توبالکل ایسا

76

تحریر :ثنا ظہیر۔۔۔۔ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک آدمی غاروں پر کسی تحقیق میں مصروف تھا۔ ایک ایسے شہرمیں جانا پڑھ گیا جہاں زیادہ تر غاریں سمندر کے کنارے پر واقع تھیں، وہ آدمی ایک غار میں گیا اور اس غار کا بغور جائزہ لے رہا تھا کہ اس کی نظر ادھر پڑے ایک بیگ پر پڑی۔ اس بیگ کے اندر ڈھیر سارے مٹی کے گولے پڑے تھے۔جیسے کسی نے خود گول گول مٹی کے گولے بنا کر سکھانے کے لیے رکھے ہوں، اس آدمی کو وہ گولے اچھے لگے سو وہ اس بیگ کو اٹھا لایا۔ وہ سمندر کے کنارے چہل قدمی کر رہا تھا۔ اس نے وہ بیگ ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا، ایک دم اس کے دل میں کوئی خیال آیا اور اس نے ایک مٹی کا گولا نکال کر سمندر میں پھینک دیا، پھر اسی طرح ایک ایک کر کے مٹی کے گولے نکال نکال کر دور دور سمندر میں پھینکنے لگا۔ اسی دوران ایک گولانیچے گر پڑا اور کیونکہ نیچے پتھر تھا تو وہ ٹوٹ گیا اور اس آدمی نے دیکھا تو اس گولے میں سے ایک گوہر نکلا تھا۔ وہ آدمی ایک دم حیران ہو گیا اور اس نے ایک اور مٹی کا گولا نکالا اور اسے بھی نیچے پتھر پر دے مارا، دیکھا تو اس میں ایک یاقوت تھا، ایک اور توڑا تو اس میں مرجان تھا، ایک اور توڑا تو اس میں ہیرا تھا، اسی طرح وہ تمام گولے توڑتا گیا اور دیکھا تو ان میں سے ہر ایک میں کوئی نہ کوئی عالی قیمت گوہر برآمد ہو رہا تھا۔ وہ آدمی بہت خوش ہوا کہ اچانک اسے یاد آیا کہ ابھی تو صرف بیس گولے بچے تھے اس نے کوئی پچاس کے قریب گولے تو سمندر میں پھینک دیے تھے۔ وہ ایک دم اپنے اوپر غصے ہونے لگا کہ یہ کیا بیوقوفی کی۔اسی طرح زندگی میں ہم اتنے لوگوں سے ملتے ہیں لیکن فطرت کے مطابق دوستی ایسے لوگوں سے کرتے ہیں جو ہم جیسے ہوں یا ہم سے زیادہ خوبصورت ، سٹائلش یا امیر ہوں حالانکہ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ کسی بھی کتاب کو اس کی جلد دیکھ کر نہیں جانچا جا سکتا۔کسی بھی انسان سے ہم کیا کچھ سیکھ سکتے ہیں ، اس کے لیے اس کی چیزوں یا حسن سے متاثر ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ لیکن ہم انسانوں میں بھی بہت سے ایسے انمول گوہر گما دیتے ہیں کیونکہ ہمارے اندر حکمت کی کمی ہوتی ہے۔ ہر انسان کو موقع دینا چاہیے ہے اور ہر ایک کو برابری سے ٹریٹ کرنا چاہیے۔ ہمیں کیا پتہ کہ کون ہمیں زندگی کا کوئی ایسا اہم سبق دے جائے جو ہمارے ہمیشہ کام آئے۔ انسانوں کی قدر کرنی چاہیے ہے اور ان کے ظاہر سے کہیں زیادہ ان کے باطن پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے، اسی طرح ہم اچھے اور صحیح دوست بنا سکتے ہیں، ورنہ ہماری ہر دوستی اگر دنیاوی اور ظاہری چیزوں کی بنیاد پر استوار ہو گی تو وہ آگے جا کر زندگی میں ہمیشہ کسی نہ کسی مصیبت یا دکھ کا موجب بنے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.