من کی بات۔۔۔

3,339

تحریر:آئمہ محمود۔۔۔کیا بات تھی! کیا جوش تھا! Literallyبہار ہی بہار تھی۔ منہ کا ذائقہ بالکل بدل گیا ۔ بدلنا بھی تھا کیونکہ ملک میں عورتوں کا عالمی دن منایا جا رہا تھا وہ بھی ایسا ،ویسا! عورت مارچ ہے۔ اسمیں جو مطالبات اور Slogansپوسٹرز کی زینت بنے وہ اس دن کویقینا next levelپر لے جا نے کی نشاندہی کر رہے تھے وہ خواتین و حضرات جن کو پو سٹرز کی تحریروں سے زور کا دھچکہ لگا ہے۔ وہ ہمیں کہنے کی اجازت دیں کہ جناب یہ 2019ہے اور آپ کا مسلہ یہ ہے کہ مارچ کی منتظمین کی طرح آپ between lines جو ہے اس کو پڑھنے کی کو شش نہیں کر رہے تبھی تو آپ ان نعروں کے پیچھے پوشیدہ عقل و فہم کو سمجھ نہیں پا ئے ۔ سیدھی بات کا نہیں بلکہ abstractکا ٹائم چل رہا ہے ورنہ آپ ،، میرا جسم میری مرضی،، پر تلملانے کی بجائے اس بات کی تحسین کرتے کہ ملک میں عورت کی شناخت بحیثیت ایک انسان اسقدر مستحکم ہو گئی ہے کہ اسکا عورت پن کہیں کھو گیا ہے اسی کی تلاش میں یہ نعرہ لگا تاکہ اہل معاشرہ کو یاد دلایا جائے کہ عورت صرف انسان نہیں ایک عورت بھی ہے! نقاد اس نکتے کو مد نظر رکھیں کہ امتیازی قوانین، متعصبانہ رویے وتفریق، غیر منصفانہ معاشی و سیاسی نظام سے چھٹکارے کے بعد اب وقت آگیا ہے کہ بیانگ دہل اعلان کر دیا جائے کہ ،،تمھارا موزہ کہاں مجھے نہیں پتہ،،ہم یہاں یہ ضرور کہیں گے کہ اگر یہ بھی بتا دیا جائے کہ موزہ زنانہ ہے یا مردانہ تو بات مذیدواضح ہو جاتی کیونکہ زنانہ موزوں کی تو ہمیں ہمیشہ خبر رہتی ہے۔ جانتے تو ہم مردانہ موزے کی locationکو بھی ہیں لیکن جدیدت کا معاملہ ہے اس لیے بتائیں گے نہیں!
رہ گئی بات گھروں اور کام کاج کی جگہ پر ہراسگی کے خاتمے کی تواس پر باقاعدہ قانون سازی ہو چکی لہذا عالمی دن پر اس ایشو پر بات وقت کا زیاں ہوتا۔ اسی طرح عزت کے نام پر قتل ہونے والیوں کا حساب کتاب تو آئے دن برابر ہو رہا ہے اگر کوئی کم عقل انصاف کی طلبی پر اصرار کرئے تو ہمیشہ کیلئے زبان بندی کر دی جاتی ہے۔ مرحوم افضل کوہستانی کی مثال ہمارے سامنے ہے جنھیں 7مارچ کو دن دیہاڑے قتل کر دیا گیا کیونکہ وہ ان پانچ لڑکیوں کے قاتلوں کو کیفر کردار پر پہچانے کیلئے کئی سالوں سے قانونی جنگ لڑ رہے تھے جو Honor Killingکا شکار ہوئیں۔ میڈیا میں اتنے زیادہ مشتہر ہونے والے کیس کا نتیجہ ایسا ہو تو بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال کر گردن کٹوانا کہاں کی معاملہ فہمی ہے؟ افضل کوہستانی کے قتل کی مذمت اور انصاف کے مطالبے کا یا antiwarکاکوئی پوسٹر مارچ میں نہ ہونے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ فن کے طور پر منانے والے دن میں seriousnessکچھ وارا نہیں کھاتی۔
مارچ کی ایک اور Development جس کی تعریف کرنے کی بجائے تنقید کی گئی وہ یہ تھی کہ خواتین خود اپنے کوبرا بھلا کہنے میں عار محسوس نہیں کر رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے خواتین نے دوسروں سے وہ spaceچھین لی ہے جہاں رہ کر وہ آپ کو بدچلن اور آوارہ جیسے خطابات سے نوازتے تھے۔ اب اس کی حق ملکیت کی دعوی دار وہ خود ہیں۔ اسے کہتے ہیں نہلے پہ دہلا۔
