بلاول بھٹو زرداری کی کرشمہ ساز لات

103

تحریر:صابر مغل۔۔۔
اس موضوع پر لکھنے میں کچھ تاخیر ضرور ہو گئی اس لئے مئوخر کر دیا تھا مگر آج کی ایک خبر کے مطابق آخری دو روز میں تھرپارکر جہاں 10تاریخ کو ہی بلاول بھٹو زرداری نے تھرکول پاور پلانٹ کاافتتاح کیا تھا میں تین بچے طویل عرصہ سے اس علاقے پر کسی ڈائن کی طرح منہ کھولے غذائی قلت کے باعث تین بچے منوں مٹی تلے رکھ دئیے گئے رواں ماہ مرنے والے بچوں کی تعداد27اور رواں سال جس کا چوتھا مہینہ ابھی وسط میں ہے میں ہلاک شدگان بچوں کی تعداد227ہو چکی ہے یہ تازہ ترین اعدادو شمار ہیں کل یابعد میں یہ تعداد کہاں تک پہنچتی ہے اللہ جانے،بلاول نے دورہ تھر کے موقع پر انتہائی بلند وباہنگ دعوے کئے نئے ہسپتال کی تعمیر،یونیورسٹی کے کیمپس کا قیام،اسلام کوٹ اور تھر کے باسیوں کو مفت بجلی فراہم کرنے کے اعلان شامل تھے بلاول بھٹو زرداری نے اس منصوبے کو گڈ گورنس کی بہترین مثال قرار دیامگر ان سمیت سندھ کے دیگر بادشاہوں میں سے کسی ایک کی تقریر میں بھی یہاں ہر لمحہ گزرتی قیامت کا ذکر تک نہ تھا،بلاول نے کہا تھر کول کی کہانی بہت لمبی ہے جس کا خواب ان کی والدہ شہید بے نظیر بھٹو نے دیکھا تھا،حیرت ہے بلاول کو علم ہونے کے باوجود اس علاقے کی عوام کا خیال نہ آیا بچے مر تے رہے ،مر رہے ہیں اور مرتے رہیں گے مگر شاید اس بد نصیب خطہ کی جانب بہتر گورنس کے طور پر نہ وفاق اور نہ ہی عرصہ دراز سے سندھ کارڈ کھیلنے والے اور گذ گورنس کے ڈونگرے برسانے والے کچھ کر پائیں گے،جب بھی آئے روز تھرپاکر میں اموات سے متعلق علم ہوتا ہے تب حیرت ہوتی ہے دل کرب اور دکھ سے چھلنی ہو جاتا ہے کہ اللہ پاک نے کیسے کیسے عجوبے اس قوم پر مسلط کر رکھے ہیں،ہر سال کی طرح اس بار بھی گڑھی خدا بخش میں ذوالفقار علی بھٹو کی برسی منائی گئی یہ برسی ہر سال یوں منائی جاتی ہے جیسے یہ کوئی سیاسی جلسہ ہوجس میں مخالفین کو ٹھیک طرح لتاڑا جائے اور ایسا ہی شہید بے نظیر بھٹو کی برسی پر بھی ہوتا ہے دونوں برسیوں میں مجموعی طور پر مماثلت ہے،وفاق میں کئی بار اقتدار رہا صوبہ میں طویل عرصہ سے حکومت ہے مگر نہ کچھ بہتر تھا نہ کچھ بہتر ہونے کی توقع ہے،ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر سابق صدر آصف علی زرداری نے حکومت کو ہر حالت میں ختم کرنے کی تحریک کا اعلان کر دیا انہیں اس وقت تک معلوم نہیں تھا کہ ان کے صاحبزادے جو ان کے بعد عوام سے مخاطب ہوں گے اتنی قوت کے مالک بن چکے ہیں جس نے کہاکہ وہ تو ایک لات مار کر حکومت کا خاتمہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،پھر انہیں یہ کہنے کی کیا ضروت تھی کہ کون سمجھ رہا ہے کہ بھٹو کا نواسہ نیب سے ڈر جائے گا؟