بھارت نے حملہ کیا تو منہ کی کھائے گا:سابق بھارتی چیف جسٹس

116

دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق بھارتی چیف جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے مودی سرکار کو خبردار کیا ہے کہ پاکستان جوہری طاقت ہے مذاق نہیں، پاکستان کی فوج تیارہے لائن آف کنٹرول کراس کی تومنہ توڑجواب ملے گا،پاکستان کی فوج تیارہے لائن آف کنٹرول کراس کی تومنہ توڑجواب ملے گا،بھارتی سیاستدانوں نے کشمیرپرعوام کوبیوقوف بنایا، یہ حقیقت ہے کشمیری عوام بھارت کے خلاف کھڑے ہیں،میں بھی کشمیری ہوں مجھ پر حملہ کرو تمھاری بہادری نکال دوں گا۔ جمعرات کو بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق بھارتی چیف جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے مودی سرکار کو خبردار کیا ہے کہ پاکستان جوہری طاقت ہے مذاق نہیں، پاکستان کی فوج تیارہے لائن آف کنٹرول کراس کی تومنہ توڑجواب ملے گا۔ بھارت کے سابق چیف جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے مودی سرکار کے جنگی جنون کو حقیقت کا آئینہ دکھادیا، کاٹجو نے اپنے بیان میں کہا پاکستان سے بدلہ لینے کی باتیں ہورہی ہے، پاکستان جوہری طاقت ہے مذاق نہ سمجھا جائے، پاکستان کی فوج تیارہے لائن آف کنٹرول کراس کی تومنہ توڑجواب ملے گا۔سابق بھارتی چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بھارتی سیاستدانوں نے کشمیرپرعوام کوبیوقوف بنایا، یہ حقیقت ہے کشمیری عوام بھارت کے خلاف کھڑے ہیں۔مرکنڈے کاٹجو نے کہا نہتے کشمیریوں پر حملے کئے جارہے ہیں ، دکانیں جلائی جارہی ہے، میں بھی کشمیری ہو ، جرات اور ہمت ہیں تو مجھ پر حملہ کرو میں تمہاری بہادری نکال دوں گا۔یاد رہے چند روز قبل بھارتی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے نے ہندو مذہب سے کھل کر اختلافات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ساری دنیا میں گائے کا گوشت کھایا جاتا ہے مگر بھارت میں صرف اسے ماتا بنا دیا گیا، گر آپ کے پاس دماغ ہے تو ذرا سوچیے کہ گائے کس طرح انسان کی ماتا کیسے ہوسکتی ہے؟، دنیا بیف کھاتی ہے، میری نظر میں گائے گھوڑے اور کتے کی طرح جانور جیسا ہے۔واضح رہے گذشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں کار بم حملے میں42 بھارتی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے، حملے کے فوری بعد بھارت نے پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔بھارت نے الزام لگایا تھا کہ پلوامہ میں حملہ کالعدم جیش محمد کی جانب سے کیا گیا ، جسے پاکستان کی پشت پناہی حاصل ہے۔بعد ازاں پاکستان نے مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے بھارت کے الزامات کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا ہمیشہ سے مقبوضہ وادی میں تشدد کی مذمت کرتے آئے ہیں، بغیر تحقیقات کے بھارتی میڈیا اور حکومت کے الزامات کومسترد کرتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.