مجھے کیوں نکالا، چیف جسٹس اور نیئر رضوی میں دلچسپ مکالمہ

77

اسلام آباد(نیوز نامہ ) سپریم کورٹ میں اسلام آباد فارم ہا ؤ سز پر تعمیرات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اور نیئر رضوی کے درمیان مجھے کیوں نکالا پر دلچسپ مکالمہ ہوا،نیئر رضوی نے کہا کہ کورنگ دریا سے تجاوزات ہٹانے کے کیس کی وجہ سے مجھے نکالا گیا، اس پر چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے مکالمہ کیا کہ آپ کو کیوں نکالا۔چیف جسٹس کے مکالمے پر نیئر رضوی نے بھی مسکراتے ہوئے جواب دیا جی مجھے کیوں نکالا۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں اسلام آباد فارم ہا ؤ سز پر تعمیرات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس دوران سی ڈی اے نے فارم ہاوسز پر زائد تعمیرات سے متعلق پیشرفت رپورٹ جمع کرائی۔سی ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد میں کل 478 فارم ہاسز ہیں، 117 فارم ہاسز میں قواعد سے ہٹ کر زائد تعمیرات کی گئیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم نے تعمیر کی حد12,500 مربع فٹ مقررکی تھی، اس سے زائد پر 7000 روپیفی مربع فٹ جرمانہ عائد کیا تھا، عمارتیں گرانے سے لوگوں کا نقصان ہوگا، ہم چاہتے ہیں ریگولرائزئیشن کیلئے سی ڈی اے کو پیسے دیں، ہم سی ڈی اے کو امیر کرنا چاہتے ہیں۔جسٹس ثاقب نثار نے مزید ریمارکس دیے کہ برآمدے گرائے گئے تو پوری عمارت کو نقصان ہوگا۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کورنگ دریا سے تجاوزات ختم ہوگئیں؟ اس پر سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئر رضوی نے بتایا کہ کورنگ دریا سے تجاوزات ہٹانے کے لیے 22 دسمبر کی تاریخ دی گئی تھی۔نیئر رضوی نے کہا کہ کورنگ دریا سے تجاوزات ہٹانے کے کیس کی وجہ سے مجھے نکالا گیا، اس پر چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے مکالمہ کیا کہ آپ کو کیوں نکالا۔چیف جسٹس کے مکالمے پر نیئر رضوی نے بھی مسکراتے ہوئے جواب دیا جی مجھے کیوں نکالا۔بعدازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.