کتھ پتلی وزیر اعظم کو کوئی بات سمجھ نہیں آتی آج تم اقتدار کے ایوان میں بیٹھ کر تکبر کی علامت بن چکے ہو،اس موقع پر بلاول نے ایک وزیر کو بھی ہتانے کا مطالبہ کر ڈالا جس پر مبینہ طور پر بے نظیر قتل سازش کا الزام ہے انہیں یاد نہیں رہا ایسے وزراء تو وفاق میں ان کی حکومت کے دوران بھی تھے ،سندھ کی پسماندگی کا ذمہ دار بھی وفاقی فنڈز کو قرار دیا اس کا جواب بھی ان کی وفاقی حکومت ہی ہے جو تھی،عجب تماشہ ہے ایک طرف لات مارکر حکومت ختم کرنے کا دعویٰ اور دوسری طرف وزیر اعظم کو سمجھانے ،نیب کو ڈرانے جیسی باتوں کا شور؟جس دن بلاول نے ایسا فرمایا اس دن اس شخص کی برسی تھی جس کا بنیادی نعرہ ہی روٹی ،کپڑاا ور مکان تھا اس لئے ضروری ہے ان کی ہر برسی پر عوام مفادات کے لئے ایسے اقدامت کر دئیے جائیں جن سے عوام کے منہ سے دعائیں نکلیں،لوگوں کی زندگی آسان ہو جائے،موت کی وادی تھرپارکر جو سندھ میں ہی ہے وہاں موت کا اژدہا معصوم بچوں کو نگلنے سے باز رہے،مگر ایسا شاید ممکن ہی نہیں پاکستان کی اشرافیہ چاہے اس کا جس بھی سیاسی جماعت سے تعلق ہے نچلی سطع پر عوامی مسائل سے مکمل طور پر لا علم اور بے حس ہے جن میں غریب عوام کے لئے درد نہیں بلکہ سفاکیت کوٹ کوٹ کر بھری ہے،کوئی مرتا ہے مر جائے ،کسی کو دوا ملے نہ ملے ،کسی کو تعلیمی سہولیات حاصل ہوں نہ وں ،کسی کو کھانے کے لئے روٹی ملے نہ ملے،کوئی جہنم کی آگ میں جھلسے یا جھلستا رہے،بے روزگاری حدوں کو چھو جائے یا مزید چھوتی رہے،یہ گندے جوہڑوں سے پانی پئیں یا نہروں سے یتے رہیں،بلکتے رہیں روتے رہیں تڑپتے رہیں بلکہ مزید بلکیں،تڑپیں یا روتے رہیں،اس مفلوج زدہ سسٹم میں ان کے سامنے ناچنے والے بہت ہیں ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونے والوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں جب ایسی شان نصیب ہو،ہر طرف پروٹوکول کی بہار ہو،اعلیٰ ترین حکومتی شخصیات کٹھ پتیلیوں کی طرح لبیک لبیک کی گردان میں مصروف ہوں تب بھلا رعونت کیسے نہ آئے ،سامنے ذوالفقار علی بھٹو کے نام پر جم غفیر ہو تو دماغ میں بہت کچھ آجاتا ہے تب دماغ کی راہداریوں میں یہی عوام کیا آئینی طور پر قائم حکومت بھی ایک لات کی مار بن جاتی ہے ایسی ا لفاظی ،ایسی سوچ ایسا رویہ ،ایسا طرز عمل تکبر کی بدترین علامتیں ہیں،اس ریاست میں جتنا نقصان صوبائی،لسانیت نے پہنچایا ہے کسی اور نہیں پہنچا سکا یہی سوچ عوام کے ذہنوں میں ڈال کر انہیں کنویں کے بیل کی طرح استعمال کیا گیا اور وہ اسی ایک ہی کام میں جتے رہے نہ انہیں اپنے آبائو اجداد یاد آئے نہ انہوں نے اپنی زندگی میں بہتری