کیا کراچی کے ساتھ پھر’’ ناانصافی‘‘

122

تحریر:الطاف شکور (صدر پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی)۔۔۔ جس شہر نے عمران خان کو قومی اسمبلی کی 14 نشستیں دے کر وفاق میں حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان اسے مکمل طور پر نظرانداز کررہے ہیں۔ عمران خان نے اپنے حالیہ دورہ کراچی کے دوران کراچی میں صرف آٹھ گھنٹے گذارے جو کہ شہر کے مسائل کا جائزہ لینے کے لئے کافی نہیں تھے۔وزیر اعظم کی حکمرانی کراچی کے عوام کے دیئے گئے بھاری ووٹوں کی مرہون منت ہے ۔ کراچی کے مسائل پر توجہ نہ دینا اور کراچی کو وقت نہ دینا افسوسناک ہے ۔ صرف چند رسمی اجلاس اورمخصوص افراد سے ملاقاتیں میگا سٹی کے مسائل کا حل نہیں ہے۔ وزیر اعظم کو کراچی کو زیادہ وقت دینا چاہئے اور ہر مہینے کئی روز کے لئے یہاں قیام کرنا چاہئے۔ کراچی کی 14 نشستوں کے بغیر عمران خان کا وزیراعظم پاکستان بننا ممکن نہیں تھا۔ پی ٹی آئی کی حکومت کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ اس میگاسٹی نے مرکز میں انہیں حکومت تحفہ میں دی ہے۔ اپنے پیشرو حکمرانوں کی طرح اس شہر کے ساتھ یتیموں والا سلوک جاری رکھنا سیاسی فراست اور دانشمندی کے خلاف ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اپنے پورے دورحکومت میں کراچی میں صرف ایک رات قیام کیا تھا، وہ بھی مہینوں بعد چندگھنٹوں کے لئے کراچی آتے تھے اور چند رسمی اجلاس کرکے چلے جاتے تھے جس کی وجہ سے ان کی جماعت کراچی میں زیادہ تعداد میںووٹ حاصل نہیں کرسکی۔ یہ تحریک انصاف کے مفاد میں ہے کہ عمران خان، نوازشریف کے طرزعمل کی پیروی نہ کریں اور کراچی کو زیادہ وقت، توجہ اور وسائل دیںتاکہ کراچی ترقی یافتہ اور خوشحال میگاسٹی بن سکے۔
پاکستان تحریک انصاف کے ارکان پارلیمان کو کراچی اور لاہور کو میگا سٹی کی آئینی حیثیت دلانے کیلئے فوری طور پر’’ آئینی ترمیم بل‘‘ کو قومی اسمبلی میں پیش کرنا چاہئے جو کہ ان دونوں شہروں کا حق بنتا ہے۔ پوری دنیا نے ’’میگاسٹی گورنمنٹ اورگورننس‘‘ کو تسلیم کیا ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستان کے آئین میں زیادہ آبادی والے شہروں کیلئے میگا سٹی انتظامیہ کا کوئی تصورپیش نہیں کیا گیا ہے۔اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت کراچی اور لاہور دونوں شہروں کومیگا سٹی کی آئینی حیثیت دینے کیلئے آئینی ترمیمی بل پیش کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ کراچی وفاق اور صوبہ دونوں کو آمدنی فراہم کرنے والا انجن ہے اس لئے وفاقی اور صوبائی حکومت کا فرض بنتا ہے کہ آمدنی فراہم کرنے والے اس انجن کو اچھی طرح سے ایندھن فراہم کریں۔ کراچی کو نظر انداز کرنا پاکستان کی معیشت کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔کراچی کیلئے وفاقی حکومت کے مالیاتی فنڈزاور ترقیاتی پروجیکٹ ، خاص طور پر گرین لائن بس ٹرانزٹ کے کام کی رفتار تکلیف دہ حد تک سست رفتار ہے جس کو ترجیحاََ تیزرفتاری سے مکمل کرنے ضرورت ہے۔ اسی طرح، کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) کووفاقی حکومت کی دلچسپی اور فراخدلی سے فنڈز کی فراہمی کے بغیر بحال نہیں کیا جا سکتاہے۔
میگا سٹی کراچی کے بڑے مسائل قلت آب ، گیس و بجلی کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ،سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں کی زبوں حالی، بے روزگاری اور پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی اورخستہ حالی ہے ۔دنیا بھر میںپبلک ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کی ذمہ داری ’’سٹی گورنمنٹ‘‘پر عائد ہوتی ہے مگر حکومت سندھ نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے بیشتر اختیارات صو بائی محکموں کو تفویض کردیئے ہیں جس کی وجہ سے کراچی کے شہری رُل گئے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کراچی میں آباد افراد کی تعدادڈھائی کروڑ سے زائد ہے۔ کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کم ازکم 5000 بڑی بسوں کا روڈ پر چلنا ضروری ہے جبکہ اس وقت کراچی کی سڑکوں پر چلنے والی ویگنوں ، کوچوں اور بسوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں ہے۔ بے شمار روٹس کی ویگنیں ، کوچیں اور بسیں بند ہوچکی ہیں جبکہ کالی اور پیلی ٹیکسیاںشہر میں خال خال ہی نظر آتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ ڈپارٹمنٹ ، گورنمنٹ آف سندھ کی ویب سائٹ کے مطابق صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 2046 منی بسوں،23742 ٹیکسیوں اور 859 بسوں کے روٹ پرمٹ جبکہ (ڈی آر ٹی اے) نے منی بسوں کے 5929 ، کوچوں کے 3367، بسوں کے 5297 اور ٹیکسیوں کے 24260 روٹ پرمٹ جاری کئے ہیں ۔جبکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برخلاف ہیں ۔ شہر کی تمام بڑی شاہراہوں پر نائن سیٹرز رکشے چل رہے ہیںجن کا بھتہ کہاں تک جاتا ہے؟ یہ ایک معمہ ہے۔ شہر میں 60 اور 70 کی دہائی بڑی بسیں، 70 کی دہائی کی ڈیزل مزدا ویگنیں جنہیں منی بسیں یا کوچ کہا جاتا ہے جو کہ اب سی این جی پر خطرناک طریقہ سے منتقل کردی گئی ہیں کیونکہ ان کے سی این جی سلنڈر فرش کے نیچے یا لیڈیز کمپارٹمنٹ میں فٹ کئے گئے ہیں۔ چند سال پہلے سٹی گورنمنٹ کے تحت چلنے والی ’’50عدد گرین بسوں‘‘ کو خدا جانے زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا!!۔ شہر میں چلنے والی ان چند درجن بسوں، ویگنوں اورکوچوں کی حالت یہ ہے کہ قلت ٹرانسپورٹ کی وجہ سے شہری مقرر کردہ کرایوںسے بھی زائد از اداکرکے پائیدانوں پر لٹک کر اور چھتوں پر بیٹھ کر سفر کرنے پر مجبور ہیں، اناڑی اور غیرتربیت یافتہ ڈرائیوروں کے ہاتھوںرفتار کی حد کو پامال کرنا معمول بن گیا ہے، جہاں ،جب اور جتنی دیر چاہا بس یا ویگن کھڑی کردیتے ہیں، انڈیکیٹر اور بریک لائٹ کا استعمال ترک ہوچکا ہے، ڈرائیور اور کنڈکٹر دونوں کیلئے ٹریفک پولیس سے تربیت اور لائسنس کی ضرورت ہے اور روٹ پرمٹ اور فٹنس سرٹیفیکٹ کا متبال دو سوروپے نذرانے کا مشاہدہ کراچی کی سڑکوں پر صج و شام کیا جاسکتا ہے۔
یہ کراچی کے گھمبیر مسائل میں سے ایک مسئلہ کی معمولی سی عکاسی ہے۔ کراچی میں پانی کی قلت اہم ترین مسئلہ ہے ۔ عوام کو لائنوں کے ذریعے صاف و شفاف پانی ملنا ان کا بنیادی حق ہے ۔ ٹینکر مافیا اور پانی کی غیرمنصفانہ تقسیم نے یہ مسائل پیدا کئے ہیں ۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ ،کے الیکٹرک کی ناانصافیاں،سوئی گیس کی قلت ،ناکافی اور تباہ حال ٹرانسپورٹ ،بہتے گٹر اور گندگی کے ڈھیر ،تعلیم وصحت کی سرکاری سہولتوں کی تباہ حالی ،چائنا کٹنگ ،عدالتوں میں انصاف ملنے میں تاخیر اور پولیس کی زیادتیوںجیسے مسائل کا واحد حل یہ ہے کہ کراچی اور لاہور کو میگا سٹی کا درجہ دیا جائے ۔کراچی کے عوام نے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی حکومتوں کے نتیجے میں بے انتہا دھوکے کھائے ہیں ۔عمران خان سے عوام کی امیدیں اب تک ٹوٹی نہیں ہیں۔ پی ٹی آئی کے وزراء کو اس کا ادراک کرنا چاہئے۔ مگر ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے، پارلیمنٹ ذاتی مفاد کے حصول کا ادارہ نہیں ہے۔ عوام کیلئے پارلیمنٹ میں سے اب تک کچھ بھی برآمد نہیں ہوا ہے۔ کیا کراچی کے ساتھ ایک مرتبہ پھر ناانصافی ہونے جارہی ہے ؟ پی ٹی آئی حکومت کو اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لئے کراچی کے مسائل پر ترجیحی بنیادوں پرفوقیت اور توجہ دینا ہوگی۔

نوٹ:نیوزنامہ پرشائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے،ادارے کا متفق ہوناضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.