” عوامی احساسات کا ترجمان مزاحمتی شاعر حبیب جالب ”

65

تحریر ۔محمد اکرم رضوی۔۔۔۔۔13مارچ کو عوامی ،انقلابی اور مزاحمتی شاعر جناب حبیب جالب کی 26ویں برسی ہے ۔حبیب جالب کا اصل نام حبیب احمد اور تخلص جالب تھا۔ والد محترم کا نام صوفی عنایت اللہ خان تھا ۔حبیب جالب 24مارچ 1928کو میانی افغانان ضلع ہشیار پور موجودہ بھارتی پنجاب میں پیدا ہوئے ۔1947میں تقسیم برصغیر کے بعد پاکستان کے شہر عروس البلاد کراچی میں قیام پذیر ہوگئے۔کراچی میں قیام کے دوران آپ روزنامہ امروزسے وابستہ ہوگئے تھے۔1956میں داتا کی نگری لاہور میں تشریف لے آئے اور تادم مرگ لاہور کے ہی ہوکر رہ گئے اور اب بھی سبزہ زار کے قبرستان میں ابدی نیند سو رہے ہیں ۔
1996میں حبیب جالب کے صاحبزادے ناصر جالب نے امن ایوارڈ کا اجرء کیا ۔2008میں حکومت پاکستان نے حبیب جالب کی وفات کے بعد انکی خدمات کے صلے میں انہیں نشان امتیاز کے اعزاز سے نوازاگیا۔کسی بھی ادبی شخصیت کو انکی وفات کے بعد یہ ایوارڈ پہلی بار دیا گیا ۔1957میں آپ کاپہلا مجموعہ کلام برگ آوارہ کے نام سے شائع ہوا اس کے بعدعہد ستم ،حرف حق،حرف سردار، سر مقتل،چاروں جانب سناٹا،گوشے میں قفس کے ،گنبد بے در،ذکر بہتے خون کا عہد سزا، اس شہر خرابی،صراط مستقیم ،احاد ستم اور کلیات حبیب جالب جیسی تصانیف شائع ہوئیں ۔کچھ مواد ایسا بھی تھا جو انتظامیہ کی جانب سے ضبط کرکے ضائع کر دیا گیا تھا ۔ایوبی دور اقتدار میں آپ کے مجموعہ کلام سر مقتل پر پابندی عائد کر دی گئی تھی ۔اس پابندی پر حبیب جالب نے کمال تبصرہ کرتے ہوئے کہا
میرے ہاتھ میں قلم ہے میرے ذہن میں اجالا
مجھے کیا دباء سکے گاکوئی ظلمتوں کا پالا
مجھے فکر امن عالم تجھے اپنے ذات کا غم
میں طلوع ہو رہا ہوں تو غروب ہونے والا
حبیب جالب وطن عزیز کی غریب مجبور ومقہوراور پسے ہوئے مظلوم طبقے کی توانا ء اور ترجمان آواز تھے ۔وطن عز یز کے ہر آمر کے خلاف حبیب جالب کا قلم سچ لکھتا رہا ۔آج کے تلخ اور مایوس کن حالت میں بدقسمتی سے ادب،سیاست اور صحافت میں کوئی ان جیسی آواز نہیں رہی ہے ۔حبیب جالب ہر دور میں جمہوری اصولوں اور نظریات پر ڈٹ رہے اور ہمیشہ اہل حق کے ترجمان ٹھہرے ۔حبیب جالب نے آمریت کے خلاف تاریخی جہدوجہد کی ہے ۔وہ ملک میں رائج روایات ، موجودہ سرمایہ دارنہ ،جاگیردارانہ ،اقتصادی اور سماجی نظام کے سخت خلاف تھے ۔انہوں نے معاشرتی ناہمواریوں کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا ۔
1958میں جب مارشل ء لگا اور 1962میں صدر پاکستان محمدایوب خان کے صدارتی آئین کے خلاف اپنی شہرہ آفاق نظم دستور کہی ۔
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہرمصلحت کے پلے
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا ،میں نہیں مانتا