کا سوچا اور نہ ہی آنے والی نسل کو تحفظ دینے بارے میں کوئی اقدام اٹھایاوہ غلامی میں رہے اور آنے والی نسلوں کو بھی اسی سسٹم کے تحت غلامی میں دیتے جا رہے ہیں، جس طرح ہندو ازم میں ذات پات کا نظام عرو ج پر ہے سندھ میں بھی وڈیرے اور ہاری اسی کا تسلسل ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو چاہئے کہ وہ لات مار کر سب سے پہلے تھرپارکر میں غذائی قلت کا خاتمہ کریں تاکہ یہ نہ کہاجا سکے کہ غذائی قلت کی بدولت اموات در اموات ہوتی چلی جا رہی ہیں،لات مار کر سندھ میں بھوک اور ننگ کا خاتمہ کریں،بلاوال بھٹو زرداری کے اس بیان پر ایک واقعہ یاد آیاسابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو پرویز مشرف نے گھر بھیجا تو وکلاء اور سول سوسائٹی کی انتہائی محنت اور جوش وجذبہ سے لبریز تحریک سے حکومت مجبور ہو گئی کہ ان سمیت دیگر ہٹائے جانے والے تما م ججز کو بحال کر دیا جائے (اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم پاکستان تھے)،افتخار چوہدری کی بحالی کے بعد مجھے ایک جاننے والے بزرگ ملے جو انتہا پسندی تک پیر پرستی کے قائل ہیں باتوں باتوں میں انہوں نے مجھے کہا تمہیں پتا ہے چیف جسٹس کیسے بحال ہوا میں نے جواب دیا کہ عدلیہ بحالی تحریک کی وجہ سے ،تب وہ جلال میں آگئے اور کہا نہیں ایسا بالکل نہیں یہ سب میرے مرشد کا کمال ہے جو ان کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس خواجہ شریف کے بھی پیر صاحب ہیں انہوں نے خواجہ شریف سے پہلے ہی کہہ دیا تھا جائوں نہ صرف تمہارا کام ہم نے کر دیا ہے بلکہ تمہارے چڑے چیف جسٹس کو بھی بحال کر دیا ہے،الراقم ان کی اس قدر توہم پرستی پر متحیر ہو کر بولا تو پھر ایک مہربانی فرمائیں ریاست پاکستان میں اور بھی بڑے مسائل ہیں ذرا پیر صاحب سے گذارش کر دیں کہ وہ ان کا بھی حل فر ما دیں ،میری اس بات پر وہ بہت سیخا پا ہوئے مگر ان کے دلیل کے اعتبار سے جواب نہیں تھا ،ایسا ہی کچھ بلاول بھٹو زرداری کہہ گئے کہ حکومت کو ایک لات مار کر گرا سکتا ہوں ،ان سے بھی گذارش ہے کہ اور تو کچھ کریں نہ کریں ایک لات مار کر اپنے والد آصف علی زرداری ،محترمہ فریال تالپور ،مراد علی شاہ،قائم علی شاہ،شرجیل میمن ،ڈاکٹر آصف سمیت دیگر جتنے بھی ان کی پارٹی کے افراد ایف آئی اے،نیب ،احستاب عدالتوں یا اسلام آباد ہائی کورٹ کے رحم و کرم پر ہیں ان کی ہی جان چھڑا دیں۔شاید یوں تمام ملکی مسائل حل ہو جائیں تھرپارکر میں اموات ،سندھ سمیت پورے ملک میں خوشحالی کا دورہ دورہ ہوپھر انہیں ایسا بیان بھی نہیں دینا پڑے گا کہ ہم NABسے نہیں ڈرتے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.