سیاست کی چالیں!

3,207

تحریر:آئمہ محمود۔۔۔۔بدلہ لو ، سبق سکھاو، حملہ کرو، مار دو، یہ وہ چند ایک جملے ہیں جو26 فروری کو انڈیا کیطرف سے بالا کوٹ پر ہونے والی ائیر سٹرائک کے بعد ٹی وی چینلز پر over actingکی بد ترین مثالیں قائم کرتے ہوئے مسلسل بولے جا رہے تھے اس سے بھی زیا دہ پاگل پن اور ہسٹریا کا مظاہرہ انڈین ٹی وی چینلز پر 14فروری سے کیا جا رہا تھا ۔ایسے حالات میں تو سوشل میڈیا کے سور ماوئں کی چاندی ہو گئی فرضی دعووں ، تصاویر اور ویڈیوز کا طوفان برپا ہو گیا ۔ ایسے وقت میں جوچیز ہم جیسے امن پرستوںکیلئے باعث تسلی تھی وہ تھی کہ پاکستانی حدود میں بھارتی فضائیہ کی جارحیت جیسے سنگین ترین جرم کے باوجود حکومت اور افواج پاکستان تحمل اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کی بات کر رہی تھیں جو جنگ کا طبل بجانے والوں کو سخت ناگوار محسوس ہو رہی تھیں ۔ پھر خدا کا کرنا یہ ہوا کہ 27فروری کو دو انڈین طیارے مار گرائے گئے اور ایک پائلٹ بھی پاکستان کی تحویل میں آگیا۔جس پر بدلہ لینے پر اصرار کرنے والوں کو کچھ تسکین ملی اس برتری کے باوجود پاکستانی حکومت اور فوج حالات کو سنبھالنے اور باہمی بات چیت کی ضرورت پر زور دیتے رہے ۔ انڈین پائلٹ کی خیروعافیت سے واپسی پر دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کا گراف کسی حد تک نیچے آگیا اگرچہ لائن آف کنٹرول پر مسلسل جنگ ہو رہی ہے گولا باری سے دونوں طرف سویلین کی ہلاکتوں کی خبریں آرہی ہیں سرحد پر رہنے والوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں تو حالات بد سے بدترین کر دئیے گئے ہیں۔ خواتین سنگین جنگی جرائم کا شکار ہیں۔یہاں ہم سب یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہمسایہ ملک کی اس جارحیت کا مقصد آنے والے انتحابات میں کامیابی حاصل کرنا ہے مودی حکومت لاشوں کی متمنی ہے اس کے باوجود ہماری طرف سے جنگ کی ڈیمانڈ کرنے والے کیوں مودی کو یہ خوشی دینا چاہتے تھے؟ایک اور بات ہم سب کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اطلاعات کے جدید ترین نظام اور رسائی کے باوجود کیونکر ایک ہی واقعے کی تشریح و وضاحت میں اس قدر فرق ہے۔ زمین و آسمان کے difference کے باوجود دونوں طرف لوگوں کی اکثریت اپنے اپنے Version پر یقین کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال ایک قسم کا Reminderہے کہ دونوں ملکوں کے عوام کیلئے دشمن اور دشمن کی ناکامی کی خبر دینے والے کون ہیں؟ کون ان حالات کے سب سے بڑے Beneficiaryہیں؟انڈیا کے main Streamمیڈیا کو آپ چاہے کتنا ہی برا بھلا کہہ لیں، تاہم یہ بات تسلیم کرنے میں ہمیں کوئی عار نہیں کہ انکا آزاد میڈیا اور کسی حد تک مین سٹریم بھی اس خونخوار ماحول میں حکومت سے وہ تمام criticalسوال پوچھ رہا ہے جو ایک باشعور میڈیا کی ذمہ داری ہے حتی کہ انکی اپوزیشن تک مودی پر تنقید کر رہی ہے کہ وہ لاشوں پر سیا ست کر رہا ہے۔ اسی طرح ہمیں بھی اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ آج ہم معاشی لحاظ سے کہاں کھڑے ہیں؟ کیونکرعالمی برادری میں تن تنہا ہیں؟ دنیا کے کسی ایک ملک نے بھی انڈین جارحیت کی مذمت نہیں کی؟ ہماری حکومتیں آخر کیوں ڈپلومیسی میں اتنی کمزور ہیں۔ مغرب کو سمجھنے کا دعوی کرنے والی حکومت بھی کسی مغربی ملک تک اپنی بات نہیں پہنچا پائی؟ معاشی طور پر دوسرے کی محتاجی پر جینے والی قوم اور حکومت کی کیا انا اور کیا خودداری ! Beggers cant be Choosers
