ایک دوسرا زاویہ

3,238

تحریر:آئمہ محمود۔۔۔۔۔دیکھیں یہ بالکل زیب نہیں دیتا ۔ اب میڈیا پر تنقید نہ ہو گی تو کیا شاباشی ملے گی۔ایک خاتون وہ بھی وزیر صحت کے آگے زبان چلانا اور سوال کرنا کہ کیوں سو روپے کی دوائی چار سو میں ہو گئی ہے؟ نہ صرف سوال کرنا بلکہ جواب پر اصرار بھی کرنا اسکو Bad mannersنہ کہیں تو اور کیا کہیں؟ ہم سے تو یہ منظر دیکھا نہ گیا ۔ لیکن قابل تعریف ہیں ڈاکٹر یاسمین صاحبہ، میڈیا کی گستاخی کے باوجود اطمینان سے بتایا کہ ,,سب دوائیوں کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا صرف ایمرجنسی اور آپریشن کیلئے ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہواہے،،
اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ صحافی حضرات ڈاکٹر صاحبہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے اور اپنی راہ پکڑتے۔ لیکن ناجی ! وزیر صاحبہ کے جواب کو رد کرتے ہوئے اگلا سوال داغ دیا کہ Erythrocin(انیٹی بائیوٹک ) تو کسی سرجری میں استعمال نہیں ہو تی وہ کیوں 400روپے سے 900روپے کر دی گئی ہے۔ یہ تو انتہا ہی ہو گئی میڈیا کی یہ ڈھٹائی دیکھ کر مجبورا ڈاکٹر صاحبہ کو کہنا پڑ گیا کہ,, مجھ سے آرام سے بات کریں آواز اونچی نہ کریں،،۔
معذرت کے ساتھ ہمیں تو سوالات پوچھنے والے صحافیوں کے gender biasہونے پر شہبہ ہو رہا ہے۔ ہمارے اصولوں پر مبنی معاشرے میں سر عام ایک خاتون سے خواہ وہ منسٹر ہی کیوں نہ ہو سوال و جواب کرنا کچھ مناسب نہیں لگتا۔ اب دوائیاں مہنگی ہو رہی ہوں تو بیچاری وزیر صحت کیا کریں ؟ اس قوم میں تو زرا سا صبر نہیں ،یہ نہیں کہ تھوڑا سا انتظار کر لیں ۔ جلدی ہی سب کو صحت کارڈ مل جا ئیں گے پھر تو میڈسنز ہزاروں میں کیوں نہ ہو جائیں بنا ایک پیسہ خرچ کیے سب کو دستیاب ہونگی۔ہمیں تو یہ شک پڑرہا ہے کہ یہ میڈیا کے حضرات ہر معاملے میں منفی چیزیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالنے میں لگے ہوئے ہیں اب پشاور میٹروہی کو لیں ۔ ایسے شاندار منصوبے کے بارے کتنا برا بھلا کہا جا رہا ہے۔چھ مہنیے کا منصوبہ دوسال گزرنے کے باوجود پورا نہیں ہوا۔ بجٹ 68ارب سے 83 ارب تک پہنچ گیا ہے۔ منصوبے میں بے شمار تکنیکی خامیاں ہیں۔ شہر کو جگہ جگہ سے اکھاڑ کر اس کا ستیہ ناس کر دیا گیا ہے۔کچھ لوگ احتجاج کر رہے ہیں کہ ہمارا پرانا پشاور ہمیں لوٹا دو،ہمیں جدید پشاور نہیں چاہیے۔ بس جتنے منہ اتنی باتیں اور تو اور صوبے کی موجودہ حکومت نے پروجیکٹ کی تا خیر کے حوالے سے جو رپورٹ تیار کی ہے اسمیں بھی اسی قسم کی خرافات کا ذکر کیا گیا ہے ۔ میڈیا تو لے اڑا اس رپورٹ کو ۔لگا وضاحتیں طلب کرنے موجودہ وزیر دفاع سے جو اس وقت صوبے کے وزیر اعلی تھے ۔ وزیر دفاع نے میڈیا کو ایسا دندان شکن جواب دیا کہ سب کی بولتی بند ہوگئی۔ کہتے ہیں
,, آپ سب میرے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں؟ میر ا کا م نہیں ہے کہ بس ڈیزائین دیکھوں ، نقشے دیکھوں۔ میں کو ئی انجینر یا ٹھیکہ دار نہیں ہوں ۔ پکڑنا ہے تو ان کو پکڑو۔ میں نے کو ئی بد عنوانی نہیں کی میں اپنے اللہ کو جواب دہ ہوں ،،
