اِس قوم کا اقبال کہاں گیا؟

225

تحریر:علی ارسلان۔۔۔
۹ نومبر آیا اِقبال کے شاہینوں نے اِقبال کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے یومِ اقبال کے حوالے سے تقاریب منعقد کیں۔اِقبال کے کہے اشعار پڑھ کر سُنائے گئے الغرض ہر خاص و عام کی زبان پہ اقبال کا نام سُنا حتٰی کہ مجھے سوشل میڈیا پر بھی ہر طرف اقبال کی تصاویر اور اُنکے اشعار نظر آئے۔ان سب چیزوں کو دیکھ کر خوشی بھی ہوئی اور انتہائی بھی ہوا۔خوشی اِس بات کی کے چلو ابھی تک ہم اقبال کا نام نہیں بھولے ہمیں اقبال یاد تو ہے وہ ایک علحیدہ بات ہے کہ صرف نام کی حد تک۔مجھے دُکھ اس بات کا ہوا کہ ہم نے لفظوں کی لذت کیلئے اقبال کے اشعار تو یاد کر لیے مگر افسوس کہ اُن اشعار میں موجود اقبال کے پیغام کو سمجھ سکے۔اقبال جنھیں دنیا شاعرِمشرق کے نام سے یاد کرتی ہے اُنھیں مشرق والوں نے صرف اقبال ڈے منانے کی حد تک یاد کر رکھا ہے۔
اقبال نے تو برِصغیر میں بسنے والے مسلمانوں کیلئے ایک مُلک کا خواب دیکھا تھا۔ایک ایسا مُلک جس میں اتحاد و اتفاق کا سبق پڑھایا جانا تھا ایسا مُلک جس میں غریب کو غریب نہیں بلکہ اِنسان سمجھا جانا تھا۔ایسا مُلک کہ جس میں انصاف کے حصول کیلئے کئی نسلوں تک انتظار نہ کرنا پڑنا تھا۔وہ مُلک تو بن گیا مگر افسوس کہ اُس مُلک کے عوام کا اقبال گُم ہو گیا۔افسوس کہ اُس مُلک کہ بارے میں اقبال کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔افسوس کہ ہم نے اقبال کو تو یاد رکھ لیا مگر اُن کا پیغام بھول گئے ہم بُھول گئے کہ اقبال کی شاعری میں ہمارے غفلت کی نیند سے جاگنے کا سماں ہے۔اور آج اِس مُلک کی حالت کو دیکھ کر ذہن میں یہ سوال تو ضرور کروٹیں لیتا ہے کہ:کیا یہ ہے وہ مُلک جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا؟
اِس مُلک کا خواب جس میں تھری پیس سوٹ پہنے انسان کی تو عزت ہوتی ہے مگر کسی مفلس اور لاچار کی نہیں۔اِس مُلک کا خواب جس مُلک کے بچے تعلیم نہیں بلکہ کسی تعلیمی درسگاہ کے باہر افسروں کی جوتیاں پالش کرکے دو وقت کی روٹی کا سامان کرتے ہیں۔اِس مُلک کا خواب جس میں لوگوں کو رہنے کیلئے چھت میسر نہیں اور اُنھیں مجبوراً کسی فٹ پاتھ پر کُھلے آسمان تلے اینٹ کو تکیہ مان کر سونا پڑتا ہو۔اِس مُلک کا خواب جس کے لوگوں کو کسی کہ منہ میں نوالہ ڈالنا نہیں بلکہ دوسرے کے منہ سے چھین کر خود کا پیٹ بھرنا آتا ہو۔اِس مُلک کا خواب جس کے حکمران ہر سال آئی۔ایم۔ایف کے قدم چُوم کر قرضہ لیتے اور نہ صرف اِس مُلک کہ اثاثے بلکہ اِس قوم کی عزتِ نفس بھی گِروی رکھواتے ہوں۔اِس مُلک کا خواب جس کے لوگوں میں اتحاد و اتفاق نام کی کوئی شے نہیں یہ لوگ ایک دوسرے کا بازو بننے کی بجائے ایک دوسرے کے بازُو کاٹ رہے ہیں۔اِس مُلک کا خواب جس کے عوام کی نہ تو جان محفوظ ہے اور نہ ہی عزت۔اِس مُلک کا خواب جس کی بھوکی عوام سسکیاں لے لے کر مر رہی ہے اور اِس مُلک کی معیشت کا یہ حال ہے کہ اُس کا شمار دنیا کی تباہ شدہ معیشتوں میں ہوتا ہو۔اِن تمام چیزوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے دل بے ساختہ چیخ اُٹھتا ہے کہ کاش ہم نے اقبال کے نام کے ساتھ ساتھ اُس کے پیغام کو بھی یاد رکھا ہوتا۔کاش کہ ہم نے اِس بات کو یاد رکھا ہوتا کہ یہ مُلک وراثت میں ملنے والی جاگیر نہیں بلکہ ان گِنت کٹے سروں اور خون کے بہتے دریاؤں کا صلہ ہے۔
ہمیں آج بھی اپنے بزرگوں کے کہے پر عمل کرنے کی ضرورت ہے ہمیں اُس نظریے کو سمجھنے کی ضرورت ہے جس کی بنیاد پر ہمارے لیے ایک الگ ریاست کا خواب دیکھا گیا تھا۔ہمیں آپس کی نفرتوں کو محبتوں میں بدلنے کی ضرورت ہے۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ اِس دنیا میں ہمارا نام باقی رہ جائے تو ہمیں اپنا اقبال بلند کرنا ہوگا۔ ہمیں سوچنا ہو گا۔

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے ،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.