’’عافیہ کی واپسی 20ارب ڈالر سے بڑا تحفہ ہوگی‘‘

625

تحریر:الطاف شکور۔۔۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان ہر لحاظ سے تاریخی رہا ۔ حجاز مقدس سے مسلمانوں کی والہانہ عقیدت اور تیل کی دولت کی بدولت سعودی عرب اور اس کے حکمرانوں کو نہ صرف مسلم دنیا بلکہ امریکہ و یورپی ممالک میں بھی خصوصی سیاسی اہمیت حاصل رہی ہے۔ محمد بن سلمان کا دورہ نہ صرف پاکستانی معیشت بلکہ سعودی عرب میں برسوں سے قید ہزاروں پاکستانی قیدیوںکیلئے بھی نیک شگون ثابت ہوا ہے۔ یقینا پاکستانی قیدیوں کی رہائی پر وزیراعظم اور ان کی حکومت مبارکباد کی مستحق ہے۔ الحمدللہ پاکستانی شہریوں کی عزت اور وقار بلند کرنے کیلئے ریاستی سطح پر پہلا قدم تو کسی حکمران نے اٹھایا جس کا مطالبہ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ اور اس کے تین کمسن بچوں کے اغواء کے وقت سے کیا جارہا تھا اور پاکستانی شہریوں کی عالمی برادری میں توقیر و عزت قائم کرنے کے اس مطالبہ کے عمران خان خود بھی مشرف، زرداری اورنواز دور میں بڑے داعی رہے ہیں ۔
پاکستانی معیشت میں ہمیشہ سے اوورسیز پاکستانیوںکی انتہائی اہم شراکت داری (Contribution) رہی ہے اس لئے اس شعبے میں سعودی حکومت سے مزید مراعات طلب کی جانی چاہئے جوکہ بے روزگاری کے خاتمہ اور زرمبادلہ کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوگی ۔ دنیا کے امیر ممالک اپنی افرادی قوت کو بہترین طریقہ سے استعمال کررہے ہیں۔ وہ اپنے شہریوں کو تعلیم یافتہ اورہنر مند بنانے کیلئے خصوصی کوششیں کرتے ہیں۔ ہم بھی اپنی افرادی قوت کو تعلیم اور ہنرمندی سے آراستہ کرکے ترقی یافتہ اور امیر ممالک کے صفوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔ سعودی عرب کی سی پیک میں شمولیت کا فیصلہ دانشمندانہ ہے۔ سی پیک کو وسعت دینا حکومت، وزیراعظم اور آرمی چیف کا ایسا کارنامہ ہے جسے پاکستان کی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا اور جو ملک کی تقدیر حقیقی معنوں میں بدلنے کا سبب بن سکتا ہے ۔ہمارا ملک تاریخ کے جس بحران سے گذر رہا ہے اس کا ایک بڑا سبب اپوزیشن جماعتوں کی بلاوجہ کی سیاسی رسہ کشی بھی رہی ہے۔عوامی مسائل کو نظر انداز کرکے اپوزیشن نے حکومت کی ٹانگیں کھینچنے کو ہی فرض منصبی سمجھ رکھا تھا جس کی اصل وجہ اقتدار کی حرص رہی ہے۔ بدلتے عالمی منظر نامہ اور ڈوبتی معیشت کو سہارا دینے کا تقاضہ ہے کہ ملک میں مستحکم حکومت کے قیام کیلئے کوششیں کی جائے مگر اس کے لئے سب سے اہم کردار حکومت کو ہی ادا کرنا ہوگا۔ اس کردار میں سب سے اہم عنصر عوامی جذبات کا احترام کرنا ہے تاکہ سیاسی جماعتوں کی جڑیں عوام میں مضبوط ہوسکیں۔ مضبوط، مستحکم ،خوشحال، باوقار اور غیرتمندقوم بننے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت کے بہترین اقدامات کو دل کھول کر سراہا جائے ۔
20ارب ڈالرز کے معاہدوں پر دستخط اور ملک میں سعودی سرمایہ کاری کا نئے سرے سے آغاز بھی شاندار کامیابی ہے جس سے سعودی عرب سے دوستی کے رشتے مزید گہرے ہوں گے اور یہ دوستی پاکستان کی خوشحالی و ترقی کی ضامن ثابت ہوگی ۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے اعلان کے محض دو روز بعد ہی سعودی جیلوں میں قید پاکستانی شہریوں کی رہائی اور وطن آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس شاندار پیشرفت پر پوری قوم کی طرح میں بھی بہت خوش ہوں اور خوشی کے اس موقع پر وزیر اعظم پاکستان کو قوم کی جانب سے یہ یادہانی کرانا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ دختر پاکستان ڈاکٹر عافیہ کے دردکو بھی محسوس کریں جن کی قید ناحق کو 16 سال گذر چکے ہیں۔عافیہ کی ضعیف، علیل مگر بلند حوصلہ ماں عصمت صدیقی کے درد کو بھی محسوس کریں۔ عافیہ کی بیٹی مریم اور بیٹے احمد کے درد کو بھی محسوس کریں اور عافیہ کے امریکی جیل سے لکھے گئے خط کا جواب دیں اور 16برسوں سے ظلم سہنے اور بے مثال استقامت کا مظاہرہ کرنے والی اس بیٹی کو بھی قید سے رہائی دلا کر اپنی ماں جو کہ بستر علالت پر اپنی بے گناہ، ذہین اور ماہر تعلیم بیٹی کی رہائی اور وطن واپسی کے آپ کے وعدے کے جلدپورا ہونے کی منتظر ہے اور عافیہ کے دونوں بچے، بچپن اور لڑکپن کی عمر میں ممتا کی محرومیوں کے بعد اب سن بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔ عمران خان کیلئے یہ سنہری موقع ہے وہ خود کو سابقہ حکمرانوں سے مختلف ثابت کریں۔وہ اس موقع پر ڈاکٹر عافیہ کو وطن واپس لاکر نہ صرف قوم کے دل جیت سکتے ہیں بلکہ تاریخ میں ایک غیرت مند ہیرو حکمران کے طور پراپنا نام بھی رقم کرواسکتے ہیں ۔
92 کا کرکٹ ورلڈ کپ ہو یا کینسر کے علاج کیلئے شوکت خانم میموریل اسپتال یا پھر نمل یونی ورسٹی ہو پاکستانی قوم نے ہمیشہ عمران خان کا ساتھ دیا ہے۔ سی پیک میں سعودی عرب کی شمولیت، 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور سعودی جیلوں سے پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع ہونے کی کامیابی حاصل کرنے کے بعد اب وقت آگیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کے اغواء کے 16 سال 30 مارچ کو مکمل ہونے سے قبل انہیں وطن واپس لے آئیں ۔ عمران خان کی یہ کامیابی پاکستانی قوم کے لئے 20 ارب ڈالر کی سعودی سرمایہ کاری سے بڑا تحفہ ہوگی کیونکہ عافیہ کی باعزت وطن واپسی سے ہر فرد میں تحفظ کا احساس پیدا ہو گا ۔ عالمی برادری میں پاکستانی شہریوں کا وقار بلند ہوگا اور امریکی جیل سے عافیہ کی باعزت وطن واپسی یہ بھی طے کرے گی کہ حکمرانوں کی نظر میں قومی غیرت کی کتنی قدرومنزلت ہے؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.