حبیب جالب عوامی جذبات کو ہمیشہ حکمرانوں کے خلاف جھنجوڑتے رہے ۔عوام جانتے تھے حبیب جالب ایوب خان کے اقتدارکی بنیادیں قلم کے زور سے ہلا کر رکھ دیں گے ۔حبیب جالب نے ایوب خان کے مدمقابل محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دے کر عوامی ہیرو بن گئے تھے ۔ حبیب جالب نے محترمہ فاطمہ جناحؒ کی انتخابی مہم میں بھی بڑا تاریخی اور فعال کردار ادا کیا ۔انکے جلسوں میں شاعری ترنم کے ساتھ پڑھنا آپکی وجہ شہرت بنی ۔
جنرل ایوب خان نے جب اقتدار دوسرے آمر جنرل یحیی خان کو منتقل کیا تو انہوں نے اسی لب ولہجہ میں مخاطب کرتے ہوئے کہا
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقین تھا
چھوڑنا گھر کاہمیں یاد ہے جالب نہیں بھولے
تھا وطن ذہن میں اپنے کوئی زنداں تو نہیں تھا
60ء کی دہائی میں مارشل کے خلاف بھر پور احتجاجی تحریک چلائی ۔1970میں جنرل محمدیحیی خان کے دورے حکومت میں جب اقتدار عوامی نمائندوں کو منتقل نہ کیا گیااور گولیاں چلا دیں گئیں توحبیب جالب نے احتجاجا نظم لکھی ۔
محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو
آپ نے عوامی حقوق اور آمریت کے خلاف بڑا دلیرانہ لکھا جس کی پاداش میں آپ پر تشددہوا ،جھوٹے مقدمات قائم ہوئے۔ متعدد بار جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا مگر آپ حق اور سچ (شاعری)لکھنے سے باز نہیں آئے ۔حبیب جالب نے جو دیکھا محسوس کیا نتائج کی پرواہ کیے بغیر من وعن اشعار میں ڈال دیا ۔حبیب جالب کا بے باک قلم جو کچھ بھی لکھتا گیا وہی زبان زد عام ہوتاگیا ۔
جب حبیب جالب کو جیل میں کاغذ اور قلم نہ دیا گیا تو آپ نے جیلر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے محافظوں کو اپنے اشعار سنائوں گا اور وہ انہیں دیگر لوگوں کو سنائیں گے اس طرح یہ لاہور تک پہنچ جائیں گے ۔
حبیب جالب کراچی میں ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کرنے انکی رہائشگا ہ پر گئے تو وہاں سندھی وڈیرے اور جاگیر دار بھی موجود تھے تو بھٹو صاحب نے جالب صاحب سے کلام کی فرمائش کی توحبیب جالب نے اپنی مشہور نظم سنائی ۔
کھیت وڈیروں سے لے لو
ملیں لٹیروں سے لے لو
ملک اندھیروں سے لے لو
رہے نہ کوئی عالی جاہ
پاکستان کا مطلب کیا
لاالہ الااللہ
جس پر سندھی وڈیرے ایک ایک کرکے اٹھ کر چلے گئے ۔بھٹو مرحوم نے جب نظم کا شکوہ کیا تو حبیب جالب نے جواب دیا بھٹو صاحب یہ میری نظم ہے آپ کی تقریر نہیں جو کراچی کے نشترپارک میں اور ہو اور راولپنڈی کے لیاقت باغ میں کچھ اور ہو۔
ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار کا سورج غروب ہوا اور وہ مقدمہ قتل میں جیل چلے گئے اور جنرل ضیا ء الحق برسر اقتدار آگئے تو جالب پھر میدان عمل میں تھے اور نظم لکھی
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صباء بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا
حبیب جالب نے ساری زندگی ضمیر کے قیدی ِ،خوددار،درویش اور فقیرانہ انداز میں گزاری ۔محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے پہلے دور اقتدار میں حبیب جالب کو مراعات دینے کی کوشش کی تو جالب صاحب نے سخت علالت کے باوجود حکومتی مراعات لینے سے صاف انکار کر دیاتھا۔
