بگولوں کا رقص

3,742

تحریر:آئمہ محمود۔۔۔
خبر کیا ہے ؟ اس سوال کے کئی جواب ہو سکتے ہیں مثلا ہر وہ بات جس سے لوگ پہلی بار آگاہ ہوں ، وہ حالات جن سے وہ با خبر ہونا چاہتے ہوں یا بر وقت حاصل ہونے والی معلومات خبر ہو سکتی ہیں لیکن آج کے دور میں خبر کی وضاحت کرنا کافی پیچیدہ معاملہ ہے۔ اب خبر صرف اعدادوشمار یا انفارمیشن کا نام نہیں بلکہ جذبات ، ایکشن ،اور ٹریجڈی پر مبنی پورا ڈرامہ ہے آج خبریں ہمارے رہن سہن ، تعلیم ، کام کرنے کے طریقے ، رویے ،خیالات اور سوچ کو تشکیل دے رہی ہیں ۔ موسم ،سٹاک مارکیٹ کا اتار چڑھاو، انٹرٹینمنٹ کی گپ شپ، بزنس، سیاست، سیاستدانوں اور پوری دنیا کے حالات واقعات سے آگاہی کا انحصار میڈیا رپورٹس پر ہوتا ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کے لیے ہم میڈیا اور Newsپر depenedنہیں کر رہے۔ ایسے حالات کم و بیش ہر دور میں رہے ہیں لیکن سوشل میڈیا کے موجودہ دور میں اسمیں نئی انتہائیں دیکھنے میں آرہی ہیں۔ ایک انتہا جعلی خبروں کی ہے۔ امریکی الیکشن کے دوران اپنی انتخابی مہم میں مسڑ ٹرمپ نے کئی بار میڈیا اور جعلی خبروں پر غصے اور ناراضگی کا اظہار کیا۔ بعض ریاستوں میں کم ووٹوں کی ذمہ داری بھی فیک نیوز پر ڈالی گئی۔ گوگل ، فیس بک، ٹویئٹر اور دیگر applicationsکو جعلی خبروں کی تشہیر کیلئے ذمہ دار بھی ٹھہرایا گیا۔ بس اس کے بعد سے ہر طرف فیک نیوز ، فیک نیوز ہو گیا۔ جعلی خبر سے مراد عموما وہ غلط معلومات ہوتی ہیں جنھیں انٹر نیٹ اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے پھیلا کر سیاسی ، سماجی ، معاشی اور مذہبی حالات و واقعات پر اثرانداز ہوا جاتا ہے۔
قوم پرستی ، مذہبی عقائد، سیاسی و نظریاتی وابستگیاں جعلی خبریں پھیلانے میں معاون ہوتے ہیں ۔ ایسی خبروں کوشئیر کر نے میں جذباتی پہلووں کا اہم کردار ہوتا ہے اور حقائق کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سیرتِ طیبہ کاایک ورق

