گمشدہ خزانے کی چابی

1,823

تحریر:آئمہ محمود۔۔۔
سنا تھا کہ عمر کے تجربات ، زندگی کے نشیب و فراز، خوشی کے قمقمے اور غم کے الائو انسان کو تدبر ، دور اندیشی اور زمانہ شناسی عطا کرتے ہیں۔لیکن 2018کا ختم ہوتا سال ہماری سنی سنائی باتوں کی مکمل نفی کر رہا ہے ۔ اب ہمارے موجودہ صاحب اقتدار ہی کو دیکھ لیں۔ کوئی مان سکتا ہے کہ بڑھتی عمر کا بزرگی یا دانشمندی سے کو ئی تعلق ہے؟ خیر وہ تو نوجوانوں کی رہنمائی کرتے ہیں لیکن عملی طور پر بچپنے کو ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے۔ یو ں تو جب سے انھیں مسند اقتدار پر بیٹھانے کی تیاریاں شروع ہوئیں تھیں تبھی سے ان کے گفتار و کردار کے حوالے سے کوئی خوش فہمی نہیں تھی لیکن جب سے نیا پاکستان قیام میں آیا ہے تب سے تو انکی اور انکی ٹیم کی So calledکا وشوں پر یا تو دیوانہ وار رویا جا سکتا ہے یا ہنسا جا سکتا ہے ٹھہراو ، calmnessکا کوئی راستہ نہیں رہا۔ ہم چونکہ سخت جان قوم ہیں لہذا آنکھوں میں آنسو بھر کے ہنسنے اور ہنسانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔جہانگیر ترین بمقابلہ آزاد امیدوار، پچپن روپے فی کلومیڑ اڑنے والا جہاز، آئی ایم ایف کے در پر حاضری ، ریاست سے نہ ٹکرانے کی دھمکی، لیڈر شپ اور یو ٹرن کا تعلق، 100دن اور ہم مصروف تھے کا اشتہار غرض کونسا مقام ایسا نہیں جہاں حکومت کے دئیے غم کو ہم نے قہقوں سے سہنے کی ڈھٹائی نہ دیکھائی ہو۔ لیکن پچھلے ہفتے تو حد ہی ہو گئی۔ ہم ہنسنے رونے سے آگے بڑھ کر سکتے کی حالت میں آگے۔Speechless
یوں لگا کہ بچپن کی کہانیوں کا ایک لافانی کردار مجسم خود بذریعہ ٹیلی ویژن سکرین ہمارے سامنے آکھڑا ہوا ہے۔اور من وعن ویسے ہی ہوائی قلعے بنا رہا ہے جیسا وہ سنکڑوں سال پہلے لوگوں کو ہنسانے کیلئے بناتا تھا ۔ اندیشہ ہوا کہ کوئی خواب ہے لیکن جب آس پاس اور لوگوں نے بھی اس منظر کا ذکر کیا تو پتہ چلا کہ خواب نہیں حقیقت ہے لیکن پھر دل کو سمجھایا کہ گھبراو نہیں بات تو وزن رکھتی ہے مائکرو اکنامک میں ایسے منصوبوں کی اہمیت کو نظر انداز نہیںکیا جا سکتا ذاتی اور کیمیونٹی سطح پر واضح حکمت عملی ، منصوبہ سازی، ضروری تربیت و وسائل کی فرہمی کے ساتھ مرغی فارم، بھیڑبکریوں کی گلہ بانی اور ڈیری کے پر وجیکٹس کے ذریعے معاشی کفالت ممکن ہے اور یہ نئی باتیں نہیں یہ سب تو ہم پرائمری کے مطالعہ پاکستان میں سالوں پہلے پڑھ چکے ہیں۔ بدقسمتی سے زراعت اور اس سے متعلقہ شعبوں کو ہماری کسی حکومت نے کبھی خاطر خواہ اہمیت نہیں دی۔ تا ہم یہی وجہ ہے کہ دیکھا دیکھی کئی کیمیونٹی لیول کی غیر سرکاری تنظیموں نے اس طرح کے پر و جیکٹس اندرونی اور بیرونی امداد سے شروع کئے لیکن موثر تربیت ، مارکیٹ کے بارے میں معلومات اورSincerityنہ ہونے کی وجہ سے کوئی دیرپا impact ڈالے بنا ختم ہو گئے۔ اب ایک با ر پھر سے ہمارے نئے پاکستان کے نئے وزیر اعظم نے ( جن کو انکی اہلیہ بقول ان کے remindکرواتی ہیں کہ وہ وزیر اعظم ہیں)انتہائی سنجیدہ پوائنٹ کو بے انتہا غیر سنجیدہ سے ایسے عوام کے سامنے رکھا ہے کہ ہمارے علاوہ بہتوں کی ہنسی نکل گئی۔ دیسی مرغیوں ، انکے انڈوں اور پھر بچوںجن کو چوزہ کہتے ہیں اور بھینس کے بچے جسکو کٹا کہتے ہیں کے ذریعے معاشی ترقی حاصل کر نے والے وزیر اعطم بھول گئے کہ کچھ عر صہ پہلے وہ خود اس راستے پر چل کر معاشی لحاظ سے ملک کو کہیں کا کہیں لے جا سکتے تھے اگر وہ پرائم منسٹر ہاوس کی بھینسیں فروخت نہ کر دیتے۔ تاہم دیر آید درست آید
وزیر اعظم کے مطابق کٹے کو بچا کر ، دیسی مرغیوں کی افزائش کر کے عظیم کاروبار کی بنیاد رکھ سکتے ہیں تو یہ کوئی ناممکن بات نہیں۔ جب چندے سے ڈیم بن سکتا ہے ، ڈالر کو آسمان پر پہنچا کر بھی بے فکر رہا جاسکتا ہے تو دیسی مرغیوں اور بھینس کے بچوں پر معمولی سرمایہ کاری کر کے معاشی ترقی کی منزل حاصل کرنے کا خواب دیکھنے پر اعتراض کرنے والے ہم کون ہوتے ہیں؟
ہمیں یہاں اعتراف کرنے میں کوئی تامل نہیں کہ ہم ابھی تک وزیر اعظم صاحب کی کرامات سے صحیح طرح سے واقف نہیں تھے لیکن جب سے ہم نے بذریعہ مرغبانی معاشی منزل حاصل کرنے کی تجویز کو سنا ہے تب سے ہمیں خاتون اول کی اس بات پر یقین ہونے لگا ہے کہ ہم پاکستانیوں کو اپنی خوش قسمتی پر شکر گزار ہونے کی ضرورت ہے کہ ملک کی باگ دوڑ اس شخصیت کے ہاتھ میں ہے جس کی دسترس ان طاقتوں پر بھی ہے جس سے سابقہ حکمران مکمل طور پر محروم تھے مثلا غیبی ، ہوائی مخلوق،فرشتے ، جنات وغیرہ وغیرہ ۔ہمیں تو لگتا ہے کہ جب وزیر اعظم صاحب تقریر فرماتے ہیں یہ سب طاقتیں انکے کا ن میں اچھے دنوں کے آنے کی سر گوشیاں شروع کر دیتی ہیں ان سرگوشیوں کے ساتھ جب وزیر اعظم بولتے ہیں تو آدھی بات دائیں کان کی سرگوشی سن کر کرتے ہیں اور ٓادھی بائیں کان کی سرگوشی سن کر کرتے ہیں اور ہم جیسے دنیا دار لوگوں کو وہ بے ربط اور بے معنی لگتی ہیں۔ اسمیں اگر کسی کی کوتا ہی ہے تو سراسر ہماری ہی ہے خصو صا ہمارے جیسے نام نہاد لبرل اور ترقی پسند عناصر کہاں الہامی گفت وشنید کو سمجھنے کی اسطاعت رکھتے ہیں؟ اپنی کم آگاہی کو منتوں مرادوں سے مانگے ہوئے وزیر اعظم پر تنقید کر کے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لہذا آج ہمیں یہaccept کرنے میں کوئی جھجک نہیں کہ عمر کے تجربات ، زندگی کے نشیب و فراز ، خوشی کے قمقموں اور غم کے الائو سے نکل کر عظیم انسان عظیم تر ین بلکہ درویش ہو جاتا ہے اسکی رمزیں ہما شما کی سمجھ سے باہر ہو جاتی ہیں۔معمولی لوگ محض میمیز بنا کر ٹھٹھامخول کرنے کے علاوہ کیا کر سکتے ہیں۔ کرتے رہیں ۔درویش ان باتوں سے اوپر اٹھ چکا ہے وہ وہ دیکھ رہا ہے جو ہم جیسے فانی متحمل نہیں دیکھنے کے۔

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے ،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.