سہل ترین حدف

2,907

تحریر:آئمہ محمود۔۔۔۔
استحصالی ٹولہ طاقت کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کیلئے یو ں تو کئی ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے تاہم ان میں سب سے زیادہ آزمودہ اور دیرپا حربہ ہے کسی دیدہ یا نادیدہ دشمن کی تشکیل اور اسکی بربریت کی ایسی مثال قائم کرنا کہ اکثریتی آبادی یا تو خوف وہراس کے سائے میں جئے یا نفرت و بدلے کے آتش میں سلگتے ہوئے عقل وفکر کو تاق پے رکھ کے پاور گیم کے مہرے بن کر رہ جائیں۔ عوام کی محرومیوں ، افلاس ، بنیادی حقوق سے دوری اور عزت نفس کی پامالی کو اس دشمن کے سر تھوپ کر اہل اقتدار ہمیشہ اپنا الو سیدھا کرتے رہے ہیں ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس حربے کا استعمال صرف Enemiesکی exaggerationمیں ہی نہیں کیا جاتا بلکہ کرم فرماوں کی مہربانیوں ، حکمرانوں کی قابلیت، عوام کی توقعات اور انصاف کے پرچار میں بھی کیا جا تا ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے لوگ عمومی طور پر یا اگر ہم صرف اپنے خطے کی بات کریں تو برصغیر پاک و ہند کے لوگ خصوصی طور پر اسی دوستی و دشمنی کے کو لہو میں جتے جان ومال ،ترقی و تحفظ سے کوسوں دور ہوتے جا رہے ہیں ۔ یوں تو ہم اہل خطہ ایسے حالات و واقعات میں گھیر ے رہتے ہیں کہ جن میں حواس ٹھکانے رہیں تو اسی کو Survivalمان لیا جاتا ہے لیکن گذشتہ ہفتے میں جو ہنگامہ خیز eventsرہے اس نے سرحد کے دونوں طرف emotionsکو نئی انتہاوں پر پہنچا دیا۔بات ہو رہی ہے مقبوضہ کشمیر کے علاقہ پلوامہ میں انڈین سکیورٹی فورسز پر ہونے والے سنگین اور قابل مذمت خودکش حملے کی جس میں 50سے زائد افراد جان بحق ہو گئے۔دہشت گرد حملہ خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو، دنیا کے کسی بھی خطے کے لوگوں پر ہو انتہائی تکلیف دہ ہے۔ یہ وہ قیامت ہے جس کی آگ تمام پاکستانیوں خصوصا ان کے دلوں میں جل رہی ہے جنھوں نے اپنے بچے، بچیاں، جوان اور بزرگ اس قیامت کی نذر ہوتے دیکھے ہیں۔ سو کسی بھی ایسے حملے کی مذمت نہ کرنا، مرنے والوں کے ورثا سے Sympathetic نہ ہونا ہمارے لیے مشکل نہیں ہونا چاہیے لیکن کیا کریں یہ تو انسانی لیول کی باتیں ہیں حکومتوں کا لیول جو بھی ہو بحرحال انسانی نہیںہوتا۔ تبھی تو اسے واقعہ کے بعد بھارتی حکومت نے فورا پاکستان کی طرف انگلی اٹھا کر منہ سے جھاگ نکالنا شروع کر دی۔ سبق سکھانے ، اکیلا کر دئیے جانے اور فوج کو کھلی چھٹی دے دینے کی دھمکیاں میڈیا کے ذریعے گھر گھر پہنچائی جانے لگی۔ سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت کا وہ طوفان برپا کیا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے۔ وہ تمام عناصر جن کی بات لوگوں کیلئے ذرا سی بھی معنی رکھتی ہے speciallyبولی وڈ وہاں سے بھی انتقام لینے کی دہائی دلائی گئی۔ حالات ایسے پیدا کر دئیے گئے کہ کسی بھی Reasonable نکتے کو اٹھانے والا فورا غدار اور واجب قتل ٹھہرا۔ نوجوت سنگھ سدھو کو یہ کہنا مہنگا پڑ گیا کہ دہشت گردوں کا کو ئی مذہب نہیں ہوتا۔ چند لوگوں کے کیے کی ذمہ داری پوری قوم پر نہیں ہو سکتی۔ بس پھر کیا تھا سب آدم آدم بو کرتے ان کے پیچھے پڑ گئے۔ ایسے حالات میں وہاں کوئی اپنی حکومت سے یہ کیسے پوچھ سکتا ہے کہ سرکار جب آپ نے نوٹ بندی کرکے کروڑوں لوگوں کو روزی روٹی سے محروم کرکے یہ خبر سنائی تھی کہ اب دہشت گردی کو ختم کر دیا گیا کیونکہ انکی رسد اور وسائل کو hit کیا گیا تو یہ پلوامہ اور اس کے علاوہ بھی دہشت گردی کے واقعات مسلسل کیوں ہو رہے ہیں؟ دنیا کی تیسری بڑی فوجی قوت ہوتے ہوئے جس کے پاس مضبوط ترین انٹیلی جنس ایجنسیاںہیں وہاں انتہائی سیکیورٹی کے علاقے میں کیونکر دہشت گرد یہ قتل و غارت کرنے میں کامیاب ہو گئے؟
so calledسرجیکل سٹرائیک کی رام کہانی کا کیا نتیجہ نکالا؟ اس دہشت گردی نے تو فوجیوں کی جان لی ہے لیکن تب حکومت کا دل درد اور