انڈیا میں اس بارے میں ایک تحقیقی رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جعلی خبروں کو پھیلانے میں دائیں بازو کے نیٹ ورک بائیں بازو سے کہیں زیادہ منظم اور متحرک ہیں۔ انڈیا کی ترقی ، ہندو قوت و وقار کی بحالی کے متعلق پیغامات بڑے پیمانے پر بنا جا نچ پڑتال کے شئیر کیے جاتے ہیں۔ گذشتہ سال وٹس ایپ پر افواہوں کے نتیجے میں 32افراد ہلاک کردئیے گئے۔ ہندوستان میں جعلی خبروں کے ذریعے شہروں ، علاقوں بلکہ پورے ملک کی تاریخ کو ایسے الٹ پلٹ کیا جارہا ہے کہ کچھ عر صے بعد ہمیں وہاں ایسا کو ئی شہر نہیں ملے گا جس کے بارے میں ہم نے تا ریخی کتابوں میں پڑھا ہے ۔ کیونکہ شہروں کے مسلم نام بدلنے کی جو مہم شروع کی گئی تھی ان میں آلہ آباد اور فیض آباد شامل ہو گئے ہیں۔ آگرہ ، لکھنو، علی گڑھ اور احمد آباد سے جلد ہی انکی شناخت چھینی جانے والی ہے۔ہندوستان میں کون کون حکمران رہے اور کسطرح کے رہے ؟ یہ ہسٹری فیک خبروں کی نظر ہوتی جارہی ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان میں بھی حالات اس سے زیادہ مختلف نہیں ہیں یہ ہمیشہ سے جعلی تاریخ ، جعلی خبروں اور جعلی وعدوں کیلئے زرخیز زمین رہا ہے۔ پچھلے دنوں آسیہ بی بی کی بریت، رہائی ، ملک سے روانگی سے متعلق جو خبریں میڈیا میں زیر گردش رہیں ان میں سب کچھ تھا لیکن حقیقت نہ تھی ۔ جو جس کی سمجھ میں آیا وہی اس کے لیے حقیقت بن گئی۔ سوشل میڈیا پر افواہوں کی بدولت یہاں بھی کئی افراد کو زندگی سے محروم کر دیا گیا۔ تاہم فیک نیوز صرف آج کا Phenomena نہیں ہے اس کی جڑیں انسانی تاریخ کی طرح
ہزاروں سال تک پھیلی ہوئی ہیں تاہم ڈیجیٹل انفارمیشن کی دنیا میں آنے والے موجودہ سیلاب نے صورتحال بہت خراب کر دی ہے۔ آج کسی بھی غلط خبر یا افواہ کو جنگل میں لگی آگ کی طرح پھیلانے میں چند سکینڈ سے زیادہ نہیں لگتے ۔ اب تو اس بات کو پلے باندھ لیا گیا ہے کہ جھوٹ اتنا بولو کہ سچ ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹ جائے۔ ہماری سیاسی قیادت اور سوشل میڈیا نے اس بات کو ایسے گرہ میں باندہ لیا ہے کہ سچ جھوٹ کے درمیان فرق بالکل ختم ہو کر رہ گیا ہے۔فیک نیوز کی یہ تھیوری اب خبروں سے آگے بڑھ کر فیک سسٹم، فیک لیڈرز ، فیک چینج اور Fake Accountability تک پھیل چکی ہے ۔ اب ایسے سیاسی نظاموں کو لیں جو ٹرمپ جیسے فرد کو ایک طاقت ور ملک کا سربراہ بنا دیں تو ایسے نظام کو کیا کہیں گے؟ اگر یہ جمہوریت ہے تو اس کے جعلی ہونے کا مکمل اندیشہ ہے۔ اربوں کے وسائل ،ہیرا پھیری اور خلائی مخلوق جب لوگوں کو اقتدار کی کرسیوں پر براجمان کرئے تو کیا یہ نظام حقیقی ہو سکتا ہے ؟ جنون اور پاگل پن کو تدبیر، فراست اور دوراندیشی پر فوقیت دینے والے فیک نہیں تو اور کیا ہیں۔ یہ سلسلہ کب اور کس نے شروع کیا؟ اس کے جواب میں بھی فیک انفارمیشن ہی ہاتھ آئیں گی۔ ہمارے ہاں منتوں مرادوں سے آئی تبدیلی کے تانے بانے بھی اس جعلی پنے سے ملے ہوئے نظر آتے ہیں۔ امریکہ بہادر نے سوشل میڈیا کے باس حضرات پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ وہ اپنی اپنی Applications پر جعلی خبروں کو Detect کرنے کے فیچرز متعارف کروائیں بلکہ کسی بھی جعلی خبر کو ٹوئیٹر، فیس بک ، گوگل یا وٹس ایپ پر جگہ ہی نہیں ملنی چاہیے۔ ہے نا دلچسپ بات!!
مرض دینے والوں سے ہی درماں تلاش کرنے کو کہا گیا ہے۔ جعلی خبریں نہ ہوں گی تو کئی سربراہان مملکت اقتدار میں نہیں رہیں گے۔وہ 56انچ کا سینہ رکھنے والے ہمسایہ ملک کے وزیر اعظم ہوں ، امریکہ کو پھر سے عظیم بنانے کا جھانسہ دینے والے ٹرمپ ہوں یا سادہ مزاج ، عبادت گذار، سردیوں کے کپڑوں سے گرمیاں گذارنے والے ہمارے لیڈر صاحب۔ جعلسازی کی اس سازش میں لوگوں کا نقصان تو ہے ہی اور ہمیشہ سے رہا ہے لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ Tornado ان کو بھی نہیں بخشے گا جو ابھی اس کی Whirlسے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور ان کے پاس تو کھونے کو بھی بے شمار ہے۔

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے ،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.