اورسرائیکی صوبہ بن گیا

133

تحریر:علی جان۔۔۔۔
نہ تروڑ بہاولپورساڈا … روہی تھل دامان کِنوں
جے دھرتی داغدارنوہی تاں بول سرائیکستان کیتے
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو 100دن مکمل ہونے میں چندروز باقی ہیں مگرحکومت نے مسائل کے حل کیلئے ٹاسک فورس اورکمیٹیاں توبنادی ہیں مگران ٹاسک فورسز اورکمیٹیوں کی کارکردگی کانتیجہ مستقبل قریب میں نظرآناشروع ہوجائے گاپاکستان تحریک انصاف کو پنجاب میں ٹف ٹائم دینے کیلئے مسلم لیگ ن اورتحریک لبیک پاکستان کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جبکہ پنجاب میں دوست کے لبادے میں چھپے دشمن بھی پاکستان تحریک انصاف کوناکام بنانے کیلئے سازشوں میں مصروف ہیں روز نت نائے جال بچھاکرپاکستان تحریک انصاف کو بلیک میل کیاجارہا ہے تاکہ حکومت اتحادیوں کے پاس رہیں حالیہ دنوں پاکستان مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنماطارق بشیرچیمہ کابہاولپورکوسرائیکی صوبہ کاحصہ نہ بنانے کااعلان اسی سلسلے کی ایک کڑی نظرآتی ہے جبکہ اس سے جاویدہاشمی، قبل محمدعلی درانی بھی سرائیکی صوبہ تحریک کو کمزورکرنے کیلئے خٖفیہ سازشوں کاحصہ بنے رہے جنہیں سرائیکی وسیب سے منافقت کی بدولت اس علاقہ کی عوام نے گمنامی کے گہرے سمندرمیں دھکیل دیااب موصوف سیاسی منظرنامہ سے مستقل طورپرآؤٹ ہوچکے ہیں اورمستقبل میں بھی ان کے اقتدارمیں آنے کے چانس دوردورتک نظرنہیں آتے طارق بشیرچیمہ نے بھی اگریہی وطیرہ اختیارکیاتوانہیں بھی سرائیکی وسیب کی عوام قبول نہیں کرے گی حالانکہ اس سے قبل ماضی قریب میں یہی پاکستان مسلم لیگ ق سرائیکی وسیب میں علیحدہ صوبہ کے قیام کیلئے بھرپورتحریک چلا چکی ہے اورآج سرائیکی وسیب کو نقصان پہنچانے کیلئے ان کایوٹرن مسلم لیگ ق کی سیاست کیلئے انتہائی ہانی کارک عمل ثابت ہوگا۔
اسی طرح مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنماطارق بشیرچیمہ کایہ متنازعہ بیان پاکستان تحریک انصاف کوبھی نقصان پہنچائے گااگرحکومت نے سرائیکی صوبہ کے قیام کیلئے سنجیدہ اقدامات نہ کیے توطارق بشیرکاحالیہ بیان حکومت کاموقف سمجھاجائے گاحالانکہ بہاولپورسرائیکی صوبہ کااٹوٹ انگ سمجھاجاتا ہے اوربہاولپورسرائیکی وسیب کا ہی حصہ ہے طارق بشیرچیمہ جوکہ وفاقی وزیرہاؤسنگ بھی ہیں کے اس بیان سے سرائیکی وسیب میں بے چینی اورشدیداضطراب پایاجاتا ہے جس کی وجہ سے سوشل میڈیا اورپرنٹ میڈیا پرطوفان برپا ہے کئی سرائیکی جیالوں نے توطارق بشیرچیمہ کے پتلے تک جلائے اور میں اپنے ہرسرائیکی آرٹیکل کی طرح اس میں بھی حکومت کویاددلاتاچلوں کہ 100دن پورے ہونے کے بعدسرائیکی جماعتوں کی جانب سے شدیداحتجاج کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں اورطارق بشیرچیمہ کے حالیہ بیان کی ذمہ دارتحریک انصاف اورق لیگ کو سمجھا جارہا ہے کیونکہ موصوف کے بھائی طاہربشیرچیمہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے جنرل سیکرٹری ہیں اوراب وزارتیں ملنے کے بعدجنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے اراکین بشمول خسروبختیارصوبہ کے قیام کے حوالے سے جب بات ہوتوتمام ممبران کنی کتراتے نظرآتے ہین جس سے یہ تاثرسرائیکی وسیب میں ابھررہا ہے کہ شایدان صاحبان کوصرف اقتدارسے