امید بہار

116

تحریر:علی ارسلان۔۔۔

پچھلے ستر سالوں کی تاریخ کا بغور مطالعہ کریں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ ان ستر سالوں میں اِس پاکستانی نامی قوم کے ساتھ جو کِھلوار کیے گئے اُن کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج اِس قوم کے ہر فرد پر خزاں کے سائے ہیں۔سوائے اُن کے جو کہ اِن ساؤں کے ذمہ دار ہیں۔اِن ساؤں میں اِس قوم کے لوگوں کی خواہشوں اور اُمیدوں کی روشنی دھیمی پڑ گئی ہے۔مگر یہ سائے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید گہرے ہوتے چلے جارہے ہیں اور اِن کی تاریکی میں یہ قوم اپنے آپ کو پہچاننے سے قاصر ہے یہ قوم کہ جو اگر متحد ہو کے ایک قائد کے پیچھے کھڑی ہوئی تو اپنی الگ حیثیت منوا لی مگر افسوس کہ جس حیثیت اور شناخت کو منوانے کیلئے یہ قوم متحد ہوئی تھی آج آپس کی نا چاکیوں کی وجہ سے منقسم ہو چکی ہے اور اپنی پہچان کھو رہی ہے مگر یہ قوم کرے بھی تو کیا کرے؟جبکہ پچھلے ستر سالوں میں اِس قوم کو جھوٹے وعدوں اور دلاسوں کے سوا کچھ نہیں ملا کبھی نو سال کی محنت سے بننے والا پاکستان کا پہلا آئین اپنی طاقت کے نشے میں توڑ دیا جاتا ہے تو کبھی انا کی تسکین کیلئے اِس مُلک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے کبھی اِس مُلک میں دہشت گردی جیسے ناسُور کی جڑیں گاڑھ دی جاتیں ہیں تو کبھی سیاست کے نام پر ہمارے اپنے ہی لوگوں میں نفرت اور دشمنی کا زہر گول دیا جاتا ہے ایسے میں اِس قوم کے ارمانوں اور خواہشوں کا دم توڑنا کوئی بڑی بات نہیں ہے کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کیا واقعی یہ ہی ہے وہ مُلک جس کیلئے ہزاروں نہیں لاکھوں لوگوں نے اپنی جانیں دی جس کیلئے لاکھوں ماؤں کی کوکھ اجڑی جس کیلئے لاکھوں عورتیں بیوہ ہوئیں جس کیلئے لاکھوں بچے یتیم ہوئے اور جس کیلئے لاکھوں بہنیں بے آبرو ہوئیں ہم نے تو یہ مُلک بنایا تھا اپنی حفاظت کیلئے لیکن آج یہ سوال کرتا ہوں میں آپ سے اپنے اردگرد کے ماحول کا جائزہ لیجئیے اور پھر سوچیں کے کیا آپ محفوظ ہیں؟ کیا آپ محفوظ ہیں کسی شر پسند کے شر سے؟کیا آپ کا سکول جانے والا بچہ محفوظ ہے تعلیم دشمنوں سے؟کیا اِس قوم کی بہین،بیٹیاں محفوظ ہیں حوس کے پُجاریوں سے؟کتنے دکھ کی بات ہے کہ آج ہم اپنے محافظوں وہ لوگ جو ہماری حفاظت کیلئے معمور کیے گئے ہیں ہم تو اُن سے محفوظ نہیں ایسے میں یہ قوم چیخے گی چلائے گی اور سسک کر دم توڑ جائے گی کیونکہ اِس مُلک کے حکمران اپنی عیش و عشرت کے اسِیر نظر آتے ہیں اُنھیں اِس بھوکی،ننگی،سرد راتوں میں کُھلے آسمان تلے راتیں بسر کرتی اور کاغذ کے چند ٹکڑوں کی خاطر اِک دوسرے کا قتل کرتی بے حس قوم سے اور اِس قوم کی ضروریات پوری کرنے سے کوئی غرض نہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی کو اِس قوم کا خیال آیا صرف اپنے مقصد کی تکمیل کیلئے آیا اگر کسی حکمران کو اِس قوم کا خیال آیا تو صرف اِس غرض سے کہ اِس قوم کو لُوٹا جائے اور اپنی سیاست کو چمکانے کیلئے سیاست کے نام پر اِس قوم کے لوگوں کو لڑوایا جائے لیکن افسوس کے کسی حکمران کو اِس لڑکھڑاتی قوم کو سہارا دینے یا اِس کی بگڑی ہوئی حالت کو سنوارنے کا خیال نہیں آیا افسوس کہ کسی کو اِس قوم کی اخلاقی تربیت اور شعور کو پیدا کرنے کا خیال نہیں آیا باقی جو کچھ بچا تھا وہ ہمارے علمائے کرام نے دین کی غلط تشریع کرکے ہم سے چھین لیا اور اِس قوم کی لڑکھڑاتی ہوئی ناؤ کو ڈبونے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں آج ہمیں اِسلام کے بنیادی ارکان کا تو علم نہیں مگر ہاں اُن فرقوں کا علم ضرور ہے جنھوں نے مسلمانوں کو سُنی،وہابی،اور شیعہ میں منقسم کر دیا ہے وہ دین جس کے ذریعے ہماری اخلاقی تربیت ہونا تھی وہ دین جس کے ذریعے ہم میں فکری سوچ نے