”چھانگا مانگا جنگل کی بہاریں لوٹ آئیں ”

99

تحریر:محمد اکرم رضوی۔۔۔۔ چھانگا مانگا جنگل کی وجہ کے ساتھ ساتھ سیاحتی حوالے سے بھی دنیا بھر میں مشہور ہے ۔چھانگا مانگا جنگل ہاتھ سے لگایا ہوا دنیا کا پہلا جنگل ہے ۔ برطانوی دور حکومت میں لگائے جانے والے اس جنگل کا خاص مقصد اسٹیم انجنوں کو لکڑی کی فراہمی تھا ۔چھانگا مانگا دو محب وطن اور حریت پسند بھائیوں کے نام سے منسوب جنہوں نے انگریز کے خلاف علم بغاوت بلند کیا جس کی پاداش میں برطانوی حکومت نے انہیں اشتہاری قرار دے دیا تھا ۔دونوں بھائی جنگل میں روپوش رہتے اور انگریزوں کو مارتے تھے ۔جس بناء پر انہیں چور بھی کہا جاتا ہے۔ عالمی شہرت کے حامل قصبہ سیاسی تلخیوں کے حوالے سے بھی اکثرموضوع بحث بنا رہتاہے اور یہ جملہ آپ کو بہت بار سننے کو ملا ہو گا کہ ”چھانگا مانگا سیاست نہیںچلے گی ” اگرچھانگا مانگا سیاست کو موضوع بحث بنائوں گا تو شاید میںاپنے اصل موضوع سے ہٹ جائوں اس لئے اپنے موضوع پر رہتے ہیں۔
قارئین !
جنگلات کسی بھی ملک کے شہریوں کیلئے خاصی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔جنگلات کی ماحولیاتی اہمیت ایک مسلمہ حقیقت ہے ۔معاشرے کی بقاء کا تصور اس کے بغیر ناممکن ہے ۔پاکستان کے کل رقبے کا 4.3فیصداور پنجاب کا 3.2فیصد حصے پر جنگلات ہیں جبکہ عالمی معیار کے مطابق پچیس فیصد پر جنگلات ہونے چاہیں ۔حکومتیں ہرسال شجرکاری کا بھی اہتمام کرتی ہیں مگر ابھی تک حکومتی کوششیں ثمر بارنہیں ہوسکیں ۔حکومت پنجاب اب کی بار کسانوں کے ملکیتی رقبے پر شجرکاری کا بھی پلان رکھتی ہے جو زرعی زمینوں پر درختوں کی تعداد میں اضافے کا باعث بنے گا یہ شجرکاری پنجاب کے 25اضلاع میں کی جائے گی جبکہ محکمہ جنگلات اور پنجاب حکومت شجرکاری کے 70فیصداخراجات خود اور 30فیصد کسان برداشت کریں گے ۔بد قسمتی سے زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں درختوں کی تعداد بہت کم ہے ۔ انگریزوں نے 1866میں یہاں درخت لگا کر جنگل کی بنیاد رکھی جبکہ 1960 میں چھانگا مانگا جنگل کو فارسٹ پارک کا درجہ دے دیا گیاتھا ۔ چھانگا مانگا جنگل میں ایک محتاط انداز ے کے مطابق ہر سال ملکی و بین الااقوامی دس لاکھ سے زائد سیاح آتے ہیں جو انٹر نیشنل مہتابی جھیل ،فارسٹ پارک ، جنگل اور ملحقہ سیاحتی مقامات کی سیر کرتے ہیں ۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال دنیا بھر میںکروڑوں ہیکڑ رقبے سے جنگلات کاٹ دئیے جاتے ہیں اگر یہ سلسلہ جاری وساری رہا تو اگلے سو سال میں جنگلات ختم ہوجائیں گے ۔ جس سے مہلک امراض میں اضافہ کا خدشہ ہے ۔ہمیں درخت لگاکر اپنی قومی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے آئندہ نسلوں کیلئے چھائوں اور آب و ہوا کا اہتمام کرنا ہوگا ۔جن درختوں کی چھائوں میں ہم ہوتے ہیں برسوں پہلے کسی نے لگائے تھے اس لئے ہمیں بھی اپنے حصے کا درخت لگانا ہوگا تاکہ ہماری نسلیں بھی ماحولیاتی آلودگی سے بچ سکیں ۔صوبائی وزیر جنگلات سردارمحمد سبطین خان بھی وزیر اعظم اور وزیر اعلی پنجاب کے ویثرن کے مطابق سنجیدہ کوشش کر رہے ہیں ۔قبضہ مافیاء سے زمینیں واگزار کرائی جا رہی ہیں ۔