غرض تھی اوریہ سرائیکی صوبہ کے قیام کے حوالے سے مخلص نہ تھے سرائیکی صوبہ کے قیام کیلئے حکومت کی طرف سے غیرسنجیدہ کوششوں پرچندروز بعدملک بھرمیں کراچی،لاہور،اسلام آباد،بہاولپور،ملتان سمیت سرائیکی وسیب میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہونگے اور100روز کے دوران سرائیکی قوم پرست جماعتوں کے رہنماؤں نے بھرپورسرائیکی صوبہ یاددہانی مہم چلائی جس میں سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین رانافرازنون،عنایت اللہ مشرقی،عبدالباری جعفری،ڈاکٹرعاشق ظفربھٹی،اعظم پتافی،خواجہ شعیب الحسن،ودیگرنے شاہ محمود قریشی،عامرڈوگر،زرتاج گل،راناقاسم نون،عاشق خان گوپانگ سمیت اراکین اسمبلی و وزرا سے ملاقاتیں کرکے صوبہ کی یاددہانی کرائی اس طرح سوجھل دھرتی واس کے صدرشاہ نواز مشوری،عثمان کریم بھٹہ،نے بھی حسین بہادردریشک سمیت دیگرسے ملاقات کرکے وعدہ وفاکرنے کوکہاپاکستان سرائیکی پارٹی نے ملتان میں احتجاجی کیمپ لگایاہواہے سرائیکی لوگ سانجھ نے اسلام آبادمیں سیمینارکاانعقاد کیا غرض یہ کہ ہرسطح پروررکرز کوبھی احتجاج کیلئے تیارکیاجارہا ہے اورحکومت کوبھی اپناوعدہ یاددلایاگیامگراب جب کہ 100دن قریب ہیں توطارق بشیرچیمہ کااچانک متنازعہ بیان آچکاہے جس سے احتجاج میں شدت آئے گی اس متنازعہ بیان پرسرائیکی قوم پرست جماعتوں کے رہنماؤں جن میں سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین رانافرازنون نے کہا کہ طارق بشیرچیمہ سرائیکی وسیب سے غداری کے مرتکب ہوئے ہیں پی ٹی آئی سے الحاق کرتے وقت عوام سے وعدہ کیاتھاکہ بہاولپورسرائیکی صوبہ کاحصہ ہوگامگراب باپ کے نقش قدم پرچلتے ہوئے اوراپنی مخصوص اجارہ داری قائم رکھنے کیلئے اب صوبہ بہاولپورکی بات کررہے ہیں پاکستان تحریک انصاف اس بیان کی معافی مانگے نہیں تواحتجاج کا دائرہ وسیع کردیا جائے گایادرہے گزشتہ ہفتہ رانافراز نون نے وفاقی وزیرزرتاج گل سے ملاقات کی انہیں سرائیکی اجرک کا تحفہ ساتھ ہی مجوزصوبہ ہ سرائیکستان کانقشہ بھی دیااس ملاقات میں زرتاج گل نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ایوان اعلیٰ میں سرائیکی عوام کی آواز پہنچائیں گی۔عنایت اللہ مشرقی نے کہاکہ بہاولپورکی سیاسی وسماجی شخصیات بہاولپورصوبہ کے نعرہ کوصرف متنازعہ بنانا مسلم لیگ ق کا سیاسی ایجنڈہ قراردے چکے ہیں ۔ڈاکٹرعاشق ظفربھٹی نے کہا کہ طارق بشیرچیمہ کے اس متنازعہ بیان کے بعدچیمہ برادران کی صوبہ کمیٹی کے حوالے سے ان کی رکنیت اورسربراہی متنازعہ ہوچکی ہے اس لیے ہماراخان صاحب سے مطالبہ ہے کہ چیمہ بردران کی رکنیت معطل کی جائے ۔عبدالباری جعفری نے کہا کہ ہمارامقصدحصول سرائیکی صوبہ ہے اورمیں چیمہ اوراسکے حواریوں کوباورکراتاچلوں کہ اب سرائیکی ماں دھرتی کے خیرخواہ اورمخلص لوگ جاگ چکے ہیں اوروہ ہریزیدہرمیرصادق میرجعفرکامقابلہ کرنے وکتیارہیں اورانشاء اللہ ہم پنا حق حاصل کرکے رہیں گے۔