جنم لینا تھا اور وہ دین جس نے ہمیں ایک باوقار زندگی گزارنے کے طریقے بتانے تھے مگر افسوس آج اُس دین میں بننے والے فرقوں کی وجہ سے ہم تقسیم ہو چکے ہیں آج کسی کے قتل ہوجانے اُس کا خون سڑک کی کسی پگڈنڈی پر بہہ جانے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا ہماری پسماندگی کی اِس سے بڑھ کر اور مثال کیا ہوگی کہ ہم نے انسان کے مردہ جسم کو ذریعہ کاروبار بنا لیا ہے(ابھی پچھلے دِنوں اخبار میں خبر پڑھنے کو ملی کہ:لاہور کے کسی ہسپتال میں لاوارث لاشوں کی فروخت کا عمل جاری ہے) ہمارا زوال اِس سے بڑھ کر اور کیا ہوگیا کہ آج ہم اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے خوابوں کے چکر میں کسی دوسرے کے بچے کے منہ سے نوالہ چھین رہے ہیں اور اُس بچے کو حالات کی اُس تاریک گلی میں دھکیل رہے ہیں جہاں وہ دم گھٹنے کے باعث مرجائے گا ہماری کم ظرفی اور بے حسی اِس سے بڑھ کر اور کیا ہو گی کہ آج وہ ہی دھرتی وہ ہی مُلک جس نے ہمیں نام دیا،پہچان دی آج ہم اُسی سی غداری کررہے ہیں آج ہم اپنے سکون کیلئے اِس دھرتی پر بسنے والے دوسرے بنی نوع انسان جس پر غریبی کا لیبل لگا ہوا ہے اُس سے زندگی جینے کا حق چھین رہے ہیں جہاں روٹی مہنگی اور کسی کی جان سستی ہو تو ایسے میں انسانیت کی کشتی ڈگمگائے بِنا نہیں رہ سکتی جہاں غربت کے مارے والدین بھوک اور غریبی کے ڈر سے بچے برائے فروخت کا نعرہ لگائیں اور دوسری طرف ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کے بچے منہ میں سونے کا چمچ لیے پیدا ہوں آج ہمارے اِس معاشرے اور قوم میں انسان نہیں بلکہ احساسات سے عاری مٹی کے وہ پُتلے چل پھر رہے ہیں جنھوں نے خود غرضی کی چادڑ اوڑھ رکھی ہے۔اِن اندھیروں اور تاریکیوں میں ڈوبی قوم اِس اُمید پہ جی رہی ہے کہ "لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے” اِس تنزل کا شکار قوم کو جب عبدالستار ایدھی،ڈاکٹر رتھ فاؤ اور اعتزازحسن جیسے چراغ ملتے ہیں تو اُن کے چہرے بہار میں کِھلے پھولوں کی طرح رنگا رنگ نظر آتے ہیں وہ ہی عبدالستار ایدھی جو آج کے تماش بین دور میں بھی اُن لوگوں کا سہارا بنا جو کہ اپنوں کی خود غرضی اور لاپرواہی کا شکار تھے ایدھی جو اُن یتیم اور بے سہارا بچوں کا سہارا بنا جن کو یہ ظالم معاشرہ قبول کرنے کو تیار نہیں تھا وہ ہی عبدالستار ایدھی جس نے بغیر کسی سرکاری و نجی عہدے کے ایمبولینس سروس کا آغاز کرکے کتنے لوگوں کو اُن کے پیاروں سے بچھڑنے سے بچایا اور جب وہ ایدھی اِس دنیا سے چلا گیا اور اُس کی کُل جائیداد کا حساب لگایا گیا تو سوائے اُس کمرے کے جس میں وہ رہتا تھا اور کچھ بھی نہ تھا وہ ہی عبدالستار ایدھی جو اِس خزاں رسیدہ قوم کی اُمید بہار تھا وہ رتھ فاؤ جس نے اپنی زندگی کے 55سال جرمنی جیسے مُلک کی رنگینیوں کو چھوڑ کر پاکستان جیسے تماش بین معاشرے کو دے دیے اور اِس معاشرے کے کوڑھ زدہ مریضوں کا علاج کرتی رہی اور اعتزاز حسن اِس قوم کا سپوت اِس قوم کا فخر جس نے اپنی ماں کو تو روتے ہوئے چھوڑ دیا مگر سینکڑوں ماؤں کی آنکھوں کو آنسوؤں سے بچا لیا یہ سب اور اِن جیسے ناجانے کتنے اِس قوم کی اُمید ہیں اِس قوم کی اُمید کہ کبھی تو وہ وقت آئے گا جب ہمیں ہمارا کھویا ہوا وقار ملے گا کبھی تو اِس خزاں اور تاریکیوں سے نجات ملے گی یہ اُمید بہار کی اُمید ہے اُس بہار کی اُمید جس میں چمن کا ہر پھول کھلے گا اور پھر ان پھولوں کی خوشبو سے سارا چمن مہکائے گا یہ مہک اِس چمن کو رونک بخشے گی اور اِس چمن میں آنے والا ہر راہگیر یہاں سکون اور لطف محسوس کرے گا ایسے میں وہ مالی جن کا خون پسینہ تزئین گلستاں میں شامل ہو گا وہ اِس آباد چمن کو دیکھ دیکھ کہ سکون حاصل کریں گی وہ وقت دور نہیں کہ جب بہار آئے گی بہار آئے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.