زبان کے ستائے ہوئے

39

تحریر:پروفیسرثناءغوری۔۔۔
عالمی بینک کی رپورٹ منظرعام پر آتی ہے کہ پاکستان میں تعلیم کا معیار خراب ہے۔ تیسری جماعت کے صرف اکتالیس فی صد بچے اردو کا جملہ پڑھ پاتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اساتذہ پڑھانے کے اہل نہیں ہیں۔ حد ہوگئی، یہ عالمی بینک، یہ یو این او اور غیرملکی سرکاری نیم سرکاری ادارے نہ جانے کیوں اتنے پیسے خرچ کرکے اپنی تحقیقی ٹیموں کو تعلیم کے حوالے سے پاکستان میں اعدادوشمار اکٹھا کرنے بھیجتے ہیں۔ یہ بات تو حکومت کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے پاکستان کے کرتادھرتا سیاست داں بھی جانتے ہیں اور پنساری کی دکان پر بیٹھا ایک عام آدمی بھی، بیوروکریٹ بھی اور پان والا بھی، اس میں تحقیق کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دیہی علاقوں میں تعلیم کے حوالے سے صورت حال نہایت ابتر ہے۔ 59 فی صد بچے تیسری جماعت میں ہونے کے باوجود اردو کا ایک جملہ مکمل طور پر نہیں پڑھ سکتے۔ پانچویں جماعت کے 50 فی صد اور آٹھویں جماعت کے 25 فی صد طالب علم اردو زبان میں مختصر کہانی پڑھنے کی بھی اہلیت نہیں رکھتے۔
اردو، ․․․․یہ وہی اردو ہے جو ہماری قومی زبان ہے۔ آج ہمارے بچے اگر اردو سے ٹھیک طرح سے واقف نہیں تو اس میں اچھنبے کی کوئی بات نہیں۔ فکرانگیز نکتہ تو یہ ہے کہ ہم اور ہماری آنے والی نسلیں کسی ایک زبان کی بھی نہیں۔ نہ مادری زبان، نہ قومی زبان اور نہ فرنگیوں کی زبان ، ہم تو کسی ایک پر بھی عبور نہیں رکھتے۔ نہ ہم اردو میں اچھے ہیں اور نہ ہی انگریزی میں۔ ہم اردو کے سرکاری اداروں میں رائج نہ کرنے پر حکومت کو درست طور پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، مگر اس ضمن میں ہمارا اپنا کیا حال ہے؟ گھر کے دروازے پر لگی تختی سے ہمارے دعوت ناموں اور تعارفی کارڈ تک ہماری ہر پہچان انگریزی عبارت کے ذریعے ہوتی ہے۔ گفتگو میں عام سے الفاظ کے لیے بھی ہم انگریزی کا سہارا لیتے ہیں، صرف یہ جتانے کے لیے کہ ہمیں انگریزی پر کیسا عبور حاصل ہے۔ معاشرے کی اس صورت حال کاذمہ دار بڑی حد تک ہمارا نظام تعلیم ہے۔
اسکول جائیے، کالج میں پڑھیے، یونی ورسٹیز میں جائیے، ذہانت اور اہلیت اسی کی مانی جائے گی جو انگریزی زبان جانتا ہو۔ ہم اردو کو روتے ہیں، ہمارا اصل مسئلہ تو انگریزی ہے۔ جسے انگریزی نہ آتی ہو وہ اپنے وقت کا، معاف کیجیے گا، اپنے پاکستان کا، بقراط ہی کیوں نہ ہو، اسے وہ منہ کی کھانی پڑی ہے کہ نہ پوچھیے۔
ہم میں سے لگ بھگ اسّی فی صد لوگ اس تجربے سے گزر چکے ہوں گے، باقی بیس فی صد لوگ وہ ہیں جنہوں نے خوش قسمتی سے حقیقی معنوں میں انگریزی میڈیم اسکولوں سے تعلیم حاصل کی ہے۔
گلی گلی کھلنے والے انگریزی سکھانے کے ادارے آخر کس بات کا ثبوت ہیں؟
انگریزی زبان نہ جاننے کا احساسِ کمتری عملی زندگی میں قدم رکھنے کے ساتھ اور زیادہ پختہ ہوجاتا ہے۔ نفاذِ اردو کی مہم کے ہم لاکھ گرویدہ ہوں، لیکن انگریزی سیکھنے، انگریزی بولنے اور سمجھنے والوں کو ہم اردو زبان میں مہارت رکھنے والے سے لاکھ درجہ زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ حقائق سامنے رکھتے ہوئے جائزہ لیا جائے توـ اردوزبان ہمارا ساتھ فقط بارہویں جماعت تک دے پاتی ہے، جب کہ گریجویشن کی سطح پر جب ہمیں تحقیق کی ضرورت پیش آتی ہے تو صرف پچاس فی صد کتابیں جو کہ اردو میں ہوتی ہیں ہماری علمی ضروریات پوری کرپاتی ہیں۔
