امام کعبہ کا بصیرت افروز خطاب …!

76

تحریر: رانا اعجاز حسین ۔۔
دورہ پاکستان کے دوران امام کعبہ ڈاکٹر شیخ عبداللہ بن عواد الجہنی نے علمائے کرام سے ملاقات اور سیمینار سے خطاب میں اتحاد امت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علماء کا کام اللہ تعالیٰ کے بندوں کو آپس میں جوڑنا ہے، علماء نے صبر و یقین سے امت کی رہنمائی کرنی ہے کیونکہ علماء نے ہر دور میں علم پہنچایا، ضروری ہے کہ آپ جو بھی فتویٰ دیں وہ حق اور سچ پر مبنی ہو۔ امام کعبہ ڈاکٹر شیخ عبداللہ بن عواد الجہنی نے فیصل مسجد اسلام آباد میں خطبہ جمعہ دیااور پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور سلامتی کے لیے دعا کی ۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں منعقدہ ’’عصر حاضر کے تقاضے اور نوجوان نسل‘‘ کے موضوع پر سیمینار سے اپنے بصیرت افروز خطاب میں معزز مہمان امام کعبہ ڈاکٹر شیخ عبداللہ بن عواد الجہنی نے کہا کہ مسلمان نوجوان اسلامی دنیا کا مستقبل اور ایک ایسی موثر قوت ہیں جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ انہوں نے قرآن و حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے نوجوان نسل کو دین کی حفاظت کے لئے کمر بستہ ہونے پر زور دیا اور کہا کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانوں کی تربیت کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ وہ ایسے عناصر کے جھانسے میں نہ آئیں جو انہیں گمراہی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ اور نوجوان امت مسلمہ کے دشمنوں کے منصوبوں کو ناکام بناتے ہوئے تقویٰ اختیار کریں۔ امام کعبہ کے خطاب کا یہ جملہ پاکستانی نوجوانوں کے لئے مشعل راہ ہے جو مختلف شعبوں میں تعلیم و تربیت حاصل کر رہے ہیں یاملک و ملت کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن دنیا میں پھیلی ہوئی بہت سی برائیاں انہیں صراط مستقیم سے ہٹانے کے لئے ان کا پیچھا کر رہی ہیں۔ بلاشبہ نوجوان کسی بھی ملک و قوم کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں، اورجب قوم کے نوجوان بلند حوصلہ، پر جذبہ اور قوم کی خدمت کے لئے کچھ کرنے کا جنون رکھتے ہوں تب ہی وہ قوم ترقی کی منازل طے کرکے اعلیٰ اقدار کے منصب پرفائز ہوتی ہے ۔
امام کعبہ ڈاکٹر شیخ عبداللہ بن عواد الجہنی نے کہاہے کہ اسلام اخوت اور بھائی چارے کا نام ہے، ہمارا مذہب امن و امان سے رہنے کا درس دیتا ہے، آج امت مسلمہ کو اتحاد کی سخت ضرورت ہے۔ بے شک امام کعبہ نے درست فرمایا ، اسلام دشمن قوتوں نے عالم اسلام پر جنگ کی سی صورتحال مسلط کررکھی ہے ، جوکہ ہمیں تفرقہ میں ڈال کر تقسیم کر نا، اور ہمارے ایمان کو کمزور کرنا چاہتی ہے تاکہ مسلمان دنیا پر غلبہ پانے کی بجائے ہمیشہ مغلوب اور معاشی طور پر کمزور رہیں۔ آج خوش قسمتی سے دنیا بھر کے تقریباً 192 ممالک میں سے اٹھاون ممالک مسلمان ہیں ، اوردنیا بھر کے تقریباً چھ ارب سے زائد انسانوں میں سے تقریباً دو ارب مسلمان ہیں جو کہ دنیا کے معدنی ذخائر میں 75 فیصد کے مالک ہیں۔آج بدقسمتی سے مسلم اکثریت کے پاس کچھ نہیں ہے تو دور اندیش، نڈر اور بہادر قیادت نہیں ہے، اگر نہیں ہے تو اتحاد نہیں ہے۔ جبکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سامراجی ذہنیت کی عالمی طاقتیں ان کے وسائل پر قبضہ کرکے پوری دنیا پر حکمرانی کرنے کا منصوبہ بنائے بیٹھی ہیں، مگر اس کے باوجود عالم اسلام میں اتحاد و اتفاق کا فقدان ہے۔ کسی بھی ملک کی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی حریف ہیں ،حزب اقتدار اور اختلاف میں جھگڑے، ذاتی دشمنیاں اور عناد ہیں۔ دینی اور مذہبی جماعتوں ، اداروں اور رہنماؤں میں اتنا اختلاف ہے کہ بغیر کسی دلیل کے ایک دوسرے کو مفافق ، ملحد اور ایجنٹ ہونے کے القاب دیتے نظر آتے ہیں، تو کہیںصوبائیت ، لسانیت، قومیت اور وطنیت کے جھگڑے ہیں۔ جبکہ اسلامی تعلیمات میں سب سے زیادہ زور اتفاق و اتحاد پر دیا گیا ہے، آپس میں محبت ،اخوت، بھائی چارہ، ایمان واتحاداور یقین مسلمانوں کا موٹو ہوتا ہے، اسلام کی تمام تعلیمات انصاف اور عدل پر مبنی ہیں، اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حجتہ الوداع میں حکم فرمایا تھا ’’ دیکھو ! باہمی اختلاف میں نہ پڑنا۔‘‘ قرآن کریم میں اللہ ربّ العزت کا حکم ہے ’’ ولاتفرقوا‘‘ ’’اختلاف ہرگز ہرگز نہ کرو۔‘‘ تاریخ اٹھا کر دیکھیں اختلاف ہی کی وجہ سے قوموں اور ملکوں کو بڑے بڑے نقصان اٹھانا پڑے ہیں۔ اختلاف ہی کی وجہ سے آج بھی مسلمان ممالک پستی اور ذلت کا شکار ہیں۔ آج مسلم امہ میں اتفاق اور اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ مسلمان بہت طاقتور ہوسکتے ہیں بشرطیہ اختلافات کے ناسور سے نکل کر اتحاد و یکجہتی کے ایک نقطے پر متفق ہوجائیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.