ناقص ترین امتحانی نظام میں بہتری کی اشد ضرورت

74

تحریر:صابر مغل۔۔۔
شرح خواندگی کے حوالے سے پاکستان نت نئے تجربات،پالیسیوں اور وسائل کے بد ترین ضیاع اور کئی دیائیاں گذر جانے کے باوجود کوئی بہتری لانے میں کامیاب نہیں ہو سکا،گھٹیا ترین سسٹم،حکمرانوں کی شعبہ تعلیم کے لئے شرمناک دلچسپی اور نہ ہونے کے برابر قومی بجٹ میں مذاق زدہ متعین فنڈز اور اس میں سے بھی ہر سال کٹوتی کر لی جائے تو قوم ایسے ہی پسماندگی اور ناخواندگی میں غوطے کھاتی رہے گی،شعبہ تعلیم درجنوں نظام میں بٹ جانے پر مکمل طور پر طبقاتی نظام تعلیم بن چکا ہے،سرکاری درسگاہیں اور ٹیچرز دستیاب ہونے کے باوجود عوام کا سرکاری اداروں سے اعتماد کیوں اٹھ گیا ہے کہیں یہ تو نہیں کہ باثر شخصیات کے شعبہ تعلیم کے پرائیویٹ سیکٹر میں آنے کی وجہ سے حکومتی عدم توجہ میں مزید اضافہ ہوا، اس شعبے کو بھی مافیا نے باقاعدہ یر غمال بنا لیا ہے کہتے ہیں یہ کام ڈرگز کے ناپاک دھندے سے بھی زیادہ بچت دیتا ہے،پاکستان میں جہاں اور ان گنت وجوہات ہیں وہیں ناقص ترین امتحانی نظام کی وجہ سے میعار تعلیم میں بہتری کا خاب پورا نہ ہو سکا شاید ہو بھی نا،امتحانی نظام کے حوالے سے سندھ عالمی سطح پر شہرت یافتہ ہے جہاں سر عام مواد رکھ کر پیپرز حل کئے جاتے ہیںبکہ یہاں تک کہ میٹرک،ایف اے ،بی اے اور ایم کے پیپز بھی فوٹوسٹیٹ کی شاپس پر بآسانی دستیاب ہوتے ہیں،(سندھ میں تو خیر ہر چیز ہی نرالی اور بدحالی ہے)طرفہ تماشہ تو یہ کہ باقی صوبوں کے لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کے لئے سندھ کا رخ کرتے ہیں اتنا فرسودہ اور گھٹیا نظام کسی اور صوبے میں نہیں ہے،خیبر پی کے ،بلوچستان ،کشمیر اور پنجاب میں سندھ کے مقابل قدرے بہتر ہے مگر اسے بھی اچھا نہیں کہا جاسکتا،پنجاب میں موجود سیکنڈری اینڈ انٹر میڈیت بورڈز اور جامعات میں پیپز جانے کا کرپشن کا ماضی کی نسبت بڑی حد تک خاتمہ ہو چکا ہے مگر امتحانی مراکز اور اور مخصوص امتحانی نگران عملے کی بدولت سب کھوتے کھوہ میں چلا جاتا ہے،ہمارے وہ طلباء و طالبات اپنی ڈگری بہتر نمبروں میں لینے کے باوجود NTSمیں کیوں ناکام ہو جاتے ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ ڈگری امتحان میں کچھ نہ کچھ چل جاتا ہے جس کے سبب بہتر پوزیشن یقینی بن جاتی ہے ،پاکستان میں بھی NTSکسی مافیا سے کم نہیں جس امیدوار کا تکا لگ گیا اسے ایڈمیشن ملنے کے ساتھ ساتھ ملازمت بھی مل جاتی ہے،موجودہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ سال سے پانچویں اور آٹھویں کے امتحان بورڈز کی بجائے تعلیمی ادارے خود لیں گے یہ ایک اچھا فیصلہ ہے ، جب کسی بھی بچے کو کم عمری مطلب پانچویں میں ہی اساتذہ نقل اور بوٹی پر لگا دیں گے تو آگے وہ محنت کیسے کرے گا یہی عالم آٹھویں جماعت کے امتحان کا بھی ہے ،البتہ میٹرک سے امتحان میں سختی شروع ہو جاتی ہے،مگر میٹرک سے ماسٹر اور دیگر ڈگریوں کے حصول کے لئے ہونے والے امتحانات میں طویل عرصہ سے مخصوص ٹولہ ہی نگرانی پر مامور ہوتا ہے کئی امتحانی سنٹرز پر سپرٹنڈنٹ سمیت سارا سٹاف ایک ہی سوچ کا مالک اور کئی بار ، سنٹرز میں جیسے چاہیں ویسے ہی کرتے ہیں جنہیں وہ نوازنا چاہیں نواز دیتے ہیں اور خوب نوازتے ہیں،ایسے اساتذہ کی وجہ سے دوہرا نقصان ہوتا ہے ایک تو وہ اپنے تدرسی امور میں دلچسپی نہیں رکھتے،ڈیوٹیوں کی وجہ سے سکولوں یا کالجز کا رخ تک نہیں کرتے ان کی اداارے سے یوں فراغت پر ان کی جگہ بچوں کو کون پڑھائے گا؟