دوست اوراس کے حقوق

135

تحریر:مولاناعابدبلوچ۔۔
لفظ دوست زباں پرآتے ہی ذہن میں ایک باوفا، بے لوث اور پُرخلوص انسان کاخاکہ سا ابھرتاہے۔یہ پُرخلوص انسان معاشرے میں دوست کے رشتے کی مناسبت سے جاناجاتاہے، اسے ہمرازبھی کہاجاتاہے۔اصل دوست تووہی ہوتاہے جومشکل میں کام آئے اورہمیشہ اچھائی کی تلقین کرے۔بعض لوگ دوستی کے لبادے میں دشمنوں سے بھی بدترکرداراداکرتے ہیں اوراپنے دوست کوراہ راست سے بھٹکاکراللہ تعالیٰ کاباغی بنادیتے ہیں ، یوں برے دوستوں کی صحبت کی وجہ سے انسان جنت کاراستہ کھودیتاہے ۔قیامت کے روز بُرے دوستوں کاڈساہواانسان کف افسوس ملتے ہوئے کہے گاکہ: اے کاش میں نے فلاں کواپنادوست نہ بنایاہوتا، لیکن اس وقت یہ افسوس وپشیمانی اورندامت کے آنسوکسی کام نہ آئیں گے۔اسی لیے توآپ ﷺ نے ایک مسلمان کوخبردارکرتے ہوئے فرمایاکہ :دوست بنانے والااپنے دوست کے دین پرہوتاہے ، اس لیے تم دوست بناتے ہوئے جانچ لوکہ تم کسے دوست بنارہے ہو۔
مسلمان برے دوستوں سے بچتے ہوئے اللہ کے نیک اورصالح بندوں سے محبت اوردوستی کرتاہے۔وہ سب لوگ جواللہ اوراس کے رسول ﷺ کے باغی اورفاسق ہیں،وہ ان سے بغض رکھتاہے۔ گویااللہ اوراس کے رسول ﷺ کی محبت اس کی محبت ہے اوراللہ ورسول ﷺ کی دشمنی اس کی دشمنی ہے۔رسول اللہ ﷺ کاارشادعالی ہے :جوشخص اللہ کے لیے محبت وبغض رکھے اوراللہ ہی کے لیے کوئی چیزدے اورروکے، تواس نے اپناایمان مکمل کرلیا۔(سنن ابی داؤد) اچھے لوگوں سے میل جول رکھنااوردوستی کاہاتھ بڑھاناایک پکے مومن کی شان ہے ،جیساکہ حضورﷺ نے فرمایا:مومن دوستی لگاتاہے اوراس سے دوستی کی جاتی ہے(اور)اس شخص میں کوئی خیرنہیں ہے جونہ توکسی سے مانوس ہوتاہے اورنہ ہی اس سے کوئی مانوس ہوتاہے۔(مسنداحمد)اچھے دوست بنانے والوں کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے عظیم خوشخبری سنائی ہے کہ:عرش کے اردگردنورکے منبرہیں ، ان پرنورانی لباس اورنورانی چہروں والے لوگ ہوں گے، وہ انبیاء وشہداء تونہیں مگرانبیاء وشہداء ان پررشک کریں گے۔صحابہ کرام ؓ نے عرض کی ’’اے اللہ کے رسول ﷺ ! ہمیں بھی ان کی صفات بیان کیجئے ‘‘۔آپ ﷺ نے فرمایا:یہ لوگ اللہ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے ، ایک دوسرے کے پاس بیٹھنے والے اورللہ ہی کے لیے ایک دوسرے کی ملاقات کوآنے والے ہیں۔(سنن نسائی)
اچھے لوگوں سے دوستی رکھنااللہ تعالیٰ کی محبت کاذریعہ ہے ۔حدیث قدسی میں ہے ،اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:میری محبت ان کے لیے ثابت ہوچکی ہے جومیرے لیے ایک دوسرے سے ملتے ہیں اورمیری محبت ا ن لوگوں پرثابت ہوچکی ہے جومیری خاطرایک دوسرے کی مددکرتے ہیں۔(مستدرک حاکم) ۔یہی نہیں بلکہ آپ ﷺ نے فرمایا:قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا، اس وقت اللہ تعالیٰ سات بندوں کواپنے عرش کاسایہ نصیب کریں گے، جس میں سے وہ دوآدمی بھی ہوں گے جواللہ کے لیے ایک دوسرے سے محبت رکھتے اوراللہ ہی کے لیے ایک دوسرے سے جداہوتے ہیں۔(صحیح بخاری)
ایک شخص اپنے ساتھی کی ملاقات کوجارہاتھاتواللہ تعالیٰ نے راستے میں اس کے لیے ایک فرشتہ مقررکیا۔فرشتے نے اس شخص سے پوچھا:کہاں جارہے ہو؟وہ شخص کہنے لگا:اپنے فلاں بھائی (دوست)سے ملنے جارہاہوں ۔فرشتے نے کہا:اس کے پاس کسی کام سے جارہے ہو؟کہا:نہیں۔فرشتہ پھرکہنے لگا:تمہاری اس سے کوئی رشتے داری ہے؟فرشتے کونفی میں جواب ملاتوپھربولا:اس کاتم پرکوئی احسان ہے جوچکانے جارہے ہو؟اس شخص نے پھرنفی کی، اس پروہ فرشتہ پھرپوچھنے لگا:توپھرتم اس کے پاس کیوں جارہے ہو؟وہ شخص کہنے لگا:مجھے اس (دوست)سے اللہ کے لیے محبت ہے ،اس لیے اسے ملنے جارہاہوں۔یہ سن کرفرشتے نے اسے خوشخبری دی کہ : مجھے اللہ تعالیٰ نے تیرے پاس بھیجاہے کہ تجھے اطلاع دوں کہ اللہ وسبحانہ وتعالیٰ تجھ سے محبت کرتے ہیں کہ تُونے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اس شخص سے محبت کی ہے اوراللہ تعالیٰ نے تیرے لیے جنت واجب کردی ہے۔(صحیح مسلم)