اب اور آگے آتے ہیں۔ ماسٹرز میں پہنچ کر جب تمام پرچے اپنی انفرادی تحقیق کی بنیاد پر دینے کا وقت آتا ہے، تو پتا چلتا ہے کہ اردو میں زیادہ سے زیادہ صرف بیس سے پچیس فی صد ایسی کتابیں موجود ہیں، جو ایک طالب علم، ایک پروفیشنل ،کی ضرورت کو پورا کرسکتی ہیں۔ یعنی جسے انگریزی نہ آتی ہو وہ تو گیا۔
ہمارے یہاں زیادہ تر علمی شعبوں کا اردو زبان میں تحقیقی مواد موجود نہیں۔ اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہم زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کریں، ورنہ ہماری نسل تو تباہ ہو ہی چکی ہے، آنے والی نسلیں بھی اسی عذاب کو جھیلتی رہیں گی۔
ایک حل تو یہ ہوسکتا ہے کہ وہ مضامین جن میں تحقیق کے دروازے کھلے ہیں، ایسے مضامین جب تک انگریزی زبان میں اپنے بچوں کو نہیں پڑھاتے ان کا مستقبل خطرے میں ہے۔ معاشرتی علوم، سائنس، حساب، طبیعات، کیمیا، حیاتیات، ان سب مضامین کو پہلی جماعت سے لے کر گریجویشن تک انگریزی زبان میں نصاب کا حصہ بنایا جائے۔
نجی اسکول اور سرکاری اسکولوں کا فرق تو سمجھ میں آتا ہے، مگر انگریزی میڈیم اور اردو میڈیم کی اصطلاحوں کو ختم ہوجانا چاہیے
دوسری صورت میں حکومت اردو کو اس کا وہ مقام دے جس کی قومی زبان حق دار ہے۔ جب ہمارے ملک کے حکم راں دوسرے ممالک میں جاکر اپنی قومی زبان میں تقریر کرتے ہوئے خود کو کم تر محسوس کرتے ہیں، تو قوم کا کیا قصور ہے۔ پوری قوم اپنے راہ نماؤں کی روش پر ہی چلے گی۔
اگر حکومت سنجیدگی سے قومی زبان کو اس کا حق اصل مقام دینا چاہتی ہے تو اردو کو پوری طرح رائج کرنا ہوگا۔ اردو زبان میں محققین کو سامنے لانا ہوگا، اس کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ دنیا بھر کی قابل ذکر نصابی کتابوں، تحقیقی مجلوں اور نصاب میں کام آنے والے مواد کو اردو زبان میں منتقل کیا جائے، تاکہ طالب علموں کی علمی پیاس بجھانے کا سامان ہوسکے، وہ آگے آسکیں اور دنیا کے شانہ بہ شانہ، بنا احساس کمتری کے چل سکیں۔
یہ آج ہوگا !توکل اردو زبان میں محققین پیدا ہوں گے۔ ان کی تحقیق کو دوسری زبانوں میں منتقل کرنے کے لیے ان زبانوں کے بولنے والے مجبور ہوجائیں گے اور ہماری ترقی کے دروازے کھلتے چلے جائیں گے۔
اگر حکومت ایسا نہیں کرسکتی تو اردو کو فقط رابطے کی زبان ہی کے مرتبے پر رہنے دے اور طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ کرتے ہوئے تمام نصاب تعلیم مکمل طور پر انگریزی میں منتقل کردے۔
کسی طرح تو ہمارے متوسط اور غریب طبقے کے نوجوانوں کو احساس کمتری سے نجات دلائی جائے۔ طبقاتی نظام تعلیم کے باعث ان طبقات کے نوجوان خوداعتمادی سے ہی محروم رہتے ہیں تو ترقی اور کام یابی کے راستوں پر گام زن ہونا دور کی بات ہے ۔اس طبقے کے نوجوانوں کو اعتماد اور آگے بڑھنے کا راستہ دیے بغیر نہ کوئی تبدیلی آسکتی ہے نہ ملک ترقی کرسکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.