اسی طبقہ سے تعلق رکھنے والے اساتذہ امتحان سے فارغ ہوں تو پیپرز چینکنگ پر ڈیوٹی لگوا لیتے ہیں یوں سارا سال ان کا تو اضافی ڈیوٹیوں میں گذر جاتا ہے، اساتذہ کی کمی نہیں اس لئے اس کی روک تھام کسی منظم پالیسی کے تحت کی جائے صوبائی محکمہ تعلیم اپنے اپنے صوبوں میں فوری عمل درآمد کرائیں،پاکستان میں دہشت گردی کے عفریت نے سر اٹھایا ا ور تعلیمی اداروں کا بھی رخ کیا تو ہمارے تعلیمی ادارے کسی قلعہ کی مانند بن گئے،سانحہ اے پی ایس کے بعد سیکیورٹی کے حوالے سے مزید سختی کرنے کے احکامات جاری ہوئے سانحہ اے پی ایس کے بعدبچوں کی زندگیوں کا تحفظ انتہائی ضروری تھامگر پاکستانیوں نے سیکیورٹی کے اس نظام کا فائدہ اور طریقے سے اٹھانا شروع کر دیا،ماضی میں ایسا ممکن ہی نہیں تھا کہ بورڈ یا یونیورسٹی کی چیکنگ ٹیم کے کسی بھی سنٹر پہنچنے سے اس کا علم ہو جاتا مگر اب صورتحال 100فیصد بدل گئی ہے اس بات میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ ہمیشہ مقامی تعلیمی ادارے جہاں امتحانی سنٹر بن جاتا ہے کے سربراہ یا ٹیچرز کی کوشش رہتی تھی کہ کسی نہ کسی طور اپنے سکول یا تعلقات والوں کے بچوں کو امتحان میں زیادہ سے زیادہ نوازیں،اب انہیں اس حوالے سے مکمل آزادی حاصل ہو گئی ہے،اب نگران عملہ مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی انتظامات کی وجہ بڑئی حد تک آزاد ہو چکے ہیں،امتحانی مرکز میں کیا ہو رہا ہے انتظامات کس حد تک تسلی بخش ہیں ،نقل اور بوٹی وغیرہ کس حد تک میسر ہے کسی کو کچھ علم نہیں،بورڈ ز یا یونیورسٹی کا چیکنگ عملہ ہی انہیں چیک کر سکتا ہے اور وہ بھی گیٹ پر مکمل شناخت کے بعد اندر داخل ہو کر تب تک اندر سب ٹھیک کی آواز لگ جاتی ہے،الراقم کے علم میں کچھ سکول ایسے بھی ہیں جہاں اثر ورسوخ سے امتحانی سنٹرز بنوا لئے جاتے ہیں اور اسی ادارے کے بچے یا بچیاں نمایاں ترین نمبر حاصل کرتے ہیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ ایسا کیسے ہو گیا؟صرف ڈگریاں ہی سب کچھ نہیں ہوتی اصل بات معیار کی ہے ایک معیار گیا دوسرا قابل بچوں کی حق تلفی جو نہ صرف اس بلکہ پورے معاشرے اور ریاست کے ساتھ زیادتی اور ظلم ہے،ہماری ذہنی پسماندگی کی وجہ بھی شاید یہی ہے ،امتحانی نظام کو جس طرح بورڈز کے اندرونی سطع پر کافی حد تک ٹھیک کیا گیا ہے اسی طرح ایک کو امتحانی نگران مافیا کی چھٹی کرائی جائے ان کے علاوہ بھی کئی قابل لوگ ہیں جو یہ فریضہ ان سے کئی گنا بہتر طور انجام دے سکتے ہیں دوسرا ان کی سکولوں میں حاضری یقینی بن جائے گییہ بھی پابندی لگا دی جائے کہ جو ٹیچر ایک امتحان میں ڈیوٹی دے اسے دوسری ڈیوٹی کرنے کی اجازت نہ ہو، امتحانی مراکز کو بتدریج سی سی ٹی کیمروں کے ذریعے مانیٹر کئے جانے کے کام کا آغاز کیا جائے ،اس کے علاوہ کسی صورت امتحانی نظام میں بہتری ممکن نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.