یہاں ہم خدا کے شکر گذار ہیں کہ پاکستان میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اگر وہ اپوزیشن میں ہوتے تو کیا کوئی حکومت ان حالات میں امن کی بات کر سکتی تھی؟ بھارت کے آگے گھٹنے ٹیکنے، مودی کے یار اور غداری کے الزامات پر ایک اور دھرنے کا سامنا کررہی ہوتی۔ہم شکر کررہے ہیں وہ انتہا پسند قوتیں جن کی عزت اور ایمان ایک مجبور عورت کی رہائی سے خطر ے میں پڑجاتا ہے ان تک امن کی خبر نہیں پہنچی ورنہ اب تک تو وہ بھی بھارت کو نیست ونابود کر دینے اور لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے کا عزم دھراتے ہوئے سڑکوں کی ناکہ بندی کرکے انڈیا تو کیا عوام کا ناطقہ ضرور بند کر چکے ہوتے۔ ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جسمیں اپوزیشن اتنی Friendlyہے کہ عوامی مسائل پر چپ سادھنے کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں میں کشیدگی کم کرنے میں حکومت کو بھرپور تعاون مہیا کرتی ہے۔ یہاں پاک فوج کے صبر، حکمت ، درگذر اور دانشمندی کی تعریف کرنا تو سورج کو چراغ دیکھانے کے مترادف ہے تاہم ایک التجا ہے کہ جس Kindnessاور تحمل کا مظاہرہ اس نے دشمن کے ساتھ کیا ہے اپنے ہی ہم وطنوں کے شکوہ شکایت کو اس کا تیسرا حصہ بھی دے دیں تو اندورنی استحکام کے مقصد کی طرف بڑھنے میں مدد ملے گی۔
ایک ہوش مند قوم کی حیثیت سے ہمیں اپنے مصنوعی خودداری اور بہادری کے خول سے باہر آکر یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ معاشی استحکام ہی دشمن سے بدلہ لینے کا اصل راستہ ہے۔ جنگوں سے شناخت نہ تو بنتی ہے نہ ہی اس کی حفاظت ہوتی ہے۔پاک بھارت کے درمیان ہونے والی تمام جنگوں کا فیصلہ مذاکرات کی میز پر ہی کیا گیا۔ لیکن نام نہاد رہنماوں کی بْنی ان جنگوں میں دونوں طرف لاکھوں لوگ جان سے گئے اہل حکمران کے علاوہ کسی کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ جنگوں میں کوئی قوم فاتح نہیں ہوتی سب کی ہار ہی ہوتی ہے۔
Warخواہ دنیا کے کسی بھی ملک یا قوم میں ہو بلا تفریق رنگ ونسل اور عقیدے کے اسکی تباہ کاریوں کا سب سے بڑا شکار عورتیں اور بچے ہی ہوتے ہیں۔افغانستان، شام، یمن، عراق، فلسطین، میانمار، مقبوضہ کشمیر اور دنیا کے دیگر حصوں میں لڑی جانے والی جنگیں اور خانہ جنگی میں عورتیں اور بچے سنگین جرائم کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے پیاروں کی میتوں پر بیٹھی خواتین بدلہ لینے کی بجائے امن کی بات کر رہی ہیں وہ نہیں چاہتی کہ کسی کا باپ، بیٹا، بھائی اور شوہر خود پرست ، خودغرض اور اقتدار کے لالچی حکمرانوں کی تیار کردہ جنگوں میں ایندھن کی طرح استعمال ہوں ۔ ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق 1989سے 2011کے دوران کئے جانے والے 82معاہدے جو Armed conflictعلاقوں میں خواتین کی شمولیت اور ان کے دستخطوں کے ساتھ کئے گے ان معاہدوں پر عمل درآمد زیادہ موثر طریقے سے ہوا۔آج اگر خواتین سیاسی اور معاشی فیصلہ سازی کے عمل میں برابر کی حصہ دار ہوں تو دنیا میں امن کا فروغ خواب سے حقیقت بن سکتا ہے۔عورتوں کے عالمی دن پر ان تمام انسانوں بالخصوص خواتین کو سلام جو دہشت گردی اور ریاستوں کی طاری کی ہوئی جنگوں میں اپنے دل کے ٹکڑوں کو گنوانے کے باوجود امن اور صرف امن کی اپیل کر رہی ہیں۔ یہ راستہ اگرچہ دشوار گزارہے تاہم عورتوں میں اتنی ہمت ، حوصلہ اور جذ بہ ہے کہ ناممکن کو ممکن بنا سکیں۔ اس لیے ان نامساعد حالات میں بھی عورتوں کا عالمی دن سب کو مبارک۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.