تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے!!!

104

تحریر۔محسن علی ساجد۔۔
مشہورکہاوت ہے کہ ’’تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے‘‘ایک ہاتھ ہوا میں ہی لہرایاجاسکتا ہے بات تب بنتی ہے جب دونوں ہاتھوں کی تال سے تالی بجے۔جیسا کہ وطن عزیز پاکستان جس کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ ہمسائیوں سے تعلقات اچھے اور برادرانہ ہوں لیکن بات پھر وہی ہے کہ ایک ہاتھ سے نہیں تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ،پاکستان کے اس مثبت اقدام کو کبھی پاکستان کے روایتی دُشمن بھارت نے تسلیم نہیں کیا بلکہ مثبت جواب دینے کی بجائے ہمیشہ اُلٹ ہی جواب دیا،پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جب برسراقتدار آئی تو وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان نے قوم سے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اور اگر بھارت نے ایک قدم دوستی کا بڑھایا تو ہم دو قدم بڑھائیں گے ،وزیر اعظم عمران خان جو وطن عزیز کی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے اورپاکستان کو ایک عالمی کپ سے بھی نوازا کپتان جس بات کی ٹھان لیں اُس کی تکمیل کیلئے بھرپور لگن اور محنت کرتے ہیں۔ کرتارپورراہداری بلاشبہ پاکستان کا بھارت سے اچھے تعلقات کیلئے مثبت قدم ہے ،بھارتی سابق کرکٹر اور وزیر اعظم عمران خان کے دوست نوجوت سنگھ سدھو کی کاوشیں بھی اس حوالے سے قابل تحسین ہیںجنہوں نے وزیر اعظم کی حلف برداری کی تقریب کے بعد کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب میں نہ صرف شرکت کی بلکہ پاکستان کے اس اقدام کو خوب سراہا،اُن کے اس اقدام کی وجہ سے بھارتی میڈیا سمیت ہندوانتہا پسند تنظیموں نے خوب تنقید کی لیکن سُدھو جی بھی اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان اورسپہ سالار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت حکومت پاکستان کے راہداری اقدام کی بھرپور تعریف کی۔پاکستان کے اس مثبت اقدام نے دُنیا بھر کے سکھوں کے دِل جیت لئے،لیکن بھارتی حکومت کے موقف میں ذرہ بھر تبدیلی نہ آئی وہی بے بنیاد الزامات،ورکنگ بائونڈری کی خلاف ورزیاں،مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر ظلم وبربریت جاری ہے۔گزشتہ دنوں بھی دو نہتے کشمیری نوجوانوں کو بھارتی فورسز نے ظلم وبربریت کا نشانہ بناتے ہوئے شہید کردیا۔گزشتہ روز کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی جانب سے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوںنے جنوری 1989سے اب تک اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران 95ہزار238بے گناہ کشمیریوں کو اپنا پیدائشی حق، حق خود ارادیت مانگنے کی پاداش میں شہید کیا ،جن میں سے 7ہزار120کو دوران حراست شہیدکیا گیا۔رپورٹ کے مطابق قتل کے ان واقعات سے22ہزار894خواتین بیوہ اورایک لاکھ 7ہزار551بچے یتیم ہوگئے۔اس عرصے کے دوران فوجیوں نے 11ہزار107خواتین کی بے حرمتی جبکہ ایک لاکھ9ہزار191مکانوںاور دیگر املاک کو تباہ اوربھارتی پولیس ‘ فوجیوں نے کم سے کم 8ہزار کشمیریوں کو حراست کے دوران لاپتہ کیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارتی پولیس نے صرف رواں برس کے دوران پی ایچ ڈی سکالروں،انجینئروںاور حریت رہنمائوں بشمول پروفیسر ڈاکٹر رفیع بٹ، ڈاکٹرمنان بشیر وانی ، ڈاکٹر سبزار احمد صوفی، ڈاکٹر عبدالاحد گنائی ، ایم فل کے طالب علم اعتماد فیاض ، انجینئر نگ کے طلباء محمد عیسیٰ ، سید اویس شفیع شاہ ، آصف احمد ملک ، تحریک حریت کے رہنماء میر حفیظ اللہ، مسلم لیگ کے رہنماء طارق احمد گنائی ، حریت رہنمائوںمحمد یوسف راتھر المشہور یوسف ندیم اور تحریک حریت کے رہنماء حکیم الرحمن سلطانی سمیت 350سے زائد کشمیریوںکو شہید کیااور طلباء ، نوجوانوں، خواتین اورحریت رہنمائوں سمیت دو ہزار348کشمیریوں کو گرفتار کر کے جیلوں یا گھروں میں نظربند کردیا۔ اِن تمام مظالم کے باوجودکشمیریوں کے حوصلے پست نہیں اوروُہ اپنا حق خودارادیت لینے کیلئے مسلسل کوشاں ہیں،اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ بھارت کو نہ صرف کشمیریوں پر مظالم سے روکا جائے بلکہ کشمیریوں کو اُن کا پیدائشی حق حق خودارادیت دیاجائے،بھارت سے خود اُس کے اپنے لوگ کشمیر پر بھارتی قبضہ کو ناجائز قرار دے رہے ہیں اور مسئلہ کشمیر کا حل مذاکرات قراردے رہے ہیں ،گزشتہ روز بھارتی فوج کی پندرہویں کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل اے کے بھٹ کا ایک انٹرویومیں کہنا تھا کہ کشمیر کے پیچیدہ مسئلے کو اچھے نظم و نسق اورسیاسی مذاکرات سے حل کیا جاسکتا ہے جس طرح اٹل بہاری واجپائی کے دور میں شروع کیا گیا تھا،جنرل اے کے بھٹ نے کہاکہ فوج صرف معمول کے حالات بحال کرنے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرسکتی ہے اسکے بعداچھے نظم ونسق، لوگوں سے سیاسی مذاکرات جیسے اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واجپائی کے دور میںایسا ہی ہواتھا اور مجھے یقین ہے کہ موجودہ حکومت بھی صحیح وقت پر ایسے اقدامات کرے گی۔پاکستان نے ہمیشہ بھارت کیساتھ مقبوضہ کشمیر سمیت تمام مسائل کے حل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی پیشکش کی ،مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ کے حل کیلئے اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی فورم پر پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کے حل پر زوردیا،آج پوری دُنیا میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کیخلاف آوازیں بلند ہورہی ہیں اور وُہ وقت دور نہیں جب نہتے کشمیری بھارت سے اپنا حق خودارادیت حاصل کرنے میں کامیاب ہونگے،اس لیے اب بھارت کو بھی چاہیے کہ وہ پاکستان کے مثبت اقدام کا مثبت جواب دے کیونکہ مسائل کا حل مذاکرات میں ہی ہے ،بات وہی ہے کہ ’’تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے‘‘

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے ،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.