مزدور!تیرے ہاتھوں کے چھالوں سے سحر ہوگی

119

تحریر:مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی۔۔۔
مزدورسمجھ کے جہاں سے نکالاگیامجھے آج اسی بزم میں میراآشیانہ ہے پوری دنیاکی طرح ہمارے پیارے ملک میں بھی مزدورڈے منایاجارہاہے یاد رکھئیے کہ یکم مئی ایک عظیم دن کہلاتاہے یہ دن ان لوگوں کے نام ہوتاہے جومحنت مشقت کر کے اپنے بچوں کے پیٹ کوپالتے ہیں یعنی رزقِ حلال کی تلاش میں وہ لوگ نہ گرمی کودیکھتے ہیں نہ سردی کو،ان کے ہاتھوں کودیکھ کر دل خون کے آنسو روتاہے وہ اپنے بچوں کواعلیٰ تعلیم تونہیں دلاسکتے البتہ اسی حسرت میں صبح آنکھ کھولتے ہیں اورگلی محلے کے بچوں کوخوبصورت لباس میں سکول جاتے ہوئے دیکھتے ہیں اور حسرت کی نگاہ دوڑاتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ کاش! میرابیٹابھی سکول جاتااورڈاکٹربنتا۔کاش میرابیٹابھی سکول جاتاتوانجنئیربنتا،کاش میرا بیٹابھی سکول جاتاتوپائیلٹ بنتالیکن ان کی یہ حسرت دل ہی دل میں دم توڑجاتی ہے اورایک وقت آتاہے کہ ان کے بیٹے اپنے اباکے ساتھ مشقت والے کاموں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں جسم کی کپکپی انہیں اپنے والد کاہاتھ بٹانے سے بھی مجبور نہیں کرتی ،گردوغباراپنے باپ کے چہرے کی دیکھ کر ان معصوم بچوں کواورحوصلہ ملتاہے لیکن سوال یہ پیداہوتاہے ؂کس نے معصوم کے ہاتھوں میں اوزاردئیےکھیل ہی کھیل میں سارے جگنو ماردئیےان معصوم پھولوں کے والدین یکم مئی کوبھی مجھے اسی جوش وخروش کے ساتھ ایک چوک میں مل جاتے ہیں جس طرح روزانہ فجر کی نماز کے بعد ہاتھ میں اوزارلیے نظر آتے ہیں عجب کمال ہے کہ یکم مئی کومزدورسارے کام پراورافسرسارے چھٹی پرکیابات ہے!کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟ ؂اس شہر میں مزدورجیسادربدرکوئی نہیں جس نے سب کے گھر بنائے اس کاگھرکوئی نہیںمیرے کانوں میں آمنہ کے لال عبدﷲ کے دریتیم کاپیاراحکم آج بھی سنائی دیتاہے کہ مزدورکی مزدوری اس کاپسینہ خشک ہونے سے پہلے ہی دے دیاکرو(ابن ماجہ)مگرافسوس کی بات ہے کہ کام کے بعد مزدورمالک کے گھر کے سامنے روتاہوابھی دکھائی دے رہاہےشاعر نے اسی منظر کودیکھ کر یوں کہا؂اس ملک کے مزدور کی آزادی نہ پوچھوجس ملک کاسردار بھی آزاد نہیں ہےہر شخص کے لب لوہے کی تاروں سے سلاکرکہتاہے کہ کوئی مائل فریاد نہیں ہےمزدورکے ذہن میں یہ بات بدرجہ اتم موجود ہے کہ ایک دن آئے گاکہ ہماری فریاد رسی ہوگی اورہمارے ہاتھوں کی لکیریں چھالوں سے نکل کے باہر آئیں گی اسی تمناکے ساتھ ؂چھینے گئے بے انت نوالوں سے سحر ہوگی مزدورتیرے ہاتھوں کے چھالوں سے سحر ہوگیسہمے ہوئے جینے کی چکاچوندسے سورجابھرے گاپسینے کی چکاچوندسے سورجخوابوں سے سحر ہوگی ،خیالوں سے سحر ہوگیمزدورتیرے ہاتھوں کے چھالوں سے سحر ہوگیزخموں کی مسیحائی سے بدلے گازمانہاب درد کی رسوائی سے بدلے گازمانہمجبوری کے افسردہ حوالوں سے سحرہوگیمزدورتیرے ہاتھوں کے چھالوں سے سحر ہوگیآج تو مزدورکی بیٹی بھی اپنے باپ کوگلے شکوے نہیں کرتی کیونکہ اس کومعلوم ہے کہ شام کوباپ کاپسینہ اس کے اندر چھپی ہوئی کئی امیدیں ظاہر کردیتاہے وہ بیٹی اپنے باپ کے ہاتھوں کے چھالوں کواپنے لیے سوناسمجھتی ہے اوراپناہاتھ اس کے ہاتھ میں دے کر پیاسدھارجاتی ہے ،باپ بیچارہ اپنی بیٹی کوپیتل کی بالیاں پہناکر ڈولی میں ڈال دیتاہے یہی منظر مجھے یہاں نظر آتا ہے ؂پیتل کی بالیوں میں بیٹی بیاہ دیاورباپ کام کرتاتھاسونے کی کان میں ایام مناناآسان ہیں مگراس دن کے تقاضے کوبھی دیکھناہوگاکہ کیااس دن سے ان لوگوں کوبھی کوئی فائدہ ہواجن کے نام سے یہ دن موسوم کیاگیا،یکم مئی کے دن سے مزدورکوکتنافائدہ ہواکیااس کواس دن امیرشہر کی طرف سے کوئی صلہ ملا؟کیامزدورآج کے دن اپنے بچوں کے ساتھ گھر میں رہااورامیرشہر نے اس کے گھر کھانابھجوایا؟کیامزدورکے بچوں نے آج کے دن اپنے باپ کے ماتھے پہ پسینہ نہیں دیکھا؟اگر یہ سب کچھ ہے توپھریوم مزدور ڈے مزدوروں کومبارک ہولیکن ایساہوتاہوااس دیس میں دکھائی نہیں دیا؂گندم امیرِشہر کی ہوتی رہی خراب بیٹامگر غریب کافاقوں سے مرگیامزدورکی ایک شان ہے اس کی ایک پہچان اورامیرشہراورعوام شہرپہ اسی مزدورکااحسان ہے بس خوشی اورغم میں ہمیں اس کاسہارا بنناہوگاﷲ پاک ہمیں ان لوگوں کی خدمت اوران کی قدرکی توفیق عطافرمائے (آمین)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.