” صدیقؓ کیلئے ہے خدا کا رسول بس”

120

تحریر :ارشد جاوید مصطفائی۔۔۔
جب فاران کی چوٹیوں پر چڑھ کر خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺنے ایک خدائے بزرگ وبرتر کی واحدنیت اور اپنی رسالت کا اعلان کیا تو جس خوش نصیب اور بلند بخت مرد نے سب سے پہلے آپ کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے آپ کے دامن رحمت سے وابستگی اختیار کی اور اسلام قبول کیا وہ جناب حضرت ابوبکر صدیق ؓہیں ۔آپ کا نام عبداللہ کنیت ابوبکراور لقب صدیق آپ کے والدکانام ابو قحافہ عثمان اور والدہ کا نام ام الخیر سلمی ہے ۔ساتویں پشت میں سلسلہ نسب حضور اکرم ﷺسے مل جاتا ہے ۔آپ ؓزمانہ جاہلیت میں بھی بلند کردار ،صاحب عزت و عظمت تھے ۔آپؓنے قبول اسلام سے قبل بھی کبھی شراب نہ پی تھی ۔مختلف اموراور جھگڑوںکے فیصلوں میں لوگ آپ کو منصف تسلیم کرتے تھے ۔آپ عرب کے بڑے تاجر تھے ۔کائنات کے اندر جو مقام آپؓ کا ہے وہ کسی اور کانہیں ۔حضور پر نور ﷺکے ایک لاکھ چوبیس ہزار کم و بیش صحابہ اکرام میں سے صرف صدیق اکبرؓ ہیں جن کی صحابیت کو قران پاک نے بھی ثابت کیا ہے اور پھر صحابہ کرام کی جماعت میں آپکی انفرادیت کہ آپ کی چار نسلیں مرتبہ صحابیت پر فائز ہیں جو ایک منفرد اعزاز ہے جو کسی اور صحابی رسول ؓ کے حصہ میں نہیں آیا ۔قران پاک کی کئی آیات آپ ؓ کے حق میں نازل ہوئیں ہیں ۔انبیاء کرام کی مقدس جماعت کے بعد سب سے افضل ترین جناب ابوبکر صدیق ؓ ہیں ۔جوسید کونین ﷺکی حیات طیبہ میں آپ کے وزیر اور آپکے وصال مبارک کے بعد آپ کے خلیفہ بنے ۔ام المومینن سیدہ عائشہ صدیقہؓفرماتی ہیں جب آپ ؓحلقہ بگوش اسلام ہوئے تو چالیس ہزار دینار آپ کے پاس تھے ۔جو سارے کے سارے تبلیغ دین اور اشاعت اسلام کیلئے بوقت ضرورت رسول اللہﷺکی خدمت میں پیش کرکے ختم کر دئیے۔ آپ ؓ نے کئی بار گھر کا سارا مال راہ خدا میں پیش کیا ۔بلکہ غزوہ تبوک کے موقع پر تو آپؓنے گھر کا سارا سامان اس انداز میں کہ گھر کی دیواروں پر جھاڑو پھیر کر جھاڑو بھی گٹھڑے میںباندھ کر بارگاہ رسالتماب ﷺمیں مجاہدین اسلام کیلئے پیش کر دیا ۔تن کا لباس اتار کر کانٹوں کے بٹنوں والا بوریا پہن لیا۔رسول خدا ﷺنے حضرت ابو بکر صدیقؓکا سامان دیکھ کر پوچھا گھر والوںکیلئے کیا چھوڑآئے ہو تو آپ نے عرض کیا اللہ تعالی اور اسکا رسولﷺ۔
شاعر مشرق حضرت اقبال نے کہا تھا
پروانے کو چراغ اور بلبل کو پھول بس۔۔۔صدیقؓ کیلئے ہے خدا کا رسول بس
جبریل وحی لے کربارگاہ رسالت ماب ﷺمیں آئے تو انہوں نے بوریا والا لباس زیب تن کیا ہوا تھا ۔جب آقا کریم ﷺنے پوچھا جبریل آج یہ لباس کیسا ہے تو انہوں نے عرض کیا آج عرش کے تمام فرشتوں نے آپ کے غلام حضرت ابوبکر صدیق ؓجیسا لباس پہنا ہوا ہے ۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا دستور تھا کہ ان بوڑھے اور کمزور غلاموں کو مسلمان ہونے کی بناء پر کفار کے ہاتھوںستائے جاتے تھے ۔اپنی دولت سے خرید کر آزاد کر دیا کرتے تھے ۔ایک دن آپ کی والد حضرت ابوقحافہ عثمان نے کہا اے بیٹا میں دیکھ رہا ہوں کہ تو بوڑھے اور کمزور غلاموں کو خرید کرآزاد کر رہے ہو۔کاش تم غریب جوان غلاموں کو خرید کر آزاد کرتے تو وہ بھی مشکل وقت میں تمھارے کام آتے مگر آپؓ نے اپنے ابا جان سے کہا ان غلاموں کی آزادی سے میرا مقصد صرف اور صرف اللہ تعالی کی رضاوخوشنودی ہے ۔کسی قسم کی کوئی دنیاوی منعفت یا لالچ نہیں حضرت عروہ بن زبیرؓ کے مطابق کم از کم سات ایسے غلاموں کو خرید کر آزادی دلائی جن کومحض اسلام قبول کرنے کی پاداش میں اذیتیں دی جاتیں تھیں ۔آپ ؓ کے انہیں اعمال صالحہ کی وجہ سے سورۃ والیل کی آیات کریمہ میں آپ ؓ کی تعریف فرمائی
