بھارت انتظار کرے اب ہماری باری ہے:پاک فوج

63

راولپنڈی(نیوز نامہ)ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارت انتظار کرے اب ہماری باری ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئےبھارت کو چیلنج کیا کہ” آئے اور 21 منٹ تک پاکستان کی فضائی حدود میں رہ کر دکھائے”۔انہوں نے کہا کہ بیوقوف دوست سے عقل مند دشمن بہتر ہوتا ہے، ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا ہمسایہ بھارت دشمنی میں بھی بے وقوفی اور جھوٹ کا سہارا لیتا ہے، آئيں 21 منٹ تک پاکستان کی فضائی حدود میں رہ کر دکھائیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 14 فروری کے بعد جب ٹینشن بڑھی تو وہ لوگ پیٹرولنگ کرتے ہیں، کمبٹ ایئر پیٹرولنگ ہر وقت فضا میں رہتے ہیں۔ ان کی فارمیشن چار سے پانچ ناٹیکل میل اندر آئی جنہيں پاکستان ایئر فورس نے چیلنج کیا، بھارتی طیاروں نے جاتے ہوئے پے لوڈ ڈراپ کیا ، ان کے چار بم جبہ کے مقام پر گرے۔
بھارت نے حملہ نہیں در اندازی کی اور اب ہماری باری ہے، پہلے بھی کہا تھا کہ بھارت ہمیں کبھی سرپرائز نہیں کر سکتا لیکن ہم بھارت کو سرپزائر کر سکتے ہیں، ہمارا جواب مختلف ہو گا، وقت اور جگہ کا تعین ہم خود کریں گے اور بھارت ہمارے سرپرائز کا انتظار کرے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتا یا کہ 14 فروری کے بعد سے کیپ مشن فضاء میں ہیں، پیشہ وارانہ کام چلتے رہتے ہیں۔ رات کو ہمارا کمبٹ مشن قریب تھا جب سیالکوٹ میں پہلی بار بھارتی طیارے ریڈار پر آئے، ہماری فورس نے انہیں چیلنج کیا لیکن وہ قریب نہیں آئے اور اپنی حدود میں رہے۔ ایک بھارتی فارمیشن اوکاڑہ بہاولپور سیکٹر میں ریڈار نے نوٹ کی، اگر یہ ہماری کسی بھی ملٹری پوزیشن پر اسٹرائیک کرتے تو ایئرفورس کی فائٹ ہوتی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اگر یہ مورچے پر اٹیک کرتے تو فوج اور ایئرفورس تیار ہے، اگر آرمی کی پوسٹ پر اسٹرائیک ہوتی تو یونیفارم اہلکاروں کی شہادت ہوتی لیکن ان کا مقصد سویلین کو نشانہ بنانا تھا تاکہ وہ دعویٰ کرسکیں کہ انہوں نے دہشتگرد کیمپوں پر حملہ کیا۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت نے 350 سے زائد دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا لیکن میں کہتا ہوں کہ کوئی ایک اینٹ بھی نہیں ٹوٹی، اگر وہاں کوئی عمارت ہوتی یا 10 لوگ بھی مرے ہوتے تو وہاں ملبہ ہوتا، لاشیں ہوتی، خون ہوتا لیکن جھوٹ کے کوئی پاؤں نہیں ہوتے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے بھی بھارت کے جھوٹ کو بے نقاب کیا اور آئندہ بھی کریں گے اور ہم بھارت کے جھوٹ کا جواب سچ سے دیں گے۔
وزیراعظم نے کہا تھا کہ حملہ کیا تو جواب کا سوچیں گے نہیں جواب دیں گے۔ کل پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہے جس کے بعد وزیراعظم نے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی کا اجلاس طلب کیا ہے اور مجھے اس کی اہمیت بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔

اسے بھی پڑھیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.