ان کے حوصلے پست نہ کر سکا،کینسر کی بیماری لاحق ہونے کی باوجود ٹیچنگ ترک نہ کی ،ان کا کہنا تھا کہ :
"A coward die many times before his death but a Valiant never taste death but once.”
انہوں نے جو کہ کر دکھایا ،اب ہر ادارے مین نیا قمر ذیشان ہوگا۔انہوں نے بہت سارے لوگوں کی زندگیا ں سنواریں۔ان کو جینے کا ایک مقصد دیا،بگڑے ہوؤں کو سیدھے رستے پر لائے۔ان کے طالبعلم آج ان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔سچ ہی تو کسی نے کہا ہے کہ ’’اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا‘‘۔ان کی کمی کبھی پوری نہیں ہو پائے گی۔
وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ:
"Heros never die, they always live in the hearts of people……!”

1 تبصرہ
  1. Abdullah کہتے ہیں

    "Heros never die, they always lives in the hearts of people. ”

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.