کون صدیق ۔۔۔رونق بازار مصطفی ۔حامل انوار مصطفی ۔حاصل افکار مصطفی ۔مظہر کردار مصطفی ۔ہمسفر مصطفی ۔یار غار مصطفی ۔یار مزار مصطفی ۔واقف اسرار مصطفی ۔نائب مصطفی ۔افضل البشر بعد از لانبیاء خلیفۃبلا فصل نبی اکرم ﷺنے فرمایا مجھے کسی کے مال نے اتنا نفع نہیں دیا جتنا ابوبکر کے مال نے دیا ۔آپ حضور ﷺکے ساتھ اتنا عشق ومحبت کرتے کہ ایک مرتبہ اپنے صاحبزادے عبدالرحمن کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے ۔ انہوں غزوہ بدر کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا اباجان جنگ کے دوران آپ کئی بار میری تلوار کی زد میں آئے مگر میں نے آپکا احترام کرتے ہوئے باپ کی محبت میں چھوڑ دیا آپ کے چہرے کا رنگ سرخ ہو گیا اور کڑک کر جواب دیا بیٹا اگر تم میری تلوار کی زد میں ایک مرتبہ بھی آجاتے تو میں تجھے اپنے آقا ﷺکا دشمن سمجھ کر تیرا سر تن سے جدا کر دیتا ۔تقوی و ظہارت کا یہ عالم تھا کہ حضرت عمر فاروق ؓ اور حضرت علی ؓ کہتے ہیں کہ ہمیشہ اس کوشش میں رہتے کہ نیکی و پرہیزگاری اور خدمت انسانیت میں حضرت ابوبکر سے کبھی سبقت لے جائیں مگر ہر بار جناب ابوبکر ہم سے پہلے وہ خدمت دین سر انجام دے چکے ہوتے تھے ۔اس لئے تو حضرت عمر فاروق کہتے ہیں کاش میں ابوبکرصدیقؓ کے سینے کا ایک بال ہوتا ۔حضور اکرم ﷺسے جانثاری کا ایسا جذبہ کہ چشم فلک نے آج تک نہ دیکھا ہوگا ہجرت کی رات جب ننگی تلواروں کے سائے میں حضور سید دوعالم ﷺکے ساتھ روانہ ہوتے ہیں تو کبھی ابوبکر آپ کے دائیں ہوتے ہیں اور کبھی بائیں ۔کبھی آگے کبھی پیچھے ۔رسالتماب ﷺنے پوچھا ابوبکر یہ کیا کرتے ہو تو آپ نے کمال فداکارانہ جواب دیا حضور دشمن کی طرف سے آپ پر اگر کوئی تیر یا تلوار آئے تو پہلے ابوبکر ہو تاکہ آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے ۔غار ثور میں پہنچنے کے بعد تاجدار صداقتؓ نے اپنے کپڑے پھاڑ کرسوراخوں کو بند کرنا شروع کردیا ،سارے کپڑے ختم ہوگئے ایک سوارغ باقی تھا جس پر آپ نے اپنی ایڑھی رکھ کر بند کر دیا تو رسول خدا نے پوچھا آپ کے کپڑے کدھر گئے آپ نے عرض کیا وہ سارے غار کے سوراخوں میں استعمال ہوگئے ۔یہ سن کر محبوب کبریاﷺ نے اپنے دست مبارک بارگاہ خدا میں بلند کرکے عرض کیا
اے اللہ ابوبکر کو قیامت کے دن میرے ساتھ میرے مقام پر جگہ عطاء فرمانا
اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی کہ آپکی دعا قبول ہوچکی ہے ۔
مصطفی کا ہمسفر ۔۔۔۔ابوبکر ابوبکر
تین سو سے زائداحادیث مبارکہ میں حضور اکرم ﷺاپنے یار غار کا نام لے آپ کا تذکرہ فرمایا ہے ۔حضرت ابوبکر آپ ؓ مشفق بھی ہیں اور شفیق بھی۔آپ ؓ رہبر بھی ہیں اور خلیق بھی ۔آپ ؓ احسن بھی ہیں اور عتیق بھی ۔آپؓ صادق بھی ہیں اور صدیق بھی ۔آپ نے دو سال تین ماہ دس دن خلافت کی ذمہ داریاں نبھانے کے بعد ترسیٹھ سال کی عمر میں راہی ملک عدم ہوئے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.