ڈیوٹی کے بعد ٹائرپنکچرکاکام،18افرادکاواحدکفیل شہید پولیس اہلکارفاروق روشن مثال قائم کرگیا

115

کراچی(ویب ڈیسک)رزق حلال کمانے والوں کے راستے کی رکاوٹ دنیا کی کوئی چیز نہیں بن سکتی،کراچی میں معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے میں شہید پولیس اہلکار محمدفاروق پارٹ ٹائم میں ٹائر پنکچرکی دکان چلاتا تھا،شہید محمد فاروق اٹھارہ افراد کا واحد کفیل تھااور مفتی تقی عثمانی سے بے پناہ عقیدت رکھتا تھا،فرائض کی ادائیگی کے دوران جان قربان کرنے والے شہید محمد فاروق نے کم تنخواہ کا شکوہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کےلیے مثال قائم کردی اورثابت کردیا کہ ’’اوپر‘‘ کی کمائی کے بجائے محنت کر کے رزق حلال کمایا جاسکتا ہے،محمدفاروق نے دارالعلوم کراچی کے عقبی علاقے میں ایک دکان کرائے پرلے کر ٹائر پنکچر کا کام شرو ع کررکھا تھا،دکان پر ایک لڑکا ملازم رکھا ہوا تھا،جبکہ ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد دکان پر خود بیٹھ کر ٹائروں کو پنکچر لگاتا تھا،شہید اہلکار محمد فاروق باغ کورنگی کا رہائشی تھاشہید کے والد دل کے مرض میں مبتلا ہیں، فاروق کے سات بچے ہیں جن میں سے تین نابینا ہیں،شہید کی ایک بہن بیوہ ہے اور اس کے تین سے دس سال کے پانچ بچے بھی فاروق کے زیرکفالت تھے،فاروق دوغیرشادی شدہ بہنوں کےلیے جہیز بھی اکٹھا کررہا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.