حقوقِ نسواں،اسلام اور ہمارا معاشرہ

42

تحریر:ثناء غوری۔۔۔۔ کیا آ پ اپنی بیٹی بہن کو تعلیم دلوانے کے حق میں ہیں، کیا آپ چاہتے ہیں کہ اسے صحت کا حق دیا جائے کیا، آپ چاہتے ہیں کہ اس کی زندگی کے فیصلوں میں اس کی مرضی شامل ہو، کیا آپ ایسا سوچتے ہیں کہ حکومتی ایوانوں میں خواتین کی نمائندگی ضروری ہے ۔کیا آپ کے خیال میں خواتین کا جنسی استحصال ظلم ہے۔کیا آپ اس بات کے حق میں ہیں کہ برسرِروزگارخواتین کو مردوں کے مساوی معاوضہ ملنا چاہیے۔اگر آپ اس سوچ کے حامی ہیںتو اس کا مطلب ہے کہ آپ بھی حقوق نسواں کے علمبردار ہیں۔مگر شومئی نصیب ہمارے معاشرے میں یہ اصطلاح اوراس کا تصورمنفی معنوں میں مروج ہے۔ہمارے ہاں اچھے بھلے تعلیم یافتہ اور باشعور افراد بھی اسے آزادی کے مفہوم پر محمول کردیتے ہیں۔آزادی بے شک بنیادی حق ہی سہی،لیکن احساس ذمہ داری سے عاری آزادی جنگل کے جانوروں کی خودمختاری کے مترادف ہوتی ہے۔سو یہ بات تو ثابت ہوئی کہ آزادی اور ذمہ داری لازم و ملزوم ہیں۔جب تذکرہ ہو انسانوں کا،تواس میں مرد و زن دونوں ہی شامل ہیں۔عورت ضمیمہ مرد نہیں بلکہ مرد کی مانند ایک مستقل حیثیت کی حامل ہوتی ہے۔نظریہ حقوق نسواں کا ایک مذہبی پہلو بھی ہے۔پاکستان میں اکثریت کا مذہب اسلام ہے۔ سو ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ حقوق نسواں کا تصور مذہب سے متصادم ہے۔حالانکہ دونوں ایک دوسرے کے باہم متقابل نہیں۔ایک پختہ یقین کا نام ہے اور دوسرا محض ایک خیال۔تبدیلی مذہب ایک کٹھن عمل،لیکن نظریہ میں تغیر وتبدل ممکن ۔ازروئے نفسیات مرور ایام کے ساتھ نظریات پر یقین میں بھی تبدیلی آتی رہتی ہے اور پرانے نظریات کی جگہ نئے تصورات لے سکتے ہیں۔حقوق نسواں کے بارے میں اسلام کا تصور کیا ہے۔اس کی تفصیل او ر بار یکیوں سے قطع نظر صرف اتنا ہی کافی ہے کہ اسلام نے اسے ایک جامع شکل میں پیش کیا ہے۔لیکن ہمارے ہاں اس تصور کو بھی مسخ کرنے کی سعی کی جارہی ہے۔حقوق نسواں کے حو الے سے اسلام کا تصور محدود نہیں،محدود ہمارے اذہان ہیں۔اسلام کو اس سوچ نے محدود کیاجسے ملایت کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ہم چونکہ برصغیر پاک و ہند میں بسنے والی قوم ہیں سو حقوق نسواں سے متعلق بہت سے نظریات جوجڑ پکڑکر تناور درخت بن گئے اور ہماری نسلوں کو منتقل ہوئے وہ محض تاریخ کا جبر تو ہوسکتے ہیں اسلام کا تصور نہیں۔مدعا فقط اتنا ہے کہ خواتین کے حوالے سے ہمارا ذہن کتنا کھلا ہے۔ ہمارے قول و فعل میں تضاد ایک عام معاشرتی رویہ ہے اور یہ رویہ صرف مردوں تک محدود نہیں بلکہ خواتین بھی دوسری خواتین کے ساتھ روا رکھتی ہیں۔ قولاً تو ہم دعویٰ اسلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت کا کرتے ہیں،لیکن عملاً ان تعلیمات سے روگردانی کرتے ہیں جو محسن انسانیت نے خواتین کے ساتھ حسن سلوک کے حوالے سے دیں ۔ہم قاعدہ جبر پر عمل پیرا ہوکر خواتین کے بنیادی حقوق سلب کرلیتے ہیںاورپھر اسے جامہ مذہب اوڑھاکر اپنے لیے بھی طمانیت کا سامان پید کرلیتے ہیں۔قدیم یونان میں عورت کا عنان گیر اس کا والد ہوتا تھا۔عورت اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرنے کے حق سے محروم تھی۔شادی میں باپ کی مرضی لازمی شرط تھی۔اس قاعدہ و قانون کی پامالی کی سزا زیست در دشت تنہائی تھی یا کلیسا میں فریضہ رہبانیت،یورپ نے حلقہ پاپائیت سے نکل سے اس ظلم سے چھٹکارا پایا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اسلام میں روشن خیالی کی گنجائش ہے۔دین فطرت نے مردو عورت کو شریک حیات کے انتخاب میں پسندو ناپسند کا یکساں اختیار دے رکھا ہے۔اسلام خواتین کے تعلیم و تعلم،کسب وہنر اور وسیلہ معاش پر قدغن نہیں لگاتا۔لیکن وہ مغربی معاشرے کی بے حیائی، بے راہ روی اور بے لگام آزادی کی تائید نہیں کرتا۔ آغوش مادربچے کی اولین درسگاہ ہوتی ہے جہاں سے وہ مذہب و اخلاق کا پہلا درس لیتا ہے اگر ماں ہی غیر تعلیم یافتہ اور محدود سوچ کی حامل ہو تو وہ کس طرح اپنی اولاد کے شعور کی پرورش کرسکے گی ۔مگر حیف کہ ہم چشم کشائی کیلئے تیار ہیں نہ ہی تبدیلی روش کیلئے۔ہم کتنی آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ مرد کو عورت پر فوقیت حاصل ہے اور پھر اسی تصورکو خواتین کے ساتھ روا ہر ظلم اور ناانصافی میں دلیل اور سندجواز بناکر پیش کیا جاتا ہے۔اگر رب کریم نے مرد کوعورت کا محافظ بنایاتو اس کے پیچھے بھی محفوظ زندگی کا راز پوشیدہ ہے۔ ایک عورت نو ماہ اپنے وجود میں بچے کی پرورش کرتی ہے۔ولادت کی تکلیف سہتی ہے،بچے کو دودھ پلاتی ہے،ایک خاندان کی بنا رکھتی ہے مرد کا گھر سنبھالتی ہے ۔اس محنت شاقہ کے صلے میں عورت کیلئے مرد کی مخافظت اللہ تعالیٰ کا انعام ہے۔اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ
ذہنی استعدادو قابلیت میں مرد سے کمتر ہے۔ یہ ایک حقیت ہے کہ عورت نفسیاتی طور پر بہت مضبوط ہوتی ہے وہ کبھی عجلت میں فیصلے نہیں کرتی خواہ حالات کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہوں وہ آخری لمحے تک امید کی کیفیت میں رہتی ہے۔ طلاق جیسے معاملے میں مرد جہاں تعجیل سے کام لیتا ہے عورت اتنی ہی تاخیر کرتی ہے۔عورت ذہنی نہیں جسمانی طور پر کمزور ہوتی ہے
اسی لئے اسلام نے عورت کے معاشی استحکام اور نان نفقہ کی ذمہ داری مر د کو دے رکھی ہے۔اوراسے مہر کی ادائیگی کا بھی پابند بنایا ہے۔ مرد کے پاس زورِبازو ہے جب اس کے پاس دلیل ختم ہوجاتی ہے تو وہ ہاتھ اٹھاتا ہے۔عورت سہتی ہے اور چپ رہتی ہے۔ فطرت نے عورت کو نسوانیت اور مرد کو مردانگی کے سانچے میں ڈھالا ہے۔دنیاکی خوبصورتی یہی ہے کہ دونوں عزت و احترام کے ساتھ دونوں نظام زندگی چلائیں۔ اسلام نے عورت کو ایک جانب بیٹی، بہن، بیوی جیسے حسین رشتہ پر فائز کیا،تودوسری جانب جنت جیسی نعمت الکبری ماں کے قدموں کے نیچے رکھی۔اسلام نے عورت کی تمام ضروریات کا بوجھ مرد کے کاندھوں پر ڈالا ہے۔لیکن فی زمانہ مہنگائی کے عفریت اور معاشی مسائل نے بڑی تعداد میں خواتین کو کسب معاش کی خاطر گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور کیا۔
ہماری جان پر دہرا عذاب ہے محسن
کے مصداق خواتین کوگھریلو مشکلات کا بھی سامنا ہے اور سماجی مسائل کابھی۔۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ نے اور سوشل میڈیا کی مقبولیت سے بھی خواتین کی مشکلات بڑھیں
ان کا حل خواتین پرانٹرنیٹ، موبائل فون اور سوشل میڈیاکے استعمال پر پابندی نہیں بلکہ انھیں آن لائن دنیا میں تحفظ فراہم کرنا ہے، وقت کی رفتار کے ساتھ پاکستانی خواتین کے مصائب و مشکلات میں اضافہ ہوا، لیکن عصری تبدیلیوں کا ادراک کرکے ان مسائل کی تفہیم اور حل کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔اب ضرورت اس امرکی ہے کہ تعلیم نسواں کو فروغ دیا جائے،خواتین پر تشدد کو روکا جائے،ان کی عزت نفس بحال کی جائے انہیں عزت و احترام دیا جائے۔یہ کام کوئی اور نہیں صرف مرد ہی کرسکتا ہے۔ آپ اپنی بیٹوں کے ذہنوں کو اس سوچ سے مہکائیں۔گھر گھر کی سطح پر یہ منصوبہ شروع ہواتو کسی حکومتی منصوبے کے بغیر بھی خواتین کے مسائل حل ہونے لگیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ مردو عورت کو زندگی کا سفر ساتھ کرنا ہے تو پھر امتیازی سلوک کیسا۔ عورت وہ پھول ہے جو تصویرِ کائنات کو محبت کی خوشبو سے مہکا دیتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.