ندامت کے آنسو

143

تحریر: عبدالوحید شانگلوی۔۔۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں ایک بوڑھا آدمی مسلمان ہوا، مگر اس نے جوانی گانا گانے میں گزاری تھی۔ اس کی آواز بڑی اچھی تھی۔ لوگ اس کے شیدائی تھے۔ اس کے ارد گرد سینکڑوں لوگ جمع ہو تے تھے۔ اس کے ذریعے بہت پیسے کماتا تھا۔ اولاد کی نعمت سے محروم تھا۔ بیوی بھی وفات ہوگئ۔ دانت نگل گئے، جس کی وجہ سے اب
وہ گا نہیں سکتا تھا۔ بوڑھا بھی ہے۔ آمدنی کا ذریعے بھی ختم ہوگیا۔ کمانے والا کوئی ہے بھی نہیں۔ دوست و حباب نے بھی مدد چھوڑ دیا۔ کئی دنوں تک کھانے کو کچھ بھی نہیں ملتا۔ اسے اپنی جوانی یاد آتی کہ میں کتنا حسین تھا؟ خوب صورت اور دل کش آواز کی مالک تھا۔ جب میں گانا گاتا تو ہزاروں لوگ جمع ہوتے۔ لوگ میری آواز کےلیے ترس تے تھے، لیکن آج میرا کوئی پوچھتا نہیں ۔ میرا ساتھ دینے والا کوئی بھی نہیں۔
کاش! جوانی میں اللہ کی عبادت کرتا۔ اللہ کو راضی کرتا تو آج میری یہ حشر نہ ہوتی۔ نہ وہ حس و جمال رہا، نہ وہ جوانی رہی اور نہ اور کچھ اب میں اپنے رب کو کس طرح مناؤں؟
اسی سوچوں میں گم ہوکر جنت البقیع پہنچ گیا۔ قبروں کے درمیان بیٹھ کر زاروقطار رونے لگا۔ ندامت کے آنسو بہاتے ہوئے زبان پر یہ دعا جاری تھی۔
"ربّ کریم! میں نے اپنی جوانی ضائع کردی، اب میرے پاس کچھ بھی نہیں کہ آپ کے حضور پیش کر سکو، میرے منہ میں دانت نہیں، پیٹ میں آنت نہیں، اب میں بوڑھا ہوں، لاٹھی کے سہارے چل کے آیا ہوں، نہ آنکھوں میں بینائی ہے، نہ کانوں میں شنوائی، اے مالک! اب میں اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوں، یہاں آکر بیٹھ گیا ہوں، تاکہ قبر کے قریب ہو جاؤں”۔
جب وہ اپنے گناہوں پر نادم ہو کر رورہا تا تو اس وقت آنکھ لگ گئی۔ تھوڑی دیر بعد آنکھ کھل گئیں، دیکھا تو سامنے سے ایک شخص آرہا ہے۔ قریب ہو گیا تو امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ تھے۔ سر پر کچھ اٹھائے ہوئے تشریف لا رہے تھے۔ وہ ڈر گیا کہ یہ تو امیر المومنین ہے۔ یہ مجھے گانا گانے کی سزا دےگا۔ امیر المومنین جوں جوں اس کی طرف بڑھتے ہیں تو اس کے خوف میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امیر المومنین قریب آئے۔ سر سے گٹھڑی اتار کر اس کے سامنے رکھی اور فرما نے لگے:” بھائی کھانا کھاؤ”۔
بوڑھا آدمی حیران ہو گیا کہ امیر المومنین نے میرے لیے کھانا لایا۔ پوچھا امیر المومنین آپ میرے لیے کھانا کیسے لائے؟ امیر المومنین حضرت عمر ؓ نے فرمایا: دوپہر کا وقت تھا۔ میں قیلولہ کررہا تھا کہ میں نے خواب دیکھا۔ خواب میں اللہ تعالی کی طرف سے مجھے حکم دیا گیا کہ جاؤ قبرستان میں میرا ایک دوست بھوکا ہے اسے کھانا کھلاؤ۔ جب میں نیند سے بیدار ہو گیا تو اپنی اہلیہ سے کہا کہ کھانا تیار کرو۔ اللہ تعالی کا ایک دوست بھوکا ہے تاکہ میں اس کو کھانا کھلاؤ۔ چنانچہ بیوی نے کھانا تیار کی اور میں نے سر پر رکھ دیا، کیونکہ میں اللہ کے دوست کے پاس جارہا ہوں اور آپ کے سامنے کھانا پیش کیا۔
وہ آدمی سمجھ گیا کہ میری یہ ندامت اور آنسو اللہ تعالی کو اتنا پسند آیاکہ گناہوں کے باوجود میری ندامت قبول کی۔ وقت کے امیرالمومنین کو خواب میں حکم دیا کہ جاؤ میرا دوست بھوکا ہے اس کے لیے کھانا لے جاؤں۔ اے اللہ! تو رحیم وکریم ذات ہے۔ اسی کیفیت میں وہ بوڑھا حضرت عمر ؓ کے سامنے روتے روتے اپنی جان اللہ کے حوالہ کردی۔ اللہ اکبر۔ اللہ تعالی کتنا کریم ذات ہے ایک مرتبہ ندامت کے آنسو کےساتھ سارے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ اے اللہ! ہمارے ساتھ بھی عافیت کا معاملہ فرمادے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.