عورت مظلوم کیوں؟

55

تحریر:عبدالوحیدشانگلوی۔۔۔
اگر زمانہ جاہلیت کا مطالعہ کیا جائے تو عورت کی نام سے بھی نفرت کی جاتی تھی، اگر کوئی بیٹی کی خوش خبری سنتی تو چہرہ کالا اور سیاہ ہوجاتی، اس سے بڑھ کر بچیوں کو زندہ درگور کرنا ایک رواج بن گیا تھا۔ لیکن جب اسلام کا علم بلند ہوگیا اور نبی علیہ السلام کی بعثت ہوگئی تو عورت ظلم کی اندھیروں سے نکل گئ، اس کو رتبہ اور عزت مل گئی۔ وہ لوگ جو بچی کی پیدائش پر سوگ مناتے تھے، ان کو ایسی تعلیم مل گئی کہ وہ اب اس پر فخر کرنے لگے۔ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:” جس کے ہاں لڑکیاں پیدا ہوں اور وہ ان کی اچھی طرح پرورش کرے تو یہی لڑکیاں اس کےلیے دوزخ سے آڑ بن جائیں گی”۔ ایک روایت میں ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:” جس کے ہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ اسے زندہ دفن نہ کرے، نہ اس کی توہین ہونے دے، نہ بیٹے کو اس پر تر جیح دے تو اللہ تعالی اسے جنت میں داخل کرے گا”۔ نبی علیہ السلام کی ان ارشادات نے حالات بدل ڈالی، عورت کو مقام اور مرتبہ مل گیا۔ وہ عورت جس کی نام سے لوگ نفرت کرتے تھے وہ گھر کی ملکہ بن گئی۔ اس کی عزت و ابرو کا خیال رکھا گیا، گھر میں باپردہ رہنے کا حکم دیا گیا۔ دین اسلام نے عورت کو جو حق دیا اسی طرح کسی اور مذہب اور دین نے کبھی نہیں دیا۔ عورت اگر بیوی یا بیٹی ہے تو شوہر اور باپ کو اس کی خدمت میں لگایا، عورت اگر ماں ہے تو اس کی قدموں میں اولاد کی جنت رکھی گئی، اس سے بڑا مقام اور کیا ہو سکتے ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود عورت مظلوم نظر آرہی ہے، اس کی حق میں نعرے لگائے جاتے ہیں، آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ اس سوال کا ایک ہی جواب ہے کہ یہ سب کچھ شریعت سے دوری کی وجہ سے ہیں۔ آپ نے تاریخ ایک جھلک دیکھی کہ شریعت اور اسلام سے پہلی عورت کی کیا حال تھی اور شریعت کے بعد کیسی ہوگئ۔ آج اگر عورت مظلوم ہے تو اس کی اصل وجہ یہ ہےکہ اس کو وہ حق نہیں مل رہا جو قرآن و سنت نے مقرر کی، شریعت نے اس کو گھر میں بٹھا لیا، پردے کا حکم دیا، اولاد کی تربیت کی امر کی لیکن جب اس نے ان سب احکام کو ٹکرا دیا تو یہ ظلم کی تاریکی میں پس گئی۔ آج اگر عورت مظلوم ہے تو اس وجہ سے کہ وراثت کی حق سے محروم کردی گئ، خصوصاً ہمارے مالاکنڈ والے تو اس کو جائز ہی نہیں سمجھتے، انہوں نے عورت کی حق جہیز قرار دیا کہ بس اس کی حق ادا ہوگئی۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب عورت شریعت کی حدود سے خود نکل گئ، یا کسی اور نے نکالنے کی کوشش کی تو یہ مظلومیت کی شکار ہوگئ۔ اگر یہ شریعت کی اصول کی پابند ہوں تو آج بھی گھر کا ملکہ ہے۔

نوٹ: نیوز نامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.