یہ سننا تھا کہ سب نے چپ سادھ لی اور کسی کی مجال نہیں ہوئی کہ دوسرا سوال کرئے ۔ تاہم ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کچھ خبطی افراد سوال اٹھا رہے ہیں کہ قوم کے روپے کو اسطرح ضائع کر کے خزانے کو نقصان پہچانا بدعنوانی کے زمرے میں نہیں آتا تو اور کیا ہے؟ اس کا احتساب ہونا چاہیے! اب حکومت اپنے ہی لوگوں کا احتساب شروع کردے گی تو وہ جو ملک کے سابقہ خادمین کے خلاف بدعنوانی کے سنکڑوں مقدمے اور فائلوں کے ڈھیر اکٹھے ہو رہے ہیں انکا کیا بنے گا؟ یہ تو وہی ہوا پچھلا چھوڑ اگلا پکڑ۔ نئے پاکستان میں ایسا بالکل نہیں ہو گا ۔ ادھورے مقدمے پورے کیے جائیں گے اور قوم کے ساتھ مکمل انصاف ہو گا خواہ عدالتوں میں انھیں انصاف ملے یا نہ ملے! ویسے بھی موجودہ وزیر دفاع کیسی کے سامنے جوابدہ نہیں سوائے اللہ کے۔ ایسے برگذیدہ بندے پر کوئی انگلی بھی کیسے اٹھا سکتا ہے؟یہاں ہم خبردار کر دیں کہ اگر کوئی عوام ٹائپ فرد وزیر دفاع کو مثال بنا کر یہ سمجھنے لگے گا کہ وہ بھی اللہ کے سامنے جوابدہی کا claimکر کے اپنی کردہ چشم پوشیوں ، خیانتوں اور illegalمعاملات سے بری الذمہ ہو جائے گا ،تو دھیان رہے یہ درجات صرف اہل اقتدار کو حاصل ہیں اور وہ بھی جو کرسی پر براجمان ہوں۔رہ گئی احتساب کی بات تو اسکے لیے لوگوں کی کمی نہیں۔ زرداری، بلاول اور شریف خاندان نے ہی اتنا مٹیریل مہیا کیا ہو ا ہے کہ حکومت کی مدت بنا کسی تکلیف کے گزر جائے گی۔ حکومت کو اس بات کا کریڈٹ دینا ہی پڑئے گا کہ احتساب کے معاملے میں اس کی کارکردگی over the topہے۔ بلکہ کچھ شکی مزاجوں کو تو یہ سب نورا کشتی لگتی ہے جیسے پچھلے جمعہ اور ہفتے کو لاہور میں نیب ، پولیس اور حمزہ شہباز کی احتساب کے حوالے سے جو فل ڈریس presentationڈرامہ ، تھرل ،اور ایکشن کے آزمودہ فارمولے کے ساتھ بذریعہ ٹی وی چینلز اہل ملک کو دیکھنے کو ملی اس نے ہمیں وہ فلمی مناظر یاد دلا دئیے جس میں میلے ٹھیلے کا سیٹ لگا ہوتا ہے۔ بہت پبلک ہوتی ہے جو کھانے پینے اور خریداری میں لگی ہوتی ہے بال بچے جھولے جھول رہے ہوتے ہیں اس گہما گہمی کی آڑ میں ولن کسی کو اغوا کر لیتا ہے یا منشیات اور پیسے کا تبادلہ کرتا ہے یا کسی ساہوکار کی تجوری لوٹ لیتا ہے ۔ بڑے درجے کے ان جرائم کے علاوہ grass rootکی سطح کے چور حضرات بھی میلے میں لوگوں کی جیبیں کاٹنے، کلائیوں سے گھڑیاں اتارنے میں لگ جاتے ہیں اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ دراصل میلہ تو محض destractionہوتا ہے اصل واقعات کی تکمیل کیلئے تاکہ کہانی آگے بڑھتی رہے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ نیب کی ایکشن orientedکاروائی کاتعلق اس فلمی میلے سے ہے یہ تو ویسے ہی بات سے بات نکل پڑی تو ہم نے ذکر کر دیا ورنہ ہمیں تو نئے پاکستان کے خدمت گاروں کے جذبے پر رتی برابر شک نہیں ۔مسلہ اگر کہیں ہے تو اس ملک کے لوگوں کا ہے اور خاص طور پر میڈیا کا جنھیں فورا سے پہلے اپنے درد کا علاج چاہیے۔ہم سب کو خدمتگاری کے جذبے سے سر شار حکومت کے اقدامات کو کھلے دل سے تسلیم کرنے کی ضرورت ہے ۔ غذائی اشیا ء کی قیمتوں میں ناقابل یقین اضافے ، روپے کی قدر میں گرواٹ اور مہنگے ہوتے ہوئے ڈالر کو criticize کرنے کی بجائے اسکے مثبت پہلوئوں کو سامنے رکھنا چاہیے۔ کم کھانا صحت کے لیے بہت فائدہ مند ، صحت اچھی ہو گی تو نہ ڈاکٹر کی ضرورت ہو گی اور نہ دوائی کی ۔ بجلی نہیں ہو گی تو ٹی وی ، سوشل میڈیا سے بھی چھٹکارا ملے گا ۔ تعلیم نہیں ہو گی تو پڑھے لکھے بے روزگاروں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔عوام کا مسلہ یہ ہے کہ انھیں حکومت کی دور اندیشی سمجھ نہیں آرہی ورنہ فیصل واوڑا کی دورفتنیوں پر ہنسنے کی بجائے ان کا خیر مقدم کرتے۔

نوٹ:نیوزنامہ پرشائع ہونے والی تحریریں لکھار ی کی ذاتی رائے ہے ،ادارےکا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.