عورت مارچ کو جس قدر پبلسٹی ملی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دن کسقدر کامیابی سے منایا گیا اس روز اگر ذکر کیا جاتا، سول رائٹس کا، مزدور کسان خواتین کا ، یکساں کام کے یکساں معاوضہ کا، تشدد کے خاتمے، اقلیتی خواتین کے تحفظ کا تو آپ ہی بتائیں کتنی میڈیا کوریج ملتی ؟کتنے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتے؟ کتنے پوسٹرز کی تصاویر shareہوتیں؟ یہ وائرل ہونے کی کوشش کرنے کا زمانہ ہے۔ ایسے میں substanceکا ہونا نہ ہونا بالکل بے معنی ہو گیا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے سیاست میں کھوکھلے نعروں اور لمبی لمبی پھینک کر کچھ سیاستدان وائرل ہوئے ہوئے ہیں ۔ انھیں تو ہیرو مان کر سر آنکھوں پر بیٹھایا ہوا ہے لیکن اگر عورتوں نے ایک دن کچھ نعرے پوسٹرز پر لکھ کر تصاویر بنوالیں تو ہائے ، توبہ ہی ختم ہونے ہی میں نہیں آرہی ۔ ویسے بھی ہم یہ کیوں بھول گئے ہیں کہ ہم کلاس drivenمعاشرے میں رہتے ہیںجہاں جس طبقے کو جو تکلیف ہو گئی وہ اْسی کی بات کرئے گا ۔
بھوک ، افلاس،ناداریوں کا جن کی زندگیوں میں کوئی دخل نہیں وہ تب تک اس کا ذکر نہیں کرتے جب تک انھیں حکومت نہ سنبھالنی ہو یا لمبے لمبے لا حاصل ٹاک شوز کی میزبانی سر انجام نہ دینی ہو۔اپنے مذہبی رہنماوں ہی کو دیکھ لیں وہ اس طبقے کی نمانئدگی کرتے ہیں جن کا اسلام ہر وقت خطرے میں رہتا ہے اس خطرے سے نپٹنے کے لیے گن اور بم کا استعمال تو وہ عرصہ دراز سے کرتے رہے ہیں پچھلے چند سالوں سے تو انھوں نے گلی محلوں میں مجمع اکٹھا کر کے بد زبانی اور گالی گلوچ کو بھی نئی اونچائیوں پر پہنچا دیا اس حوالے سے ایک جماعت کے سیاستدان نے مولا جٹ کی بڑکوں کو زبان زد عام کیا اور اب امن اور بات چیت کا پرچار کرتے نظر آتے ہیں۔سیاستدان، سیاسی مذہبی جماعتیں او ر establishmentجب چاہیں ناگفتہ بہ زبان کا استعمال کرئے تو کوئی چوں نہیں کرتا۔
اب چند سو خواتین نے اپنے ان مسائل کا کھلے عام اظہار کر دیا جس سے انھیں روز مرہ زندگی میں دوچار ہونا پڑتا ہے تو سب کے اخلاق ڈگمگا کر رہ گئے ہیں۔اگرچہ ان میں سے کچھ ایشوز ایسے تھے جو کپل کونسلنگ سے با ٓسانی حل ہو سکتے ہیں لیکن پھر بھی دل کی بات کہنے پر اتنا واویلا۔ ادھر انڈیا میں دیکھیں ایک شخص من کی بات کرنے پر پچھلے پانچ سالوں سے Powerسے لطف اندوز ہو رہا ہے اور لگتا ہے کہ آئیندہ بھی ہوتا رہے گا۔ دیکھا discrimination! مرد من کی بات کرئے تو وزیر اعظم ، عورت کرئے تو ویلن۔
مارچ کرتی آج کی عورت پر واضح ہو گیا ہے کہ دشمن کون ہے؟ اب آگے کی ساری struggleمعاشر ے میں عدل ، برابری اور صنفی مساوات کیلئے نہیں بلکہ اس دشمن کے خلاف ہے جو کہ،،مرد،، کہلاتا ہے۔ اگرچہ ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ جس طرح با اختیار جب اپنی ناکامیوں، نا اہلیوں اور کوتا ہیوں کو چھپانا چاہیں تو وہ لوگوں کو distractکر دیتے ہیں جیسے انڈیا میں مودی نے جنگ کا طبل بجا رکھا ہے اور ہمارے ہاں بحرانی حالات کا رونا رویا جا رہا ہے۔ ایسے میں تعلیم ، صحت ، روزگار، اجرتوں ، مہنگائی ، تیل پانی ، بجلی جیسے عوامی مدعوں پر کیونکر بات ہو اور کب صاحب اقتدار سے جواب طلبی کی جائے کہ جناب خواتین کی empowermentکیلئے نئے پروجیکٹ تو درکنار جو پرانے پرا جیکٹ تھے انھیں کیوں بند کیا جا رہا ہے؟ سوال نہیں ہونگے تو جواب دینے کی مجبوری بھی ختم ہو جائے گی کہیں عورت مارچ میں لگائے گئے نعرئے بھی تو کچھ ایسی ہی distractionکا حصہ نہیںہیں؟ اس سارے ہنگامے میں ایک بات جو ہمیں نا گوار لگی وہ تھی نعروں کی لکھائی جو انتہائی خراب تھی انگلش سے لفظ بہ لفظ ترجمہ کیے نعروں کی ایسی بری لکھائی! لگتا ہے یہ کسی ،،نر ،،کا کیا دھراتھا۔ امید ہے آئندہ thought provkeکرنے کیساتھ ساتھ display کا بھی خیال رکھا جائے گا!

نوٹ:نیوزنامہ پرشائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے،ادارے کامتفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.