غصے سے کیوں نہیں بھر جا تا جب یہی فوجی نامساعدہ حالات ، معمولی تنخواہوں ، ناروا رویوں اور برے کھانے کی شکایتیں کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنے حالات کو ایکسپوز کرتے ہیں تو یہی حکومت ان کا کورٹ مارشل کر کے سخت سزائیں دیتی ہے۔تب سارا ملک فوجیوں کا بھول جاتا ہے کیوں؟ کیونکہ تب دشمن ہمسایوں پر مدعا نہیں ڈالا جا سکتا۔ جس تنظیم نے پلوامہ حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے وہ پاکستان میں بھی کئی حملوں کی ذمہ دار ہے جسمیں سنیکڑوں لوگ اپنی جانوں سے محروم کر دئیے گئے ۔
ایسے حملوں میں مارے جانے والے بے قصور انسانوں کی ہلاکتوں کا بدلہ انہی جیسے لوگوں کو نشانہ بنا کر لیا جاتا ہے۔انڈیا میں حکومت اور انتہا پسند تنظیموں نے جو حالات پیدا کئے اسکا نشانہ صرف اور صرف عام مسلمان ہونگے جن کا پاکستان یا پاکستانی سرکار سے دورپار کا بھی تعلق نہیں۔ بات یہ ہے کہ صرف انڈین حکومت کا رویہ ہی ایسانہیں خدانخواستہ یہاں ایسے کسی سانحے کی صورت میں ہماری حکومتیں، میڈیا اور ملک کی سلامتی کے ٹھیکہ دار same to sameردعمل کا اظہار کرتے جیساکہ مودی حکومت کا ہے۔ ہردہشت گردی کے پیچھے انڈیا یا افغانستاں ! یہ Narrativeرہتا ہے یہاں کے اہل حکومت کا۔ لاکھوں افراد کے خون خرابے کے بعد اب طالبان کے ساتھ بات چیت کی جارہی ہے کیا دونوں طرف کے عوام اس بات کو نہیں سمجھ سکتے کہ سالوں کے خون خرابے کے بعد Disputes کوٹیبل پر ہی ختم کیا جاتا ہے۔اگر دشمن کے ساتھ بات چیت ممکن نہیں تو کم از کم اپنے ہی لوگوںکو دیوار کے ساتھ لگا کر ان سے جینے کی آس تو نہ چھین لیں۔ آخر کیوں لوگوں کے Grievances کو ایڈریس نہیں کیا جاتا؟ جان بوجھ کر حالات ایسے رہنے دئیے جاتے کہ Disputesکبھی حل نہ ہوں اور سیاست چلتی رہے۔آخرکب تک دشمنی اور دشمن کو نیست ونابود کرنے کا حربہ کامیاب ہوتا رہے گا؟ اس اندھیر ے میں باہمی محبت، انصاف اور امن کی بات کرنا اگرچہ بے معنی لگتا ہے اور ایسی کسی آواز کا زبان سے نکل کر کانوں تک پہچنا بھی مشکل لگ رہا ہے لیکن آج بھی یہ حقیقت ہے کہ دونوں طرف عوام کی اکثریت ایک دوسرے کے ساتھ پرامن رہنے کو جنگ پر ترجیح دے گی!امن کی بات کبھی بھی out datedنہیں ہو سکتی چاہے باظاہر وہ کتنی ہی کمزور کیوں نہ محسوس ہو!

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.