دوستی کے حقوق:
(۱)ایک اچھادوست ضرورت کے وقت دوسرے دوست کے کام آتاہے، اس سے ہمدردی کرتاہے ،اپنامال استعمال کرنے سے اسے نہیں روکتا ۔ سیدناابوھریرہ ؓ کے پاس ایک بندہ آکرکہنے لگاکہ میں آپ کواللہ کے لیے بھائی بناناچاہتاہوں۔جناب ابوھریرہؓ نے جواب دیا:بھائی بنانے کاحق جانتے ہو؟اس شخص نے کہاکہ آپ بتادیں۔آپؓ نے فرمایا’’تواپنے درہم ودینار کامجھ سے زیادہ حق دارنہیں ہوسکے گا‘‘۔اس شخص نے کہا:ابھی میں اس درجہ تک نہیں پہنچا،توسیدناابوھریرہؓ نے کہا:پھرتم چلے جائو۔
(۲)اگردوست بیمارہے تواس کی بیمارپرسی کرنی چاہیے ، کسی کام میں مگن ہے تواس کاہاتھ بٹایاجائے، اسے کوئی بات بھول گئی ہے تویاددلائی جائے، ملے توخوش آمدیدکہاجائے، ساتھ بیٹھتے تومجلس میں وسعت پیداکرے اورجب وہ بات کرے تواس کی بات توجہ سے سنے۔
(۳)دوست کے سامنے یاپیٹھ پیچھے اس کے عیوب کاذکرنہ کرے، اس کے رازفاش نہ کرے، اس کے ساتھ نرم رویہ اختیارکرے، گفتگومیں بحث وجدل کااندازنہ اپنائے ، اس سے کسی بھی معاملہ میں عتاب اورناراضگی کااظہارنہ کرے۔
(۴)اپنی زبان کااستعمال دوست کے لیے اسی اندازمیں کرے جس طرح وہ خوداپنے دوست سے توقع رکھتاہے، دوست کونصیحت کرتے ہوئے بات کواتنالمبانہ کرے کہ وہ اکتاجائے ، اسی طرح لوگوں کے سامنے اسے ڈانٹنے اورپندونصائح کرنے سے گریزکرے کیونکہ وہ اس طرح شرمندہ اورآپ سے متنفرہوگا۔امام شافعی ؒ فرماتے ہیں:جواپنے بھائی(دوست) کوپوشیدہ سمجھاتاہے ، وہ اس کی خیرخواہی کررہاہے اوراس کی زینت کاباعث ہے۔اس کے برعکس جولوگوں کے سامنے اپنے دوست کونصیحت کرتاہے ، وہ اپنے دوست کورسواکررہاہے اوراسے معیوب بنارہاہے۔
(۵)دوست کی لغزشوں کومعاف کرے اوربے فائدہ باتوں سے صرف نظرکرے۔اگردوست کسی جرم یاگناہ کامرتکب ہوجائے تواس سے قطع تعلق نہ کرے اورنہ ہی دوستی میں کمی کرے بلکہ اسے سمجھائے ۔کیونکہ اچھادوست اس موتی کی طرح ہوتاہے جوکیچڑمیں گرکربھی قیمتی موتی ہی رہتاہے۔سیدناابودرداء ؓ فرماتے ہیں:تیرا بھائی(دوست) اگربدل جائے اورنیکی کے حال پرنہ رہے تواس وجہ سے اسے چھوڑدینادرست نہیں، کیونکہ اگروہ خراب ہوسکتاہے توپھرٹھیک بھی ہوسکتاہے۔
(۶)دوستی میں وفا، ثابت قدمی اوردوام ضروری ہے ۔اگردوست فوت ہوجائے تودوست کی اولاداوراس کے دوستوں سے اسی طرح حسن سلوک کرناہے جیساوہ اپنے دوست سے کرتاتھا۔رسول اللہﷺ نے ایک بڑھیاکااحترام کیاجوآپﷺ کے پاس آئی، جب آپﷺ سے اس کے متعلق پوچھاگیاتوآپﷺ نے فرمایا:یہ خدیجہ ؓ کے پاس آیاکرتی تھی۔وفاکایہ بھی تقاضاہے کہ دوست کے دشمن سے تعلقات نہ جوڑے جائیں ۔امام شافعی ؒ فرماتے ہیں:تیرادوست جب دشمن کاساتھی بن جائے تویوں سمجھ کہ وہ دونوں تیری دشمنی میں برابرہیں۔
(۶)دوست کوتکلفات میں نہ ڈالے ، اس لیے کہ یہ دوستی ختم کرنے کاسبب بن جاتے ہیں ۔ایک صالح زاہدکامقولہ ہے کہ:اگرتکلفات ساقط ہوجائیں توالفت اوردوستی میں دوام پیداہوگا۔
(۷)اپنے دوست اوراس کی اولادکے حق میں دعائے خیرکرے ، اس لیے کہ آپﷺ کاارشادمبارک ہے کہ:جب ایک شخص اپنے بھائی(دوست ) کے لیے غائبانہ دعاکرتاہے توفرشتہ کہتاہے تجھے بھی اسی طرح (اجر)ملے۔(صحیح مسلم)

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے ،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.