’’مرگی ، روزہ اوراحتیاط‘‘

66

تحریر:ڈاکٹر فوزیہ صدیقی(صدر : ایپی لیپسی فائونڈیشن پاکستان)۔۔۔ایک مرتبہ پھر ہم پر رحمتوں ، برکتوںاور مغفرتوں کا مہینہ سایہ فگن ہونے کو ہے۔ سارا عالم اسلام استقبال رمضان کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ رمضان کا چاند نظر آتے ہی اس مہینے کی برکتوں کا نزول ہر صاحب ایمان محسوس کرتا ہے ۔ مگر جو لوگ بیمار ہوتے ہیں اور ان کا علاج جاری ہوتا ہے وہ اس مخمصے میں پڑ جاتے ہیں کہ روزہ رکھیں یا نہ رکھیں۔ مرگی کے میرے مریض بھی مجھ سے یہ سوال کرتے ہیں۔کچھ سوال ابھرتے ہیں کہ گرمی کی شدت سے کیا ہوگا؟ روزہ رکھیں یا نہیں؟ کیا روزہ رکھ سکتے ہیں؟ اگر رکھیں تو کیا کریں؟ آج کی اس تحریر کا مقصد یہ بتانا ہے کہ مرگی کے مریض رمضان المبارک کا مہینہ کیسے گذاریں؟
پہلی بات تو یہ سمجھنے کی ہے کہ مرگی ایک قابل علاج بیماری ہے۔اس بیماری میں ہونے دوروں کا خوف اورہمارے معاشرے میں اس مرض کے بارے میں پائی جانے والی لاعلمی کی وجہ سے اس مرض میں مبتلا مریض کو کافی مشکلات کا سامنا کرتا پڑتا ہے۔مرگی کے مریضوں کی اکثریت دورہ پڑنے کے چند منٹ کے دورانئے کے علاوہ دوسرے لوگوں کی طرح بالکل نارمل ہوتے ہیں۔مرگی کے مریضوں کے اکثریت پر روزہ اثرانداز نہیں ہوتا ہے۔ روزہ رکھنے سے جسم میں غیرمعمولی چربی(Abnormal Fat)کے تحلیل کا عمل (Ketosis) ہوتا ہے جو کہ مرگی کے دوروں کے لئے مفید ہوتا ہے مگر مرگی کے مریضوں کیلئے روزے میں تین چیزیں نقصان دہ ہوسکتی ہیں۔
1 ۔ نیند پوری نہ ہونا جیسا کہ رمضان المبارک کے مہینہ میں ہر روزے دار کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔
2 ۔ آجکل شدید گرمی پڑرہی ہے جس کی وجہ سے جسم میں ڈی ہائیڈیریشن (Dehydration) یعنی پانی اور نمکیات کی کمی واقع ہوجاتی ہے جو کہ دورہ پڑنے کا سبب بن سکتی ہے۔
3 ۔ درجہ حرارت (سردی اور گرمی) کی کمی بیشی (fluctuation) جیسے ایئرکنڈیشنر کے ٹھنڈے ماحول سے فوراََ گرمی میں بار بارآنے جانے سے دورہ پڑ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ جب ہوا میں نمی کا تناسب زیادہ ہوتا ہے تو بھی مرگی کے مریضوں کو احتیاط کرنی ہوتی ہے۔
مرگی کی کچھ ادویات ایسی ہیں جن کو لیتے ہوئے روزہ نہیں رکھنا چاہئے ۔اس سلسلے میں مکمل معلومات حاصل کرنے کیلئے مریض کو اپنے ڈاکٹر یا معالج سے رجوع کرنا چاہئے اور اپنے ڈاکٹر سے پوچھے بغیرنہ ہی روزہ چھوڑیں اور نہ ہی روزہ رکھیں۔اس معاملے میں احتیاط بہت ضروری ہے۔اس کے علاوہ رمضان المبارک میںادویات لینے کا ٹائم ٹیبل اپنے ڈاکٹر سے لازمی لیںاگر آپ کے دورے کنٹرول میں ہیں اورآپ روزہ رکھنا چاہتے ہیں اور اوپر دی ہوئی تینوں ہدایات پر عمل کر سکتے ہیں تو ضرور روزہ رکھیں مگر اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا آپ پر لازم ہے۔
مرگی کے مرض میں مبتلا افراد سحری میں دہی اور کیلا، کھجور ، جو کا دلیہ اور الائچی ضرور لیں۔ ادویات لینا مت بھولیں۔ نیند پوری کریںاور ہمیں بھی دعائوںمیں یاد رکھیں۔اسی طرح افطار میں بھیگی ہوئی کھجور کا پانی ایک چٹکی نمک اور کھجورکا انتظام کرکے رکھیں اور ان اشیاء سے روزہ کھولیں۔ تازہ پھلوں کا جوس اور کوئی بھی موسمی پھل لیںاور اپنی مرضی کا فروٹ کاک ٹیل (Fruit Cocktails) بنائیں۔ پروٹینز بینز، لوبیا اور چنے وغیرہ بھی مفید ہیں۔کھانے میں ہلکی مگر متوازن غذا لیں۔ سوڈا انرجی، کولڈ ڈرنک جیسے مشروبات سے بچیں۔ اللہ یہ رمضان خیروعافیت کے ساتھ گذارے۔ اللہ تمام مریضوں کو صحت کاملہ عطا فرمائے اورمیری بہن جسے آپ سب نے قوم کی بیٹی بنایا ہے یعنی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اپنی سحری، افطار، نماز، تلاوت و تراویح اور رمضان المبارک کی تمام دعائوں میں بھی یاد رکھئے گاکہ اللہ تعالیٰ اسے جلد سے جلد صحت ، تندرستی اور ایمان کے ساتھ امریکی جیل سے رہائی اور وطن واپسی نصیب فرمادے اور وہ بھی آپ لوگوں کی طرح اپنی ماں ، بچوں ، بھائی ، بہن اور سب اہلخانہ کے ساتھ سحری کرکے روزہ رکھے اور افطاری کرکے روزہ کھولے۔ آمین ثمہ آمین

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.