سوجھل دھرتی واس کے صدر شاہنواز مشوری نے کہا تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ سرسبزوشاداب اوروسائل سے مالامال علاقہ کو غلام بنانے کے لیے دلال اورایجنٹ پیداکیے جاتے ہیں سرائیکی وسیب سرسبزسونااگلتی کپاس والی زمین ، معدنیات مالا مال،پہاڑ،قدرتی پہاڑی نہریں،سندھ جیسے دیوتادریاپرمشتمل ہے اس دھرتی کوکون نہیں چاہے گا کہ غلام بنایا جائے سو اس پررنجیت سنگھ ہویاافغانی انگریزیاتخت لہور ہرایک نے ہمیشہ لالچ کے پنجے گاڑے رکھے انہوں نے ہمیشہ مقامی دلال کے ذریعے حکومت کی ان کی شکل کبھی درانی اورطارق چیمہ جیسے آبادکاریوں کی شکل میں توکبھی جاویدہاشمی اورخسروبختیارجیسے مخدوموں اورپیروں کی شکل میں خون چوسنے والے درندے ملے۔عثمان کریم بھٹہ نے کہا کہ ہماری منزل صوبہ سرائیکستان ہے لیکن ہم تخت لہور کی ہرقسم کی تقسیم کوویلکم کہتے ہیں ۔ سرائیکستان گرینڈ الائنس کے رہنماؤں نے کہا کہ درانی،ہاشمی اورچیمے جیسے لوگوں پرہم نے کبھی بھروسہ نہیں کیا صرف پی ٹی آئی کوووٹ دیا تاکہ اس کے وعدے کوبھی دیکھ لیں باقی ہم نے اپنی جنگ بے سروسامانی پہلے بھی لڑی تھی اوراب بھی لڑیں گے پہلے ادوارمیں ہاشمی درانی جیسے غداراورداغی اپنے انجام کوپہنچے ہیں ویسے ہی خسرواورچیمہ جیسے لوگ اپنی موت آپ مرجائیں گے ہمیں ریاست پرپریشربڑھانا ہوگا۔راشدہ بھٹہ عام آدمی تحریک نے کہا کہ ہم طارق چیمہ کے بیان کی شدیدمذمت کرتے ہیں چاہے وہ کوئی بھی زبان بولتاہواورشہرمیں جابیٹھنے سے وہ اس بات سے انکارنہیں کرسکتا کہ اس نے سرائیکی دھرتی کی کوکھ سے جنم لیا ہے ق لیگ اورپی ٹی آئی اس بیان کی معافی مانگیں ورنہ جوہوگااس کے وہ خود ذمہ دارہوں گے۔ایس ڈی پی جتوئی اور سرائیکی رہنماؤں اجمل ملک گنواں،عمران مشتاق سعیدی،نازک خان،زاہدشفیع مہروی،عدنان فداسعیدی نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ منافقین ہردورمیں رہے ہیں اورمسلمانوں کونقصان غیرسے زیادہ اپنوں نے پہنچایا ہے وہ کالی بھیڑیں اس وقت بھی سرگرم تھیں جب صوفیاکرام تبلیغ کرتے تھے تویہ منافقین صوفیاکرام کومرواکے انگریزوں اورغیرمسلموں سے آشیربادحاصل کرتے تھے یہ میرصادق پاکستان بننے کے بعداتنے ہی سرگرم ہیں اورمصالحت خوش حالی اورترقی سے جلتے ہیں بڑی مشکلوں کے بعدحکومت یہ کوشش کررہی ہے کہ سرائیکی عوام کیلئے الگ صوبہ بنایا جائے مگرطارق چیمہ اپنی ماں دھرتی سے منافقت کرتے وہئے وہی اپنے آباؤاجداد والاکرداراداکررہا ہے تاکہ ایسے بیانات کے بعدمعاملہ تنازعات کاشکارہوجائے اورحکومت کوموقع مل جائے کہ اس معاملے کو موخرکردیں مگرہم چیمہ اواسکے حواریوں کوباورکرارہے ہیں کہ اب سرائیکی ماں دھرتی کے خیرخواہ جاگ چکے ہیں اورہریزید،میرصادق اورمیرجعفرکامقابلہ کرنے کوتیارہیں ۔آخرمیں اتنا کہناچاہوں گا کہ عمران خان کوسمجھنا چاہیے کہ اتحادیوں کوکیسے کنٹرول کیاجائے اورطارق چیمہ جیسے لوگوں کے متنازعہ بیان کا نوٹس لینا ہوگاورنہ سرائیکی وسیب میں جوحشرن لیگ کا ہواہے پاکستان تحریک انصاف کا اس سے بھی بدترہوسکتا ہے۔

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے ،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

1 تبصرہ
  1. کامران کہتے ہیں

    علی جان سرائیکی وسیب کے مقبول لکھاریوں میں سے ایک ہیں اور انکی ہر تحریر سرائیکی وسیب کی محرومیوں اور مسائل کے حل کی جانب توجہ مبذول کراتی ہے اگر یہی کوششیں جاری رہیں اور نوجوانوں میں شعور اسی طرح بیدار ہوتا رہا تو بہت جلد سرائیکی صوبہ کا قیام ممکن ہو جائیگا ویلڈن علی جان شکریہ نیوز نامہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.