کلین اینڈ گرین پاکستان مہم ،پلانٹ فار پاکستان ، سپرنگ ٹری پلانٹیشن مہم اور وزیر اعظم پروگرام برائے ٹین بلین ٹری سونامی میں پنجاب کو 50کروڑ درخت لگانے کاٹارگٹ دیا گیا ہے ۔پنجاب حکومت کو جنگل میں قائم مختلف لبیر کالونیوں کے مکینوں کیلئے بھی اقدام کی ضرورت ہے جو بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں ۔سیرکلچر نے انکی بحالی کیلئے اس سال رشیم کی صنعت کوفروغ دیا جس سے یقینا انکی مالی مشکلات میں کچھ کمی آئے گی ۔چھانگا مانگا جنگل کے قیمتی درختوں سے سالانہ کروڑوں روپے کا زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے ۔جنگل میں شہتوت ، سرس، ولو، سوڈانی کیکر،اریٹا،تن ۔بکائن ،سمبل ،پاپلر،سفیدے اور شیشم کے قیمتی درختوں سے لکڑی حاصل کی جاتی ہے جومختلف جگہوں پر استعمال میں لائی جاتی ہے ۔جو ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ماضی میں بلا تفریق بااثر سیاسی شخصیات اور ٹمبر مافیا نے جنگل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ۔جہاں سیاسی شخصیات اور ٹمبر مافیا نے جنگل کو مال مفت دل بے رحم سمجھ کر ہاتھ صاف کیے وہاں جنگل کے ملازمین نے بھی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔جس سے جنگل کاستیاناس ہو گیا تھااور ہر طرف ویرانی کا منظر پیش کرتا تھا ۔چھانگا مانگا جنگل کو سب سے زیادہ نقصان غیر قانونی مویشوں اورلکڑی چور وںنے پہنچایا ہے ۔مویشی ننھے پودوں کا نقصان کرتے ہیں جبکہ لکڑ چوررات کی تاریکی کافائدہ اٹھاتے ہوئے قیمتی عمارتی لکڑی چوری کرکے اونے پونے بیچ دیتے تھے ۔جس سے محکمہ جنگلات کی کروڑوں روپے کی درخت لگائو جنگل بنائو سکیم بری طرح ناکام ہوتی تھی ۔کہتے ہیں اگر سربراہان ادارہ فرض شناس ،نیک،ایماندار اور صاحب کردار ہو تو ماتحت عملہ بھی حکام کے افعال وکرادر اور اعمال کا عکاس ہوتا ہے ۔ماضی کے دیوالیہ اورآج کے بہاروں سے آشناچھانگا مانگا جنگل حکام بالا اور ملازمین کی شب وروز محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے جنہوں نے لکڑ چور وںاور جنگل خوروں کے خلاف عملی جہاد کیا ۔اگر ماضی کی غلطیوں اور لاپرواہی کو بنیاد بنا کر موجودہ ڈی ایف او عمران ستار اور انکی ٹیم کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے تو یہ بھی بددیانتی ہوگی ۔چھانگا مانگا جنگل کی بحالی میںعوامی سطح پر قائم کی گئی فارسٹ پروٹیکشن کمیٹی کا بھی قابل ستائش کردار رہا ہے جس نے سیاسی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے لکڑی چوری کی روک تھام میں محکمہ جنگلات کے ہاتھ مضبوط کیے اور عوامی سطح پرآگہی مہم ، پلانٹیشن کمپین ،جنگل کی باونڈری پر موجود لکڑ چور اور طاقت ور ڈیری فارمز مافیا کے خلاف عوامی قوت کے ساتھ میدان میں برسرپیکار رہے ۔جنگل پر ہونے والے ہر اندورنی اور بیرونی حملہ کی روک تھام کیلئے کمیٹی نے اقدامات اٹھائے اور عوامی سطح پرشعور اجاگر کیا کہ چھانگا مانگا جنگل قومی ورثہ ہے اس کی حفاظت کی ذمہ داری سب پر عائد ہوتی ہے ۔فارسٹ پروٹیکشن کمیٹی نے انٹر نیشنل مہتابی جھیل کا خوب صورت چہرہ دنیا کے سامنے لا کر سیاحوں کو متوجہ کرنے اور سیاحت کے فروغ میں بھی جرات مندانہ کردار ادا کیاہے ۔ ۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.