مراکش کے شمالی شہر میں شدید مظاہرے‘شاہِ مراکش نے متعدد وزراءبرطرف کردیئے

126

رباط (نیوز نامہ)مراکش کے شاہ محمد ششم نے شمالی شہر الحسیمہ میں گذشتہ کئی ماہ سے جاری عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد اپنی کابینہ کے متعدد وزراءکوبرطرف کردیا اور ان کی جگہ نئے وزراءکابینہ میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔مراکش کے شمالی علاقے الریف میں گذشتہ سال اکتوبر سے بد امنی پائی جارہی ہے اور سرکاری حکام کی چیرہ دستیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔تب مچھیروں کے ایک رہنما محسن فکری کو کچرے کے ٹرک تلے کچل کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ان کی ہلاکت کے خلاف الحسیمہ شہر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔بعد میں ان مظاہروں نے ایک تحریک کی شکل اختیار کر لی تھی اور اب مراکش کے اس پسماندہ علاقے کے مکین ترقی اور روز گار کے مواقع مہیا کرنے کے مطالبات کررہے ہیں۔ان مظاہروں کے ردعمل میں سکیورٹی فورسز نے کریک ڈاون کیا تھا اور اس احتجاجی تحریک کے نوجوان لیڈروں کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا تھا۔ان کے خلاف اب عدالتوں میں مقدمات چلائے جارہے ہیں اور بیس مدعا علیہان کو چوتھی مرتبہ عدالت میں پیش کیا جانا تھا۔اس عوامی تحریک ” الحرکتہ الشعبی“ کے سربراہ ناصر الزفزیفی کو بھی اس سال کے اوائل میں حکام نے گرفتار کر لیا تھا۔ان کی گرفتار ی کے خلاف بھی الحسیمہ میں احتجاجی مظاہرہ کیے گئے تھے۔ناصر الزفزیفی اور ان کے ساتھیوں پر داخلی سکیورٹی پر حملے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ان کے علاوہ مراکشی حکام نے الحرکتہ الشعبی کے ارکان سمیت چالیس افراد کو گرفتار کر لیا تھا ۔ان کے وکلاءنے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے موکلین سے دوران حراست ناروا سلوک کیا گیا ہے۔ان مظاہرین کے علاوہ کیسا بلانکا کی ایک عدالت میں ایک صحافی حمید المہدوئی کے خلاف بھی مقدمہ چلایا جارہا ہے ۔ان پر یہ بھونڈا الزام عاید کیا گیا ہے کہ وہ احتجاجی مظاہروں کے دوران میں ریاستی سلامتی کو لاحق خطرے کے بارے میں حکام کو مطلع کرنے میں ناکام رہے تھے۔گویا ریاستی سلامتی کو لاحق خطرے سے آگاہ کرنا خود سرکاری حکام نہیں بلکہ اس صحافی کی ذمے داری تھی۔واضح رہے کہ الحسیمہ اور الریف کے علاقے میں زیادہ تر بربر نسل کے لوگ آباد ہیں ۔ان کے مراکش کی مرکزی حکومت سے ایک عرصے سے تعلقات کشیدہ چلے آرہے ہیں ۔اسی علاقے میں 2011ءمیں عرب بہاریہ تحریک سے متاثر ہوکر مقامی لوگوں نے کئی روز تک احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.