محترمہ بے نظیر بھٹووزیر اعظم بنیں تو مایوس کارکردگی پر نظم لکھی ڈالی
وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پائوں ننگ ہیں بے نظیروں کے
محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت گئی تو میاں نواز شریف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد عوامی فلاحی کاموں کے بلندوبانگ دعوے کیے عوام کی خاطر اپنی جان تک دینے کی بات کی تو حبیب جالب نے برملا کہا جو اس کی نظم مقبول عام ہوئی
نہ جان دے دو نہ دل دے دو
بس اپنی ایک مل دے دو
زیاں جو کر چکے ہو قوم کا
تم اس کا بل دے دو
میاں نواز شریف کے دوسرے دوراقتدار 12اکتوبر 1999کو جنرل پروپز مشرف نے شب خون مارا تو شاعر عوام کی کمی کو شدت سے محسوس کیاگیا ۔پرویز مشرف کے دور میں معزول کیے گئے چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری کا مقدمہ جسٹس رمدے کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا تو دوران سماعت جسٹس رمدے نے کہا حبیب جالب کو سونے میں بھی تولاجائے تو کم ہے ۔
ایک بار ڈپٹی کمشنر نے حکمرانوں کی مخالفت ترک کرنے اور اپنے بچوں کے خیال کا مشورہ دیا تو حبیب جالب نے بڑاجرات مندانہ جواب دیا کہ دیکھو ڈپٹی کمشنر تم نے زندگی میں اتنا کمایا نہیں جتنا میں نے ٹھکرا یا ہے ۔
سیاست صحافت اور لٹر یچر کے طالب علم حبیب جالب کی شاعری پڑھ کر عوامی جہدوجہد کونہ صرف سمجھ سکتے ہیں بلکہ انکے نظریات اور سیاق وسباق سے بھی آگا ہ ہوسکتے ہیں ۔حبیب جالب ہر عہد میں حکومتوں کے معتوب اور عوام پاکستان کے محبوب لیڈررہے ۔حبیب جالب کی شاعری نے کمزور انسانوں کو ظلم کے سامنے سینہ سپر ہونے کا حوصلہ دیا ۔آپ کا ہر ہر شعر مظلوم کے دل آواز اورجمہوریت کی آبرو ہے ۔آپکی مزاحمتی شاعری آج بھی جلسہ گاہوں میں گونج رہی ہے ۔معاشرے کی توڑ پھوڑ پر دل گرفتہ بھی ہوتے اور آمرانہ قوتوں کے سامنے مزاحمت بھی کرتے ۔سابق صدر جنرل پروپز مشرف کے دور میں بھی انکی شاعری کو دوہرایا گیا ۔حبیب جالب جیسے شاعر کسی بھی سماج کا ضمیر ہوتے ہیں ۔آپ کبھی تادم حیات کسی آمر یاجابر حکمران کے سامنے نہ جھکے اور نہ ہی عوامی مسائل سے چشم پوشی اختیار کی بلکہ مرد مجاہد کی طرح ڈٹے رہے ۔حبیب جالب کو سننے والے بتلاتے ہیںاتنا بے باک مزاحمتی لہجہ ،خوب صور ت انداز بیان ،لہن میں سوز اور دردکسی اور میں نہیں دیکھا گیا ۔ عوام کے دلوں اور انکی امنگوں کے حقیقی ترجمان ،نڈر ،بیباک،حوصلہ مند حبیب جالب 13مارچ 1993کو 65برس کی عمر میں ہم سے جدا ہو گئے تھے۔معروف شاعر قتیل شفائی نے حبیب جالب کی وفات پر انہیں یوں خراج تحسین پیش کیا۔اللہ کریم حبیب جالب کی مغفرت کرے ۔
اپنے سارے درد بھلا کر اور وںکے دکھ سہتا تھا
ہم جب غزلیں کہتے تھے وہ اکثر جیل میں رہتا تھا
ٓآخر کار چلا ہی گیا وہ روٹھ کر ہم فرزانوں سے
وہ دیوانہ جس کو زمانہ جالب جالب کہتا تھا
۔۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.